Ijtamai Qurbani Ki Raqam Muavineen Ko Ujrat Mein Dena Kaisa ?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اجتماعی قربانی کی رقم معاونین کو اجرت میں دینا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارے یہاں مدرسہ میں اجتماعی قربانی کا اہتمام ہوا جس کے جانور کی خریداری کے لئے ہمارا کراچی سے میرپور خاص جاناہوا کیونکہ وہاں کم قیمت میں جانور مل جاتے ہیں اور اس کام میں ایک دن صَرف ہوا۔ پھر قربانی کے بعد ہم نے اَخراجات کا حساب کیا دیکھا گیا کہ کافی مقدار میں رقم بچ گئی تو جن لوگوں نے جانور لانے اور وزن کر کے گوشت تقسیم کرنے میں معاونت کی اور اپنا وقت دیا اُس باقی ماندہ رقم سے اُن کی اُجرت طے کی اوراُنہی کی اجازت سے وہ رقم مدرسہ میں دے دی جبکہ اُن کی اُجرت پہلے مقرر نہ کی گئی اور قربانی فارم میں ان کو تنخواہیں دینے کا ذکر بھی نہیں تھا۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں؟
سائل: محمد تنویر
جواب
شرعی طورپراجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والے اُن حصے داروں کے وکیل ہوتے ہیں اور وکیل کے پاس جو رقم ہوتی ہے وہ مؤکِّل کی ملکیت میں رہتے ہوئے اُس کے پاس بطورِ امانت ہوتی ہے۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن (متوفی 1340ھ) ارشاد فرماتے ہیں: اور وکیل امین ہے (فتاوی رضویہ، ج 25، ص 446، رضا فاؤندیشن، لاہور)
لہذا صورت مسئولہ میں اجتماعی قربانی کرنے والوں نے بچی ہوئی رقم (جو امانت ہے) سے قربانی کے معاملہ میں معاونت کرنے والوں کی تنخواہیں مقرر کر کے اور اُن کی اجازت سے مدرسہ میں لگا کر امانت کی رقم میں خیانت کی، اُن پر لازم ہے کہ توبہ کے ساتھ ساتھ اتنی رقم بطورِ تاوان ان حصے داروں کو پہنچائیں یا جس مدّ میں وہ استعمال کی اجازت دیں اس میں صَرف کریں۔
اور رہی یہ بات کہ بچی ہوئی رقم سے اجتماعی قربانی میں جانور لانے اور وزن کر کے گوشت تقسیم کرنے میں معاونت کرنے والے کی تنخواہیں مقرر کرنے میں کیا حرج ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں پہلے سے اُن کی اُجرت مقرر نہیں کی گئی لہذا اُن کی یہ محنت بطورِ احسان قرار پائے گی اور احسان کرنے والا اپنے احسان کی اُجرت کا حقدار نہیں ہوتا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Fmd-0059
تاریخ اجراء: 26 ذو الحجۃ 1437ھ / 29 ستمبر 2016ء