Jis Janwar Ke Seengh Kat Diye Uski Qurbani Karna Kaisa?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس جانور کے سینگ کاٹ دیے اس کی قربانی کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک بکرا جس کے پیدائشی سینگ ہیں مگر اس کے سینگ جڑ کے اوپر سے سر کی کھال کے برابر کاٹ دیئے گئے ہیں ان سینگوں کی جڑیں سلامت ہیں، اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ اس میں قربانی کی دیگرتمام شرائط پوری ہیں۔
سائل: محمد شاہد عطاری (گجرات)
جواب
اُس بکرے کی قربانی کرناجائز ہے کیونکہ اس کےسینگ اس طرح سے کاٹے گئے ہیں کہ جڑیں سلامت ہیں البتہ اگرجڑیں سلامت نہ رہتیں تو قربانی نہ ہوتی۔ جب تک زخم نہ بھرتے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-6028-3
تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1438ھ / 28 اکتوبر 2016ء