logo logo
AI Search

کیا پہلے والد کی طرف سے قربانی کرنا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا اپنی قربانی سے پہلے والد کی طرف سے قربانی کرنا ضروری ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ پہلے والد کی طرف سے قربانی ہوتی ہے، اس کے بعد بیٹے کی طرف سے ہوتی ہے، تو میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ جس کے پاس پیسے ہوں، جو نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں، تو اس پر قربانی واجب ہوتی ہے، تو اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔

جواب

آپ کے والد صاحب کا کہنا شرعاً درست نہیں، شریعت میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے، کہ پہلے والد کی طرف سے قربانی ہوتی ہے، اس کے بعد بیٹے کی طرف سے ہوتی ہے، بلکہ قربانی اُس پر واجب ہوتی ہے، جو مالکِ نصاب ہو، اور مالکِ نصاب کی تفصیل یہ ہے کہ:

جس شخص کی ملکیت میں قربانی کے دنوں میں حاجت اصلیہ (یعنی وہ چیزیں جن کی انسان کو حاجت رہتی ہے، جیسے رہائش گاہ، خانہ داری کے وہ سامان جن کی حاجت ہو، سواری اور پہننے کے کپڑے وغیرہ ضروریاتِ زندگی) سے، اور اگر ذمے پر قرض ہو، تو اس سے زائد، دو سو درہم ( ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں، یا سونا، چاندی، ہر ایک، اپنی ذات میں نصاب سے کم ہو، لیکن جتنی مقدار میں ہیں، اُن کی مجموعی قیمت، ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کوپہنچتی ہو، یا ایسا کوئی سامان، یاجائیداد وغیرہ ہو، کہ تنہا اس کی، یا اس کے ساتھ دوسرے مال کو ملانے سے، اس کی قیمت (فی زمانہ) ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو ایسا شخص، نصاب کا مالک ہوتا ہے، اور اُس پر قربانی واجب ہوتی ہے۔ لہذا آپ کی صورت میں اگر آپ کے والد مالکِ نصاب نہیں، بلکہ آپ مالکِ نصاب ہیں، تو آپ پر قربانی واجب ہوگی، آپ کے والد صاحب پر قربانی واجب نہیں ہوگی، اور اگر آپ نے اپنی واجب قربانی کرنے کی بجائے، والد صاحب کی طرف سے قربانی کر دی، اور وہ شرعا والد صاحب کی طرف سے ہوگئی، تو اس سے آپ کا واجب ادا نہیں ہو گا، بلکہ وہ نفلی قربانی ہو گی، اپنے ذمہ آنے والے واجب کوادا نہ کرنا، اور دوسروں کی طرف سے نفل ادا کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اب اگر قربانی کے دن باقی ہوں، تو یہ شخص کہ جس پر قربانی واجب تھی، خود قربانی کرے، اور اگر قربانی کے دن گزر چکے ہوں، تو بکری کی قیمت صدقہ کرنا اس پرلازم ہے۔

در مختار میں ہے "فتجب التضحية ... على حر مسلم مقيم موسر عن نفسه" ترجمہ: ہر آزاد، مسلمان، مقیم شخص پر اپنی طرف سے قربانی واجب ہوتی ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 521، مطبوعہ: کوئٹہ)

قربانی واجب ہونے کا نصاب بیان کرتے ہوئے علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی حنفی (متوفی 587ھ) فرماتے ہیں: ”فلا بد من اعتبار الغنى و هو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه و ما يتأثث به و كسوته و خادمه و فرسه و سلاحه و ما لا يستغنی عنه“ ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اوروہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یا رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہو، جو اتنی مالیت کو پہنچتی ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیۃ، ج 4، ص 196، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ ۵۶ روپیہ کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 370، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بدائع الصنائع میں ہے ’’و ان کان لم یوجب علی نفسہ و لا اشتری و ھو موسر حتی مضت أیام النحر تصدق بقیمۃ شاۃ تجوز فی الأضحیۃ‘‘ ترجمہ: اگر قربانی اپنے اوپر خود واجب نہیں کی تھی اور نہ ہی قربانی کے لیے جانور خریدا تھا اور وہ صاحب نصاب بھی تھا (اور اس نے قربانی نہیں کی) یہاں تک کہ ایام نحر گزر گئے تو اب ایک ایسی بکری کی قیمت صدقہ کرے جس کی قربانی جائز ہوتی ہو۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 203، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے غنی نے قربانی کیلئے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کردے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔ (بہارشریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 338، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: جس پر قربانی واجب ہے، وہ اگر اپنے لڑکے یا بی بی (بیوی) وغیرہ کے نام سے کرے، تو اس کے ذمہ کا واجب ساقط ہو گا یا نہیں؟ اور یہ قربانی صحیح ہو گی؟ مفتی صاحب جواباً ارشاد فرماتے ہیں: جس پر قربانی واجب ہے اس کو خود اپنے نام سے قربانی کرنی چاہیے، لڑکے یا زوجہ کی طرف سے کرے گا، تو واجب ساقط نہ ہو گا، اپنے نام سے کرنے کے بعد جتنی قربانیاں کرے، مضائقہ نہیں، مگر واجب کو ادا نہ کرنا اور دوسروں کی طرف سے نفل ادا کرنا بہت بڑی غلطی ہے، پھر بھی دوسروں کی طرف سے جو قربانی کی ہو گئی اور ایام نحر (قربانی کے دن) باقی ہوں، تو یہ خود قربانی کرے، گزرنے پر قیمتِ اضحیہ تصد ق کرے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 2، حصہ 3، صفحہ 314، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5048
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء