گائے کی قربانی میں شریک افراد کی نیت سے متعلق اہم مسئلہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قربانی میں ایک حصہ دار نے گوشت کی نیت کی، تو بقیہ کی قربانی کیوں نہیں ہوتی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گائے کی قربانی میں اگر کسی شریک کی نیت گوشت کا حصول ہو، تو کسی کی قربانی نہیں ہوتی؟ پوچھنا یہ ہے کہ بقیہ کی قربانی کیوں نہیں ہوتی؟ اس میں ان کا کیا قصور ہے؟
جواب
قربانی کرنا باعث اجر و ثواب اور ایک عظیم عبادت ہے۔ اسلام سے پہلے اور بعض لوگ اب بھی اللہ کے علاوہ بتوں کا قرب حاصل کرنے کے لیے بتوں کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں مگر اسلام نے اس عمل کو صرف اللہ عزوجل کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے خاص کر دیا، اسی لئے دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ اس قربانی کی عبادت والے عمل میں بھی یہ نہایت ضروری ہے کہ نیت ایسی ہو جس میں اللہ تعالیٰ سے تقرب حاصل کرنا مقصود ہو۔ فقہائے کرام نے تقرب کی مختلف صورتیں ذکر کی ہیں، مثلاً: عید کی واجب قربانی کی نیت، نذر کی قربانی کی نیت، عقیقہ کی نیت وغیرہ۔
قربانی کی عبادت چونکہ مخصوص جانور کا خون بہانے یعنی اس کو ذبح کرنے سے ادا ہوتی ہے، اور بڑے جانور میں شریعت کی طرف سے یہ رخصت دی گئی ہے کہ ایک بڑے جانور کو ذبح کرنے میں سات آدمی اپنی اپنی قربت کی نیت کر سکتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جب جانور کو ذبح کیا جائے گا، تو ذبح کرنے میں تجزی یعنی تقسیم نہیں ہو سکتی، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس خون بہانے کے الگ الگ سات حصے کیے جائیں اور ہر حصے کو سات آدمیوں کی قربت کے مقابلے میں شمار کیا جائے، بلکہ ایک ہی مرتبہ کا خون بہانا، ان سب سات آدمیوں کے قربت کی ادائیگی کا فائدہ دے گا، اب اگر ان سات آدمیوں میں سے چند کی نیت قربت کی ہو اور چند کی نیت قربت کی نہ ہو، تو اس خون بہانے کو قربت اور غیر قربت دونوں کے لیے تو شمار کر نہیں سکتے، کیونکہ خون بہانا ایک شے ہے اور نیتیں دو طرح کی ہیں۔ لہذا ایسی صورت میں اس خون بہانے کو غیر قربت والی نیت میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ قربت والی نیت عبادت ہے اور عبادت میں احتیاط کے پیش نظر کسی دوسری چیز کی ملاوٹ نہیں کی جا سکتی۔ اسی لیے فقہاء نے فرمایا کہ سات شرکاء میں سے کسی ایک کی نیت بھی قربت کے علاوہ گوشت حاصل کرنے کی ہوئی، تو قربانی کی عبادت کسی کی بھی ادا نہیں ہوگی کہ اس خون بہانے میں ایک نیت غیر قربت والی ہے۔
رہی یہ بات کہ اس میں ہمارا قصور کیا ہے؟ تو اس کے لیے پہلی عرض تو یہ ہے کہ ہمیں جو احکام شریعت نے بتائے ہیں، ان کو مِن وعن ماننا چاہیے، اس میں بطور اعتراض کیوں اور کیا وغیرہ نہیں کہنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ جب ہم کسی بھی اہم دنیاوی امر کو ادا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اس کی ساری جانچ پڑتال کرتے ہیں، اس کے فائدے، نقصانات کو مدنظر رکھتے ہیں، جب ہر طرح سے مطمئن ہو جاتے ہیں، تب جا کر اس دنیاوی کام کو کرتے ہیں، تو اگر یہی احتیاط قربانی جیسی عظیم عبادت ادا کرنے میں بھی کی جائے، تو ایسے قصور سامنے نہیں آئیں گے۔ جب آپ بڑے جانور میں کسی کو شریک کر رہے ہیں، تو اس سے اتنا پوچھنے میں کیا حرج ہے کہ وہ حصہ کس لیے شامل کر رہا ہے؟ جب اس سے نہیں پوچھا، بلاسوچے سمجھے کسی کو بھی شامل کر لیا، تو قصور تو ہوا کہ آپ نے لاپرواہی برتی۔
قربانی کی عبادت خاص اللہ کے لیے ہو، اس کے متعلق اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ﴾ ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘ (پارہ 30، سورۃ الکوثر، آیت2)
اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے محی السنۃ ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: ”إن أناسا كانوا يصلون لغير اللہ وينحرون لغير اللہ فأمر اللہ نبيه صلى اللہ عليه وسلم أن يصلي وينحر لله عز وجل“ ترجمہ: بے شک کچھ لوگ غیر اللہ کے لئے نماز پڑھتے اور قربانیاں کرتے تھے، تو اللہ پاک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ نماز اور قربانی کی عبادتیں اللہ پاک کے لئے کی جائیں۔ (تفسیر بغوی، جلد 8، صفحہ 559، مطبوعہ دار طیبہ)
قربانی کے خون سے متعلق ترمذی شریف میں ہے: ”ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى اللہ من إهراق الدم، إنه ليأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها، وأن الدم ليقع من اللہ بمكان قبل أن يقع من الأرض، فطيبوا بها نفسا“ ترجمہ: قربانی کے دن آدمی کا کوئی عمل اللہ پاک کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا۔ بے شک قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے، لہذا قربانی خوش دلی سے کیا کرو۔ (الجامع الترمذی، حدیث 1493، جلد 4، صفحہ 83، مطبوعہ مصر)
جو قربانی کر رہا ہے، اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ قربانی میں تقرب کی نیت کرے، جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: ”فمنها نية الأضحية لا تجزي الأضحية بدونها؛ لأن الذبح قد يكون للحم وقد يكون للقربة والفعل لا يقع قربة بدون النية“ (قربانی کی شرائط میں سے) ایک شرط قربانی کی نیت بھی ہے۔ جس کی نیت قربانی کی نہ ہو، تو اس کی قربانی نہیں ہو گی، کیونکہ بعض اوقات ذبح گوشت حاصل کرنے کے لئے بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات قربت (یعنی عبادت)کے لئے بھی ہوتا ہے اور ذبح کرنے کا فعل بغیر نیت کے قربت نہیں ہو سکتا۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 71، مطبوعہ بیروت)
جانور کے شرکاء میں سے کسی ایک شریک کی نیت گوشت حاصل کرنا ہو، تو ا س کے متعلق ’’المبسوط للسرخسی‘‘ میں ہے: ”وأما إذا كان مراد أحدهم اللحم فلا يجزئ الباقين عندنا۔۔۔نقول الذي نوى اللحم فكأنه نفى معنى القربة في نصيبه۔۔ وإراقة الدم لا يتجزأ، فإذا اجتمع فيه المانع من الجواز مع المجوز يترجح المانع“ ترجمہ: بہرحال جب جانور کے شرکاء میں سے کسی ایک کا ارادہ گوشت کا حصول ہو، تو بقیہ شرکاء کی طرف سے بھی قربانی درست نہ ہو گی۔۔۔ہم اس کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ جب کسی شریک نے گوشت کی نیت کی، تو گویا کہ اس نے اپنے حصے میں قربت کی نفی کر دی۔۔۔اور خون بہانے میں تجزی ممکن نہیں۔ جب قربانی میں مانعِ جواز (یعنی بعض کا قربت کی نیت نہ کرنا) اور مجوّز (یعنی بعض کا قربت کی نیت کرنا) کا اجتماع ہو گیا، تو ترجیح مانع کو ہو گی (یعنی کسی کی قربانی نہیں ہو گی)۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 4، صفحہ 144، بیروت، ملتقطا)
قربت میں تجزی نہ ہونے کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: ”أن القربة في إراقة الدم وأنها لا تتجزأ؛ لأنها ذبح واحد فإن لم يقع قربة من البعض لا يقع قربة من الباقين ضرورة عدم التجزؤ“ ترجمہ: بے شک قربت خون بہانے میں ہے اور اس میں تجزی نہیں ہوتی، کیونکہ ایک ہی ذبح کرنے کا عمل ایک ہی بار ہوتا ہے، تو اگر بعض کی طرف سے قربت کی نیت نہ ہو، تو بدیہی بات ہے کہ تجزی نہ ہونے کی وجہ سے بقیہ کی طرف سے بھی قربت واقع نہیں ہو گی۔ (بدائع الصنایع، جلد 5، صفحہ 71، بیروت)
مسلمان پر لازم ہے کہ شریعت کے احکامات پر عمل کرے، جیسا کہ فتاوی امجدیہ میں ہے: ”عوام کی توجہ صرف اس طرف ہونی چاہیے کہ احکام شرعیہ کی پابندی کریں، اس بحث میں نہ پڑیں کہ کیوں ہے اور کس لئے ہے؟“ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 100، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری
فتویٰ نمبر: 1963-Gul
تاریخ اجراء: 18 ذو الحجۃ الحرام 1441ھ / 09 اگست 2020ء