logo logo
AI Search

الپاکا کی قربانی کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

الپاکا (Alpaca)  جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ الپاکا (Alpaca)  جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الپاکا (Alpaca) جانور کی قربانی جائز نہیں۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے قربانی کے جانوروں کو تین بنیادی اجناس میں منحصر فرمایا ہے:

(1) غنم یعنی بکری (اپنی تمام انواع کے ساتھ)،

(2) بقر یعنی گائے (اپنی تمام انواع کے ساتھ)، اور

(3) ابل یعنی اونٹ (اپنی تمام انواع کے ساتھ)۔ ان تینوں اجناس کے جانوروں کی قربانی شرعاً جائز ہے، البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ جانور پالتو (اہلی) ہو؛ وحشی اور جنگلی جانور کی قربانی شرعاً جائز نہیں، اگرچہ وہ گائے، بکری یا اونٹ ہی کی جنس سے تعلق رکھتا ہو۔

اب غور طلب معاملہ یہ ہے کہ الپاکا(Alpaca)  کا شمار مذکورہ تین اجناس میں سے کس جنس میں ہوتا ہے، اور اس کی قربانی شرعاً درست ہے یا نہیں؟ مختلف ویب سائٹس کے ذریعے لی جانے والی معلومات کے مطابق الپاکا(Alpaca)  ایک پالتو جانور ہے۔ اس کی گردن اور ٹانگیں کچھ لمبی، سر چھوٹا، کان نوکیلے اور پورا جسم نہایت نرم اورگھنی اون سے ڈھکا ہوتا ہے، جو مختلف رنگوں میں پائی جاتی ہے۔ الپاکا کی دو معروف اقسام ہیں: حواکایا(Huacaya)  اور سوری (Suri)۔ ان میں حواکایا کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور اس کی اون گھنی اور گھنگریالی ہوتی ہے، جبکہ سوری نسبتاً کم پائے جاتے ہیں اور ان کی اون لمبی، سیدھی اور ریشمی لٹوں کی صورت میں نیچے لٹکتی ہے۔ انٹرنیٹ پر یہ تصاویر دیکھی جاسکتی ہیں۔

الپاکا کی دونوں اقسام کو جدید حیوانی درجہ بندی(Zoological Classification)  کے مطابق اونٹ کے خاندان (Camelidae) سے شمار کیا گیا ہے ۔یونہی قد، وزن اور خصوصاً اون کے اعتبار سے اس کی بھیڑ سے کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ الپاکا نہ اونٹ ہے اور نہ بھیڑ، کیونکہ محض کسی جانور کا دوسرے جانور سے ظاہری مشابہ ہونا، یا کسی وسیع حیوانی خاندان(Family)  میں مشترک ہونا، اسے اسی جانور کی جنس(Genus)  میں داخل نہیں کر دیتا، بلکہ اس کے لیے اس جانور کی جنس سے تعلق رکھنا ضروری ہوتا ہے۔اگر دو جانور ایک ہی جنس(Genus)  سے تعلق رکھتے ہوں تو اگرچہ ان کی انواع (Species)  مختلف ہوں، تب بھی شرعی اعتبار سے انہیں ایک ہی جنس شمار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بختی اونٹ اور عربی اونٹ نوع کے اعتبار سے مختلف ہیں، یہاں تک کہ بختی اونٹ کی ایک کے بجائے دو کوہانیں ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود فقہائے کرام نے زکوٰۃ کے باب میں بختی اونٹ کو بھی عربی اونٹ کے ساتھ شامل کرکے اسے اونٹ ہی کی جنس قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ عربی لغت میں لفظ "اِبل" دونوں اقسام کو شامل ہے۔اس سے واضح ہوا کہ شرعی احکام میں اصل اعتبار حیوانی خاندان(Family)  کا نہیں، بلکہ جنس(Genus)  کا ہے، اور اس جنس کا ثبوت لغت، عرف اور نصوصِ شرعیہ سے ہوتا ہے، نہ کہ محض اس بات سے کہ دو جانور ایک ہی بڑے حیوانی خاندان میں شامل ہیں۔

خاندان (Family) اور جنس (Genus) میں فرق:

حیوانی درجہ بندی میں خاندان(Family)ایک وسیع درجہ ہوتا ہے، جس کے تحت متعدد اجناس (Genera) شامل ہوتی ہیں۔ ایک ہی خاندان میں شامل مختلف اجناس کے درمیان بعض بنیادی اور مشترک خصوصیات ضرور پائی جاتی ہیں، اسی وجہ سے انہیں ایک ہی خاندان میں رکھا جاتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ سب ایک ہی جنس (Genus) سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس کے برعکس جنس(Genus)  خاندان سے خاص درجہ ہے، جس کے تحت باہم قریبی انواع (Species) شامل ہوتی ہیں۔ لہذا دو جانوروں کا ایک ہی خاندان میں شامل ہونا، ان کے ایک ہی جنس ہونے کی دلیل نہیں بنتا۔مثلاً Felidae (بلیوں کے خاندان) میں Panthera  (شیر، چیتا، جیگوار، تیندوا) اور Felis (گھریلو بلی) دو الگ الگ اجناس ہیں۔ اگرچہ یہ سب ایک ہی خاندان میں شامل ہیں، لیکن شیر اور گھریلو بلی کو کوئی ایک ہی جنس قرار نہیں دیتا۔ اسی طرح Canidae (کتوں کے خاندان) میں Canis(کتا، بھیڑیا، گیدڑ) اور Vulpes (لومڑی) الگ الگ اجناس ہیں۔ ایک ہی خاندان میں شامل ہونے کے باوجود کتا اور لومڑی ایک جنس شمار نہیں ہوتے۔ بالکل اسی طرح Camelidae(اونٹ کے خاندان) میں حقیقی اونٹ (True Camels) اور الپاکا دونوں شامل ہیں، لیکن دونوں ایک ہی جنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ لہذا محضCamelidae  خاندان میں شامل ہونے کی وجہ سے الپاکا کو اونٹ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے جنس(Genus)  کا اتحاد ضروری ہے، جو یہاں موجود نہیں۔

الپاکا لغت، عرف اور شرعی احکام کے اعتبار سے نہ اونٹ ہے اور نہ بھیڑ:

الپاکا پر عربی لغت میں اِبل (اونٹ) کا اطلاق ثابت نہیں۔ لغت اورفقہی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’اِبل‘‘ کا لفظ عربی اور بختی اونٹ دونوں کو شامل ہے، جبکہ الپاکا ان میں سے کسی نوع کا فرد نہیں۔ عرفِ عام میں بھی الپاکا کو اونٹ نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح بھیڑ کو عربی میں ’’ضأن‘‘ کہا جاتا ہے اور اس پر ’’غنم‘‘ اسمِ جنس کا اطلاق ہوتا ہے۔ عربی لغت میں الپاکا پر نہ ضأن کا اطلاق ثابت ہے اور نہ عرفِ عام میں اُسے بھیڑ کہا جاتا ہے۔ جب الپاکا ضأن نہیں، تو اس پر غنم کا اطلاق بھی درست نہیں، کیونکہ غنم کی صرف دو ہی انواع ہیں: ضأن (بھیڑ) اور معز (بکری)، جبکہ الپاکا ان دونوں سے الگ ایک جانور ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ الپاکا پر نہ تو لغت میں اِبل، ضأن یا غنم کا اطلاق ثابت ہے، نہ عرفِ عام میں اسے اونٹ یا بھیڑ کہا جاتا ہے، اور نہ فقہی اعتبار سے اسے ان کی انواع میں شمار کیا گیا ہے۔ نیز الپاکا جانور کا بقر (گائے) کی جنس میں داخل نہ ہونا بھی واضح ہے، لہذا الپاکا شریعتِ مطہرہ کی طرف سے قربانی کے لیے مقرر کردہ تین اجناس ابل (اونٹ)، بقر (گائے) اور غنم (بھیڑ، بکری) میں سے کسی بھی جنس میں شامل نہیں۔

زولوجیکل (سائنسی حیاتیاتی) کے اعتبار سے بھی الپاکا اونٹ کی جنس سے نہیں:

الپاکا کا اونٹ کی جنس سے تعلق نہ ہونا جدید حیوانی درجہ بندی(Zoological Classification)  سے بھی ثابت ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ موجودہ حیوانی درجہ بندی کے مطابق Camelidae خاندان کے تحتCamelini  اور  Laminiدوقبائل بیان کیے جاتے ہیں۔  Cameliniکے تحت Camelus جنس ہے، جس میں قدیم دنیا کے اونٹ (Old World camelids) شامل ہیں اور انہی کو حقیقی اونٹ(True Camels)  کہا جاتا ہے۔ ان میںCamelus dromedarius  ایک کوہان والا اونٹ )،Camelus bactrianus(دو کوہان والا اونٹ) اورCamelus bactrianus ferus (جنگلی دو کوہان والا اونٹ) شامل ہیں۔ جبکہ Lamini کے تحت Lama اور Vicugna دو الگ اجناس تسلیم کی جاتی ہیں۔ Lama جنس میں Lama glama (Llama) اور Lama guanicoe (Guanaco) شامل ہیں، جبکہ Vicugna جنس میں Vicugna pacos (Alpaca) اور Vicugna vicugna (Vicuña)  شامل ہیں۔واضح رہے کہ الپاکا کا سائنسی نام سابقہ طور پر Lama pacos تھا، اور سابقہ درجہ بندی میں الپاکا سمیت لاما، گواناکو اور وِکونا، ان چاروں جانوروں ہی کو Lama جنس کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ جبکہ موجودہ بعض معتبر taxonomic databases میں الپاکا کو Vicugna pacos کے نام سے Vicugna جنس میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم دونوں صورتوں میں الپاکا کو Camelus جنس میں شامل نہیں ،لہذا اس کا حقیقی اونٹوں کی جنس سے مختلف ہونا بہرحال ثابت ہے۔اس کی تفصیل نیچے دئیے گئے چارٹ میں بھی ملاحظہ کریں۔

درج ذیل چارٹ میں Lamini کے تحت دو اجناس بنائی گئی ہیں،اور الپاکا کو وکونا جنس کے تحت شامل کیا ہے۔

 الپاکا کی قربانی کرنا کیسا؟ - دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی

 

الپاکا اور اونٹ میں ظاہری نمایاں فرق:

ظاہری اعتبار سے بھی الپاکا اور حقیقی اونٹ میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ حقیقی اونٹ(True Camel)  وہ ہوتا ہے جس کی پشت پر چربی سے بھرا ہوا ایک یا دو ابھار (Humps) ہوتے ہیں، جنہیں عربی میں سِنام اور اردو میں کوہان کہا جاتا ہے، اور یہی اس کی نمایاں شناخت ہے۔ اس کے برعکس الپاکا مکمل طور پر بے کوہان جانور ہے۔

مذکورہ تمام تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ الپاکا اگرچہ Camelidae (اونٹ کے خاندان) میں شامل ہے، لیکن نہ وہ حقیقی اونٹ کی جنس میں داخل ہے، نہ گائے کی جنس میں، اور نہ ہی بکری کی جنس میں۔ جب الپاکا شریعتِ مطہرہ کی مقرر کردہ قربانی کے تین اجناس، یعنی اونٹ، گائے اور بکری، میں سے کسی جنس میں شامل نہیں، تو اس کی قربانی بھی شرعاً جائز نہیں۔واضح رہے کہ یہ حکم صرف الپاکا کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ Lamini قبیلے میں شامل دیگر جانوروں کو بھی شامل ہے،یعنی الپاکا (Alpaca) سمیت لاما (Llama)، گواناکو (Guanaco) اور وِکونا (Vicuña)میں سے کسی کی بھی قربانی جائز نہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اونٹ کی جنس سے نہیں۔

جزئیات ملاحظہ ہوں:

ارشاد باری تعالی ہے: ’’﴿وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور معلوم دنوں میں اللہ کے نام کو یاد کریں اس بات پر کہ اللہ نے انہیں بے زبان مویشیوں سے رزق دیا۔“ (پارہ 17، سورۃالحج: 28)

اس آیت کی تفسیر میں امام حسین بن مسعود بغوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’﴿على ما رزقهم من بهيمة الانعام﴾ يعني: الهدايا، و الضحايا، تكون من النعم، و هي الإبل و البقر و الغنم‘‘ ترجمہ: اس بات پر کہ اللہ نے انہیں بے زبان مویشیوں سے رزق دیا، یعنی ہدی اور قربانی صرف ان جانوروں سے درست ہے جو نَعَم میں شمار ہوتے ہیں، اور نَعَم سے مراد اونٹ، گائے اور بکری ہے۔ (تفسیر بغوی، جلد 5، صفحہ 380، 379،دار طيبة، الریاض)

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ’’ لمعات التنقیح شرح مشکوۃ المصابیح‘‘ میں فرماتے ہیں:’’اعلم أن الأضحية لا يجوز إلا من الإبل و البقر و الغنم، و لم يرو من النبي صلى اللہ عليه و سلم و لا من أصحابه رضي اللہ عنهم التضحية من غير هذه الأقسام الثلاثة من الذبائح‘‘ ترجمہ: جان لو کہ قربانی صرف اونٹ، گائے اور بکری ہی کی جائز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ان تین قسم کے جانوروں کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی کرنا منقول نہیں۔ (لمعات التنقیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 3، باب فی الاضحیۃ، صفحہ 573، دار النوادر، دمشق)

مبسوط سرخسی میں ہے: ’’أن الأضحية عرفت قربة بالشرع، و إنما ورد الشرع بها من الأنعام‘‘ ترجمہ: قربانی کا قربت (عبادت) ہونا شریعت سے جانا گیا ہے اور شریعت انعام کی قربانی کے ساتھ ہی وارد ہے۔ (مبسوط سرخسی، جلد 12، باب الاضحیۃ، صفحہ 17، دار المعرفۃ، بیروت)

ہدایہ شریف میں ہے: ’’قال: (و الا ضحیۃ من الابل و البقر و الغنم)، لانھا عرفت شرعا و لم تنقل التضحیۃ بغیرھا من النبی علیہ الصلوۃ و السلام و لا من الصحابۃ رضی اللہ عنھم‘‘ ترجمہ:فرمايا: اُضحیہ (یعنی قربانی کے جانوروں میں سے) اونٹ، گائے اور بکری ہیں، کیونکہ شرعاً یہی معروف ہیں اور ان جانوروں کے علاوہ کسی کی قربانی نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔ (ھدایہ، جلد 4، كتاب الاضحية، صفحہ 359، داراحياء التراث العربي، بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے: ’’أما جنسه فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة الغنم أو الإبل أو البقر، و يدخل في كل جنس نوعه و الذكر و الأنثى منه و الخصي و الفحل لانطلاق اسم الجنس على ذلك، و المعز نوع من الغنم، و الجاموس نوع من البقر بدليل أنه يضم ذلك إلى الغنم و البقر في باب الزكاة و لا يجوز في الأضاحي شيء من الوحش؛ لأن وجوبها عرف بالشرع و الشرع لم يرد بالإيجاب إلا في المستأنس‘‘ ترجمہ: قربانی کے جانور کی جنس، تو ضروری ہے کہ وہ تین اجناس میں سے (کسی جنس سے) ہو: غنم، یا اونٹ یا گائے۔ اور ہر جنس کے تحت اس کی تمام اقسام شامل ہوں گی، اور نر، مادہ، خصی اور غیر خصی سب داخل ہیں، کیونکہ ان سب پر اس جنس کا نام صادق آتا ہے۔بکری غنم کی ایک قسم ہے، اور بھینس،گائے کی ایک قسم ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ زکوٰۃ کے باب میں بکری کو غنم اور بھینس کو بقر ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔اور قربانی میں کسی بھی جنگلی جانور کی قربانی جائز نہیں؛ کیونکہ قربانی کا وجوب شریعت سے ثابت ہے، اور شریعت نے اس کا حکم صرف پالتو جانوروں کے بارے میں دیا ہے۔ (بدائع الصنائع،جلد5،صفحہ69،دارالکتب العلمیہ،بیروت)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں: (1) اونٹ، (2) گائے، (3) بکری، ہر قسم میں اس کی جتنی نوعیں ہیں، سب داخل ہیں، نر اور مادہ، خصی اور غیرِ خصی، سب کا ایک حکم ہے یعنی سب کی قربانی ہوسکتی ہے۔ بھینس گائے میں شمار ہے، اس کی بھی قربانی ہو سکتی ہے، بھیڑ اور دنبہ، بکری میں داخل ہیں، ان کی بھی قربانی ہو سکتی ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 339، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اونٹ کس طرح کا جانور ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ ’’حیات الحیوان الکبری‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’و الإبل من الحيوانات العجيبة و إن كان عجبها سقط من أعين الناس لكثرة رؤيتهم لها، و هو أنها حيوان عظيم الجسم، سريع الانقياد، ينهض بالحمل الثقيل، و يبرك به، و تأخذ زمامه فأرة فتذهب به إلى حيث شاءت، و يتخذ على ظهره بيت يقعد الإنسان فيه، مع مأكوله و مشروبه و ملبوسه و ظروفه و وسائده، كأنه في بيته ويتخذ للبيت سقف و هو يمشي بكل هذه‘‘ ترجمہ: اونٹ عجیب (یعنی اپنی خلقت و صفات کے اعتبار سےتعجب خیز) جانوروں میں سے ہے، اگرچہ لوگوں کی نگاہوں میں اس کا یہ تعجب اس لیے کم ہو گیا ہے کہ وہ اسے کثرت سے دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ بڑا جسم رکھنے والا، جلد فرمانبردار ہو جانے والا جانور ہے۔ بھاری سے بھاری بوجھ کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہےاور اسی بوجھ سمیت بیٹھ جاتا ہے۔ اور ایک چھوٹی لڑکی بھی اس کی نکیل پکڑ کر اسے جہاں چاہے لے جا سکتی ہے۔ اس کی پیٹھ پر ایک ایسا گھر (کجاوہ یا محمل) بنایا جاتا ہے جس میں انسان اپنے کھانے، پینے، لباس، برتنوں اور تکیوں سمیت بیٹھتا ہے، گویا وہ اپنے ہی گھر میں ہے۔ اور اس گھر کے لیے ایک چھت بھی بنائی جاتی ہے۔ اور وہ ان تمام چیزوں کو اٹھائے ہوئے چلتا رہتا ہے۔ (حیاۃ الحیوان الکبری، جلد 1، باب الھمزۃ، الابل، صفحہ 27، دار الكتب العلمية، بيروت)

لغت کے اعتبار سے ابل کا لفظ عربی اونٹ کے ساتھ بختی اونٹ کو بھی شامل ہے، اور الپاکا اس میں سے کسی نوع کا فرد نہیں، چنانچہ الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: ’’(و الإبل تتناول البخت و العراب) لأن الاسم ينتظمها لغة‘‘ ترجمہ: اور اونٹ بختی اور عربی، دونوں قسم کے اونٹوں کو شامل ہے، کیونکہ لغت کے اعتبار سے یہ نام دونوں کو شامل ہوتا ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 1، صفحہ 105، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بحر الرائق میں ہے: ’’(قوله و البخت كالعراب) لأن اسم الإبل يتناولهما و اختلافهما في النوع لا يخرجهما من الجنس‘‘ ترجمہ: مصنف کا قول: بختی اونٹ، عراب کی طرح ہے، کیونکہ ابل کا لفظ ان دونوں کو شامل ہوتا ہے۔ اور نوع میں ان دونوں کا اختلاف، ان دونوں کو جنس سے خارج نہیں کرے گا۔ (بحر الرائق، جلد 2، صفحہ 231،دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ”(الشرط الاول) و ھو متفق علیہ بین المذاھب ان تکون من الانعام و ھی الابل عرابا کانت أو بخاتی‘‘ ترجمہ: قربانی کی پہلی شرط وہ ہے جو تمام مذاہب میں متفق علیہ ہے وہ یہ ہے کہ قربانی کا جانور اَنعام (چوپایہ) کی قسم سے ہو اور وہ اونٹ ہے چاہے عربی ہو یا بخاتی۔ (موسوعۃ فقھیہ کویتیہ، جلد 5، صفحہ 81، دار السلاسل، کویت)

موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ’’فالإبل نوعان: العراب وهي الإبل العربية، وهي ذات سنام واحد، و البخاتي (جمع بختية) و هي إبل العجم و الترك، و هي ذات سنامين‘‘ ترجمہ: اونٹ دو قسم کے ہوتے ہیں: عِراب: اور وه عربی اونٹ ہیں، اور یہ ایک کوہان والے ہوتے ہیں۔ بَخاتی (بختیۃ کی جمع): یعنی عجمی اور ترکی اونٹ، اور یہ دو کوہان والے ہوتے ہیں۔ (موسوعہ فقهیہ کویتیہ، جلد 23، صفحہ 259، دار الصفوة مصر)

بھیڑ کو عربی میں ’’ضأن‘‘ کہتے ہیں اور اس پر ’’غنم‘‘ اسمِ جنس کا اطلاق ہوتا ہے،جبکہ الپاکا پر لغت اور عرف میں’’ ضأن‘‘ اور ’’غنم‘‘ کا اطلاق ثابت نہیں، لہذا الپاکا بھیڑنہیں، چنانچہ ’’المصباح المنیر‘‘میں ہے: ’’و الغنم اسم جنس يطلق على الضأن و المعز‘‘ ترجمہ: اور ’’غنم‘‘ اسمِ جنس ہے، جو بھیڑ اور بکری دونوں پر بولا جاتا ہے۔ (المصباح المنیر، جلد 2، صفحہ 454، المكتبة العلمية، بيروت)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے: ’’و الغنم: الضأن و المعز لان الشرع ورد باسم الغنم فيهما واللفظ ينتظمهما لغة‘‘ ترجمہ: غنم سے مراد بھیڑ (ضأن) اور بکری (معز) ہیں، کیونکہ شریعت میں غنم کا لفظ انہی دونوں کے لیے وارد ہوا ہے، اور لغت میں بھی لفظِ غنم انہی دونوں کو شامل ہے۔ (الاختيار لتعلیل المختار، كتاب الزكاة، جلد 1، صفحہ 105، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’اطبق اھل التفسیر و الحدیث والفقہ واللغۃ من العرب والعجم، ان الغنم نوعان، ضان و معز، میش وبُز‘‘ ترجمہ: عرب و عجم کے اہل تفسیر و حدیث و فقہ و لغت اس بات پر متفق ہیں کہ غنم کی دو قسمیں ہیں: ضان اور معز، جس کی تعبیر فارسی میں میش اور بُز سے کی جاتی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 406، 407، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

غنم میں معز (بکری) اور ضأن (بھیڑ) داخل ہیں، ان دو کے علاوہ کوئی تیسری نوع داخل نہیں، چنانچہ فتاوی رضویہ میں ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’بالیقین معلوم کہ ضان وہی چیز ہے جسے فارسی میں میش، اردو میں بھیڑ، اور اسی کی ایک صنف (قسم) کو دنبہ کہتے ہیں، عرب دونوں (یعنی) معز ضان کے سوا (علاوہ، غنم میں کسی تیسرے کو) نہیں جانتے، نہ یہاں تیسری نوع ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 437، 436، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

الپاکا سے متعلق ایک ویب سائٹ پر ہے:

‘‘The alpaca is a domesticated animal native to the Andean regions of South America, particularly in countries like Peru, Bolivia, Ecuador, and Chile. It belongs to the camelid family, along with the llama, vicuña, and guanaco…. There are two main types of alpacas: Huacaya: This is the most common type. Huacaya alpacas have dense, fluffy wool with small crimped curls, making it ideal for soft, voluminous garments. Suri: Less common but highly prized in luxury fashion, Suri alpacas have silky, long wool that falls in shiny, flowing locks, giving them an elegant and refined appearance. alpaca suri’’

ترجمہ:الپاکا ایک پالتو جانور ہے جو جنوبی امریکہ کے اینڈیز کے پہاڑی علاقوں کا مقامی جانور ہے، خاص طور پر پیرو، بولیویا، ایکواڈور اور چلی جیسے ممالک میں پایا جاتا ہے۔ یہ اونٹوں کے خاندان (camelid family) سے تعلق رکھتا ہے، جس میں لاما، ویکونا اور گواناکو بھی شامل ہیں۔ ۔ ۔ الپاکا کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں: حواکایا(Huacaya) : یہ سب سے عام قسم ہے۔ حواکا یا الپاکا کی اون گھنی اور پھولی ہوئی ہوتی ہے جس میں چھوٹے چھوٹے گھنگریالے بل ہوتے ہیں، اس لیے یہ نرم اور موٹے کپڑوں کے لیے بہت مناسب ہوتی ہے۔ سوری(Suri) : یہ نسبتاً کم پائی جاتی ہے لیکن فیشن کی دنیا میں بہت قیمتی سمجھی جاتی ہے۔ سوری الپاکا کی اون ریشمی، لمبی اور چمکدار لٹوں کی شکل میں نیچے لٹکتی ہے، جس سے یہ بہت خوبصورت اور نفیس نظر آتا ہے۔

’’نیشنل زو‘‘ نامی ویب سائٹ میں ہے:

‘‘They are slender-bodied animals with long legs and necks, small heads and large, pointed ears. Alpacas are covered in a soft fleece and have soft, padded feet’’

ترجمہ: الپاکا کا جسم دبلا پتلا، ٹانگیں اور گردن لمبی، سر چھوٹا اور کان بڑے، نوکیلے ہوتے ہیں۔ اس کا پورا جسم نرم اور گھنی اون سے ڈھکا ہوتا ہے، جبکہ اس کے پاؤں نرم گدّی دار (padded) ہوتے ہیں۔ اس کے پاؤں میں عام سم دار جانوروں کی طرح سخت سم نہیں ہوتے، بلکہ نرم تلوے اور دو ناخن ہوتے ہیں۔

ایک ویب سائٹ سے فیملی اور جنس کا فرق ملاحظہ ہو:

‘‘A family is a taxonomic group. It is an ordered class that contains at least one related genus. Every one of the genera of a family has a few normal highlights or corresponding characters. They are distinguishable from genera of a connected family by significant and trademark contrasts in both vegetative and conceptive elements. For example, the genera of felines (Fells) and panthers (Panthera) are remembered for the Family Felidae. The individuals from Family Felidae are very particular from those of Family Canidae (canines, foxes, wolves).’’

ترجمہ: خاندان(Family)حیاتیاتی درجہ بندی کا ایک درجہ ہے۔ اس کے تحت ایک یا ایک سے زیادہ آپس میں متعلق اجناس (Genera) شامل ہوتی ہیں۔ ایک ہی خاندان کی تمام اجناس میں کچھ بنیادی اور مشترک خصوصیات پائی جاتی ہیں، لیکن وہ دوسرے خاندانوں کی اجناس سے نمایاں فرق رکھتی ہیں۔مثال کے طور پر بلی(Felis)  اور شیر وغیرہ (Panthera)  کی اجناس Felidae (بلی کے خاندان) میں شامل ہیں، جبکہ کتے، لومڑیاں اور بھیڑیے Canidae (کتے کے خاندان) میں شامل ہیں۔ Felidae کے جانور اپنی خصوصیات کے لحاظ سے Canidae کے جانوروں سے واضح طور پر مختلف ہوتے ہیں۔

‘‘Genus is a taxonomic group. It is a collection of related species that share a number of associated characteristics. Correlated traits are comparable or shared characteristics that are used to distinguish a taxon from another below the level of species. … Genus is a group of related species, which has more character in common in comparison to species of another genus.’’

ترجمہ:جنس(Genus) حیاتیاتی درجہ بندی (Taxonomy) کا ایک درجہ ہے۔ یہ ایسی قریبی انواع (Species) کا مجموعہ ہوتا ہے جن میں بہت سی مشترک خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہی مشترک خصوصیات انہیں دوسری اجناس کی انواع سے ممتاز کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ دوسرے لفظوں میں، جنس (Genus) ایسی قریبی انواع کا گروہ ہے جن میں دوسری اجناس کی انواع کے مقابلے میں زیادہ مشترک خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

"Pathology of Wildlife and Zoo Animals"  نامی کتاب میں ہے:

‘‘The lineage of New World camelids (NW) has been more controversial, though most now agree it consists of the genus Lama and a separate genus Vicugna. The llama belongs to Lama glama and the guanaco belongs to L. guanicoe. The alpaca and vicuña belong to Vicugna pacos and V. vicugna’’

ترجمہ: نئی دنیا کے اونٹوں (New World camelids) کی ارتقائی نسبت اور درجہ بندی کے بارے میں پہلے کافی اختلاف پایا جاتا تھا، تاہم اب زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان میں Lama نامی ایک جنس(Genus)  اور اس سے الگ Vicugna  نامی دوسری جنس شامل ہے۔ لاما(Llama)  کا سائنسی نام Lama glama اور گواناکو(Guanaco)  کا سائنسی نام Lama guanicoe ہے، جبکہ الپاکا(Alpaca)  اور وِکونا(Vicuña)  کے سائنسی نام بالترتیب Vicugna pacos  اور Vicugna vicugna ہیں۔

(Dalen Agnew, “Camelidae,” Chapter 7 in: Pathology of Wildlife and Zoo Animals, Academic Press.)

الپاکا کےموجودہ اور سابقہ سائنسی نام سے متعلق امریکی ادارے National Center for Biotechnology Information (NCBI) کی ویب سائٹ پر ہے:

الپاکا کی قربانی کرنا کیسا؟ - دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی 
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1280
تاریخ اجراء: 12 صفر المظفر 1448ھ / 27 جولائی 2026ء