logo logo
AI Search

گھر کے جانور پر قربانی کی نیت کی اور وہ مر گیا تو حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پالے ہوئے جانور پر قربانی کی نیت کی اور وہ مر گیا تو قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

شرعی فقیر نے گھر کے پالے ہوئے جانور پر قربانی کی نیت کی پھر جانور مر جائے تو کیا حکم ہے ؟

جواب

کسی شخص نے اگر جانور قربانی کی نیت سے نہ خریدا ہو، بلکہ کسی اور نیت سے خریدا ہو اور بعد میں اس جانور پر قربانی کی نیت کی ہو، تو فقط اس پر قربانی کی نیت کرلینے سے اسی کی قربانی واجب نہیں ہو جاتی، برابر ہے کہ یہ شخص فقیر ہو یا غنی ہو۔ نیز شرعی فقیر پر اگر قربانی واجب بھی ہو اور اس کا جانور مرجائے تو اس پر دوسرے جانور کی قربانی کرنا واجب نہیں۔

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: فقیر اگر بہ نیت قربانی خریدے، اس پر خاص اس جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ اگر جانور اس کی ملک میں تھا اور قربانی کی نیت کرلی یا خریدا، مگر خریدتے وقت نیت قربانی نہ تھی، تو اس پروجوب نہ ہوگا ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ : 451، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اسی طرح صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی، بعد میں نیت کر لی، تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (بھار شریعت، جلد 3، صفحہ : 332، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ہدایہ شریف میں ہے: ’’قالوا إذا ماتت المشتراة للتضحية على الموسر مكانها أخرى ولا شيء على الفقير“ یعنی فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب قربانی کے لیے خریدی گئی بکری مر گئی ہو، تو خوشحال، غنی پر دوسری بکری کرنا لازم ہے، جبکہ فقیر پر کچھ لازم نہیں ۔‘‘ (الھدایۃ، جلد 4، صفحہ : 407، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-038

تاریخ اجراء: 08 ربیع الثانی 1448ھ/21 ستمبر 2026ء