logo logo
AI Search

کیا ہلتے دانت والے جانور کی قربانی جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس جانور کے دانت ہلتے ہوں اس کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر جانور کے دانت ہلتے ہوں، تو کیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے؟

سائل: محمد طارق عطاری (راولپنڈی)

جواب

اگر جانور کے دانتوں کا مسئلہ ہو یا اس کے بعض یا کل دانت جھڑ گئے ہوں، تو اس کی قربانی کے جواز و عدمِ جواز کا مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ چارہ کھا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ چارہ کھا سکتا ہو، تو قربانی سے مانع عیب شمار نہیں ہو گا، اس لیے کہ دانتوں سے مقصود منفعت فوت نہ ہوئی، لہٰذا اس کی قربانی جائز ہے اور اگر چارہ نہ کھا سکتا ہو، تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے:

(۱) اگر جانور کے دانت ہلتے ہوں، لیکن وہ چارہ کھا سکتا ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اس صورت میں بھی دوسرا بے عیب جانور لیں کہ یہ چھوٹا عیب ہے اور چھوٹے عیب والے جانور کی قربانی جائز تو ہے، لیکن مکروہ ہے، لہٰذا بہتر ہے کہ ایسا جانور قربان کیا جائے کہ جس میں چھوٹا عیب بھی نہ ہو۔

(۲) اگر وہ جانور چارہ نہیں کھا سکتا، تواس کی قربانی جائز نہیں ہوگی، کیونکہ دانتوں سے مقصود منفعت بالکلیہ فوت ہو چکی ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں قربانی سے مانع عیب کی وضاحت کچھ یوں ہے: ”كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية و ما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع“ ترجمہ: وہ عیب جو کسی عضو کی منفعت کو مکمل طور پر ختم کردے یا اس کی خوبصورتی کو کامل طورپر ختم کردے، وہ قربانی سے مانع ہوگا اور جو عیب ایسا نہ ہو، تو وہ قربانی سےبھی مانع نہیں ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری، ج 5، ص 299، مطبوعہ پشاور)

جس جانور کے بعض یا کل دانت ہی نہ ہوں، اس کی قربانی سے متعلق علامہ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”و لا يجوز بالهتماء التي لا أسنان لها، و إن كانت لا تعتلف، و إن كانت تعتلف جاز و هو الصحيح“ ترجمہ: ہتماء یعنی جس کے دانت نہ ہوں اور وہ چارہ نہیں کھا سکتا، تو اس کی قربانی جائزنہیں اور اگر وہ چارہ کھا لیتا ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے۔ یہ صحیح قول ہے۔ (البحر الرائق، ج 8، ص 201، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

فتاوی قاضی خان میں ہے: ’’ان بقی لھا من الاسنان قدر ما تعتلف جاز و الا فلا‘‘ ترجمہ: اگر اتنے دانت ہوں، جن سے چارہ چر سکے، تو اُس کی قربانی جائز ہے، ورنہ جائز نہیں۔ (فتاوی قاضی خان، ج 3، ص 240، قدیمی کتب خانہ، کراچی)

ہدایہ شریف میں ہے: ’’ان بقی مایمکن الاعتلاف بہ اجزأہ لحصول المقصود‘‘ ترجمہ: اگر اتنے دانت باقی ہیں، جن کے ساتھ وہ چارہ چر سکتا ہے، تو مقصود کے حاصل ہونے کی وجہ سےاُس جانور کی قربانی جائز ہے۔ (الھدایہ، ج 4، ص 448، مکتبہ رحمانیہ، لاھور)

اس کے تحت علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”لأن المقصود من الأسنان الأكل بها فاعتبر بقاء المقصود دون غيره“ ترجمہ: کیونکہ دانتوں سے مقصود ان کے ساتھ کھانا ہے، تو مقصود کی بقاء کا اعتبار کیا جائے گا، نہ کہ اس کے علاوہ کسی چیز کا۔ (البنایۃ، ج 12، ص 41، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

رد المحتار میں جانور کے ہر قسم کے عیب سے پا ک ہونے کے متعلق ہے: ”قال القهستاني: و اعلم أن الكل لا يخلو عن عيب، و المستحب أن يكون سليما عن العيوب الظاهرة، فما جوز ههنا جوز مع الكراهة كما في المضمرات“ یعنی قہستانی نے کہا: تو جان لے کہ تمام جانور عیب سے خالی نہیں ہوتے اور مستحب یہ ہے کہ جانور تمام ظاہری عیوب سے پاک ہو اور جو تھوڑے عیب والے جانور کی قربانی کو جائز قرار دیا ہے، وہ کراہت کے ساتھ اس کا جواز مراد ہے، جیسا کہ مضمرات میں ہے۔ (رد المحتار مع الدرالمختار، ج 09، ص 536، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعۃ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو، تو قربانی ہو جائےگی، مگر مکروہ ہوگی۔ (بھار شریعت، ج 03، حصہ 15، ص 340، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: PIN-7755
تاریخ اجراء: 01 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 18 مئی 2026ء