آسٹریلین گائے کی قربانی کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آسٹریلین گائے کی قربانی کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آجکل مارکیٹ میں آسٹریلین گائے ملتی ہے، اس کی شکل و صورت عام گائے جیسی اور کھانا پینا بھی عام گائے کی طرح ہی ہوتا ہے، اس کی قربانی کرنا کیا جائز ہے؟ جبکہ بعض لوگوں سے سنا ہے کہ اس کی پیدائش کا طریقہ یہ ہے کہ نر خنزیرسے مادہ گائے کومخلوط کروایا جاتا ہے، ان کے اختلاط سے یہ آسٹریلین گائے پیدا ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ عام گائے کی طرح ہی ہوتی ہے اسی طرح پالی جاتی ہے وحشی نہیں ہوتی۔
جواب
سوال میں مذکور آسٹریلین گائے، جس کی شکل و صورت اور کھانا پینا عام گائے کی طرح ہی ہوتا ہے، ایک عام پالتو گائے ہے۔ لہٰذا اس کی قربانی بلا شبہ جائز ہے؛ کیونکہ جن جانوروں کی قربانی شریعتِ اسلامیہ میں جائز ہے، ان میں پالتو گائے بھی شامل ہے، اور آسٹریلین گائے اسی کی ایک قسم ہے۔
سوال میں اس کی پیدائش کے بارے میں جو کہا گیا کہ یہ خنزیر کے اختلاط سے پیدا ہوتی ہے، اوّلًا تو اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ محض ایک مفروضہ ہے۔ جو لوگ اسے پالتے ہیں وہ اس بات کا انکار کرتے ہیں۔ متعدد افراد سے معلومات لینے پر یہی معلوم ہوا کہ یہ گائے کی ایک الگ نسل ہے، دیگر اقسام کی طرح، اور بیل کے ملاپ ہی سے اس کی نسل چلتی ہے۔
ثانیاً، بالفرض اگر یہ بات ثابت بھی ہو جائے کہ یہ نر خنزیر کے نطفے اور مادہ گائے کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، تب بھی اس کا گوشت کھانا، دودھ پینا اور اس کی قربانی کرنا جائز ہی رہے گا؛ کیونکہ جانوروں کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ وہ اپنی ماں کے تابع ہوتے ہیں، یعنی بچے کا حکم وہی ہوتا ہے جو اس کی ماں کا ہوتا ہے۔
چنانچہ ہدایہ اور اس کی شرح بنایہ میں ہے ”و یدخل فی البقر الجاموس؛ لأنہ من جنسہ، و المولود بین الأھلی و الوحشی یتبع الأم (أی الذی ولد بین الحیوانات الأھلی، کالشاۃ مثلا و بین الحیوان الوحشی کالظبی مثلا یتبع أمہ) لأنھا ھی الأصل فی التبعیۃ، حتی إذا نزا الذئب علی الشاۃ یضحی بالولد“ یعنی گائے میں بھینس بھی شامل ہے (یعنی دونوں کی قربانی جائز ہے) کیونکہ یہ بھی گائے کی ہی جنس میں سے ہے۔ اور وہ جانور جو گھریلو اور وحشی جانور کے ملاپ سے پیدا ہو وہ اپنی ماں کے تابع ہے مثال کے طور پربکری جو گھریلو جانور ہے اور ہرن جو کہ وحشی جانور ہے ان سے پیدا ہونے والا بچہ اپنی ماں (یعنی بکری) کے تابع ہوگا کیونکہ تابع ہونے میں ماں ہی اصل ہے حتی کہ اگر بھیڑیے نے بکری سے ملاپ کیا تو اس سے پیدا ہونے والے جانور کی قربانی ہو سکتی ہے۔ (الھدایۃ مع البنایۃ، کتاب التضحیۃ، جلد 12، صفحہ 48، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:”(و الأضحیۃ من الإبل، و البقر، و الغنم) و لا یجوز فیھا شیء من الوحش فإن کان متولدا من الأھلی، و الوحشی فإن المعتبر فی ذلک الأم لأنھا ھی الأصل فی التبعیۃ حتی إذا نزا الذئب علی الشاۃ یضحی بالولد و کذا إذا کانت البقرۃ أحلیۃ نزا علیھا ثور وحشی فإن کان علی العکس لم یجز أن یضحی بالولد“ترجمہ: اور قربانی اونٹ، گائے اور بکری کی ہو سکتی ہے کسی وحشی جانور کی قربانی جائز نہیں ۔ اگر جانور گھریلو اور وحشی جانور کے ملاپ سے پیدا ہو تو اس میں ماں کا اعتبار ہے کیونکہ تابع ہونے میں ماں ہی اصل ہے حتی کہ بھیڑیے نے اگر بکری سے ملاپ کیا تو پیدا ہونے والے بچے کی قربانی ہو سکتی ہے یونہی اگر گھریلو گائے سے وحشی بیل نے ملاپ کیا تو جائز ہے اس کا الٹ ہو تو پھر پیدا ہونے والے بچے کی قربانی جائز نہیں۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الاضحیۃ، جلد 2، صفحہ 189، المطبعۃ الخیریہ)
آسٹریلین گائے کے بارے میں اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی وقار الدین علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: جب ان گایوں کی شکل و صورت گایوں جیسی ہی ہے اور خوراک بھی گایوں جیسی کھاتی ہیں تو صرف کوہان نہ ہونے سے ان کے ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں، صرف افواہ کا اعتبار کر کے کوئی چیز حرام نہیں ٹھہرائی جاسکتی۔ اگر کوئی شخص ثابت کردے کہ فلاں اور فلاں جانور کو باہم ملا کر کے یہ گائے پیدا ہوتی ہے تو اس میں دو صورتیں ہیں اگر نر حرام جانور تھا اور مادہ حلال تو اس کا بچہ حلال ہوگا اور اگر مادہ حرام جانور تھی اور نر حلال تو ان کا بچہ حرام ہوگا یعنی جانوروں میں مادہ کا اعتبار ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ لہٰذا اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اس گائے کی ماں حرام جانور تھی تو گائے حرام ہوگی اور یہ ثابت ہو نہیں سکتا۔ (وقار الفتاوی جلد 1، صفحہ 209، بزم وقارالدین، باب المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0269
تاریخ اجراء: 13 جمادی الاخری 1443ھ / 17 جنوری 2022ء