قربانی کا حصہ بیچ کر بکرا خریدنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بڑے جانور میں قربانی کا ڈالا ہوا حصہ بیچ کر بکرا خریدنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں صاحب نصاب ہوں اور میں نے قربانی کے لیے بڑے جانور میں ایک حصہ ڈالا تھا، جوکہ 30ہزار کا تھا، لیکن پھر میرا ارادہ تبدیل ہو گیا، تو میں نے وہ حصہ کسی اور کو بیچ دیا اور اس رقم میں مزید 35 ہزار شامل کر کے ایک خوبصورت بکرا خرید لیا اور بکرے کا گوشت حصے سے زیادہ ہے، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ میرا ایسا کرنا شرعا جائز تھا یا نہیں؟ کیا اس وجہ سے میں گناہ گار تو نہیں؟ اس کا جواب عطا فرما دیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا بڑے جانور کے حصے کو بیچ کر اس کی جگہ قربانی کے لیے زیادہ قیمت اور زیادہ گوشت والا بکرا خریدنا، جائز تھا، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ صاحبِ نصاب شخص اگر قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اسے تبدیل کرنا چاہے، تو اس کے لیے بہتر اور عمدہ جانور سے تبدیل کرنا، جائزہوتا ہے، ورنہ جائز نہیں ہوتا۔ چونکہ صورت مسئولہ میں آپ نے جو بکرا خریدا ہے، وہ قیمت اور گوشت کے لحاظ سے حصے سے بہتر اور عمدہ ہے، لہذا اس حصے کو بیچ کر بکرا خریدنے کی وجہ سے آپ پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں۔
غنی کے لیے قربانی کے جانور کو کب تبدیل کرنا، جائز اور کب جائز نہیں؟ اس کے تفصیل کے متعلق جد الممتار میں ہے: (و یکرہ ان یبدل اذا کان غنیاً) و مطلق الکراھۃ التحریم بل زاد سعدی افندی بعد قولہ : اذا کان غنیا: (و لکن یجوز استبدالھا بخیر منھا عند ابی حنیفۃ و محمد رحمھما اللہ تعالی) اھ۔ خصھما؛ لانھا عند ابی یوسف کالوقف، فدل علی ان الاستبدال بغیر الخیر لا یجوز" ترجمہ: اگر غنی ہے، تو اس کے لیے جانور بدلنا مکروہ ہے اور مطلق مکروہ ، مکروہ تحریمی ہوتا ہے، بلکہ سعدی آفندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے صاحب عنایہ کے قول: اذا کان غنیا'' کے بعد اس بات کا اضافہ کیا ہے۔ لیکن امام اعظم و محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کے لیے خریدے ہوئے جانور کو اس سے بہترجانور سے بدلنا جائز ہے۔ سعدی آفندی علیہ الرحمۃ نے (بہتر سے بدلنے کےجواز کو) ان دونوں کے ساتھ اس لیے خاص کیا ہےکہ امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک قربانی کا جانور وقف کی طرح ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قربانی کے جانور کو بہتر کے علاوہ سے بدلنا جائز نہیں۔ (جد الممتار، جلد 6، صفحہ 460، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بکرا اگر قیمت اور گوشت میں ساتویں حصے کے برابر یا زیادہ ہو، تو وہ ساتویں حصے سے بہتر ہے، جیساکہ فتاوی بزازیہ میں ہے:الابل افضل ثم البقر ثم الغنم من المعز و البقر افضل من الشاۃ اذا استویا قیمۃ لانہ اعظم و اکثر و الشاۃ افضل من سبع البقرۃ اذا استویا قیمۃ و لحماً فاذا استویا قیمۃ فاطیبھما لحماً افضل و ان اختلفا فالفاضل افضل'' ترجمہ: اونٹ افضل ہے پھر گائے پھر بکری بھیڑ سے افضل اور گائے بکری سے افضل ہے جبکہ دونوں قیمت میں برابر ہوں، کیونکہ گائے بڑی اور زیادہ گوشت والی ہے اور بکری گائے کےساتویں حصہ سےافضل ہے،جبکہ دونوں قیمت اورگوشت میں برابر ہوں، جب دونوں قیمت کے اعتبار سے برابر ہوں، تو ان میں عمدہ گوشت والا افضل ہوگا اور اگر قیمت و گوشت میں مختلف ہوں، تو خوبی میں زائد افضل ہوگا۔ (الفتاوی البزازیۃ، جلد 2، صفحہ 408، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
یونہی درمختارمیں ہے: الشاۃ افضل من سبع البقرۃ اذا استویا فی القیمۃ و اللحم" ترجمہ: بکری گائے کے ساتویں حصہ سے افضل ہے،جبکہ دونوں قیمت اورگوشت میں برابر ہوں۔ (درمختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 534، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے: بکری کی قیمت اور گوشت اگر گائے کے ساتویں حصہ کی برابر ہو تو بکری افضل ہے اور گائے کے ساتویں حصہ میں بکری سے زیادہ گوشت ہو تو گائے افضل ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 340، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10006
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء