میت کی قربانی کا گوشت خود کھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا میت کی قربانی کا گوشت خود کھانا جائز ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ میت کی طرف سے کی گئی قربانی کے گوشت میں سے خود نہیں کھا سکتے۔ شرعی طور پر اس بات کی کیا حقیقت ہے، کیا یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
میت کی طرف سے کی جانے والی قربانی عام طور پر میت کے ایصال ثواب کے لیے ہوتی ہے، اس میں سے قربانی والے کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ خود بھی کھا سکتا ہے، دوسروں کو بھی کھلا سکتاہے، فقراء و اغنیاء میں تقسیم بھی کر سکتا ہے۔ اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر، 4 / 168 - بہار شریعت، 3 / 345)
البتہ اگر میت کی وصیت کے مطابق قربانی کی جائے تو اب فقراء پر ہی اس کو صدقہ کرنا لازم ہے، اس میں سے نہ خود کھا سکتے ہیں، نہ کسی غنی کو کھلا سکتے ہیں۔ (فتاویٰ فیض الرسول، 2 / 444 - بہار شریعت، 3 / 345)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی 2026ء