logo logo
AI Search

تین ٹانگوں والے بکرے کی قربانی کر سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیدائشی تین ٹانگوں والے بکرے کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر بکرے کی پیدائشی تین ٹانگیں ہوں، تو کیا اس کی قربانی جائز ہوجائے گی؟

جواب

جی نہیں! جس جانور کی پیدائشی صرف تین ٹانگیں ہوں، (یعنی اس کی ایک  ٹانگ نہ ہو)،  تو اس کی قربانی نہیں ہوسکتی ،کیونکہ جانور کی چاروں ٹانگیں اس کے اعضائے مقصودہ میں سے ہیں، اور ایک ٹانگ کے نہ ہونے کا مطلب  یہ ہے کہ اس کا  ایک کامل عضو  فوت ہے، جو کہ عیب فاحش ہے، اس لئے ایسے جانور کی قربانی نہیں ہوسکتی ۔

قربانی کے جانور کا بڑے عیب سے سلامت ہونا ضروری ہے، جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے ”وأما الذي يرجع إلى محل التضحية فنوعان: أحدهما: سلامة المحل عن العيوب الفاحشة؛ فلا تجوز العمياء ولا العوراء البين عورها والعرجاء البين عرجها وهي التي لا تقدر تمشي برجلها إلى المنسك“ ترجمہ:  بہر حال وہ شرائط جو قربانی کے جانور کی طرف لوٹتی ہیں، ان کی دو اقسام ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ قربانی کے جانور کا بڑے عیب سے سلامت ہونا ، لہذا اندھے جانور، کانے جانور، جس کا کانا پن ظاہر ہو، لنگڑے جانور، جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، ان کی قربانی جائز نہیں۔ یہاں لنگڑے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر چل کر قربان گاہ تک نہ جاسکے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب التضحیۃ،ج 05، ص 75، دار الكتب العلمية، بيروت)

لنگڑے کی قربانی جائز نہیں، تو جس کی سرے سے ٹانگ ہی نہ ہو، تو اس کی تو بدرجہ اولی قربانی جائز نہیں ہوگی، کہ اس میں لنگڑے کے مقابلے میں بڑا عیب ہے۔

تاتارخانیہ میں ہے "لا یجوز مقطوع احدی القوائم" ترجمہ: جس  جانور کا کوئی  پاؤں کاٹ لیا گیا ہو، اس کی قربانی جائز نہیں۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ ، ج 17،ص 431، مطبوعہ:کوئٹہ)

بہار شریعت میں مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”جس جانور کا ایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو، اوس کی قربانی ناجائز ہے۔ “ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 341، مکتبۃ المدینة، کراچی)

جس کاایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو، اس کی قربانی جائز نہیں، تو جس کی پیدائشی طور پر  ایک ٹانگ نہ ہو، اس کی بدرجہ اولیٰ  قربانی جائز نہیں ہوگی، جیساکہ ایک مسئلے کے تحت  ہدایہ مع بنایہ میں ہے "(والسكاء وهي التي لا أذن لها خلقة لا تجوز) ش: لأنها فائتة العضوين المقصودين (لأن مقطوع أكثر الأذن إذا كان لا يجوز، فعديم الأذن أولى)" ترجمہ: اور سَكَّاء، یعنی وہ جانور جو پیدائشی طور پر کان ہی نہ رکھتا ہو، اس کی قربانی جائز نہیں۔اس لیے کہ اس میں وہ دو  عضو معدوم ہیں جو مقصود اعضاء میں سے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ  جب وہ جانور قربانی میں جائز نہیں جس کے کان کا اکثر حصہ کٹا ہوا ہو، تو جس کے سرے سے کان ہی نہ ہوں وہ بدرجۂ اولیٰ ناجائز ہوگا۔ (الھدایۃ مع البنایۃ ، ج 12،ص 42، دار الکتب العلمیۃ ،بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5042
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 08 مئی 2026ء