اجتماعی قربانی کا گوشت اندازے سے تقسیم کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اجتماعی قربانی میں گوشت اندازے سے تقسیم کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے شہر اور قریب کے تمام دیہاتوں میں عموماً یہ طریقہ رائج ہے کہ جب لوگ اجتماعی قربانی کرتے ہیں تو اس کا گوشت تقسیم کرتے وقت اندازے سے گوشت کے سات ڈھیر لگا دئیے جاتے ہیں، اور اجتماعی قربانی کے شرکاء کو کہا جاتا ہے کہ آپ ایک ایک حصہ اٹھالیں اور جو کمی و زیادتی ہے، وہ ایک دوسرے کو معاف کردیں، تمام شرکاء ایک ایک ڈھیر اٹھا لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو کمی و زیادتی معاف کر دیتے ہیں، ہمارے ہاں ایک جامع مسجد کےخطیب صاحب نے بتایا ہے کہ یہ طریقہ کار جائز نہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ کار جائز ہے یا نہیں؟ اگر یہ طریقہ کار جائز نہیں تو اس کا کوئی جائز حل بھی بتا دیں؟
نوٹ: سائل سے معلومات لینے سے پتا چلا کہ کلیجی، سری، پائے اور پھیپھڑے سب شرکاء کو نہیں ملتے۔ سری، پائے اور پھیپھڑے تمام شرکاء کی رضا مندی سےعموماً کسی غریب شخص کو دے دئیے جاتے ہیں، اس وجہ سے کہ سری، پائے بنانے میں مشقت ہوتی ہے۔ اور کلیجی بھی سب کو نہیں ملتی بلکہ جو شخص کلیجی لیتا ہے، اس کے حصہ میں بقیہ کی بنسبت گوشت کم ہوتا ہے۔
جواب
شریعت کی رو سے اجتماعی قربانی کے گوشت میں جب گوشت کےعلاوہ دوسری جنس یعنی سری، پائے، کلیجی، تلّی، پھیپھڑے اور مغز شامل کیے بغیر اس کو تقسیم کیا جائے تو برابر برابر تقسیم کرنا ضروری ہوتا ہے، اور اندازے سے تقسیم کرنا، ناجائز و حرام ہوتا ہے، اگرچہ تمام شرکاء ایک دوسرے کو کمی و زیادتی معاف کردیں، کیونکہ شرکاء کے درمیان گوشت تقسیم کرنے میں ایک جنس (گوشت) کا تبادلہ کرنا پایا جا رہا ہے اور ایک جنس کی چیز کا اسی جنس سے برابر برابرتبادلہ کرنا،جائز ہوتا ہے، کمی و زیادتی کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں ہوتا، نیز یہ شرع کا حق ہے، بندوں کا حق نہیں ہے کہ ان کے معاف کرنے سے معاف ہو جائے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ اجتماعی قربانی کے گوشت میں دوسری جنس کو شامل کیے بغیر اس کو اندازے سے تقسیم کیا جاتا ہے، لہٰذا ایسا کرنا، ناجائز و حرام ہے، البتہ اس سے قربانی میں کوئی حرج نہیں آئے گا۔
جائز حل: اگر گوشت کے ساتھ دوسری جنس یعنی سری، پائے، کلیجی، تلّی، پھیپھڑے اور مغز کو شامل کر کے گوشت تقسیم کیا جائے اور ہر شریک کو دوسری جنس کی کسی ایک چیزمیں سے کچھ حصہ لازمی دیا جائے تو ایسی صورت میں شرکاء کے درمیان گوشت اندازہ سے تقسیم کر سکتے ہیں۔
جنس کا جنس سے برابر برابر تبادلہ کرنے سے متعلق صحيح مسلم كی حدیثِ پاک میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’الذهب بالذهب، و الفضة بالفضة، و البر بالبر، و الشعير بالشعير، و التمر بالتمر، و الملح بالملح، مثلا بمثل، يدا بيد، فمن زاد، أو استزاد، فقد أربى‘‘ ترجمہ: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، اور نمک نمک کے بدلے، برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ بیچا جائے، پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا، اس نے سودی معاملہ کیا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث 1584، جلد 3، صفحہ 1211، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
قربانی کا گوشت شرکاء کے درمیان اندازے سے تقسیم کرنے سے متعلق فقیہ النفس، امام قاضی خان اَوْزجندی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ / 1196ء) لکھتے ہیں: ”سبعة ضحوا بقرۃ و اقتسموا لحمھا وزنا جاز، لان بیع اللحم باللحم وزنا مثلا بمثل جاز و کذٰلک القسمة فإن اقتسموا اللحم جزافا لا يجوز اعتبارا بالبيع، و لو انهم اقسموا لحمھا جزافا و حلل كل واحد منهم لاصحابه الفضل لايحوز“ ترجمہ: سات شخصوں نے ایک گائے قربان کی اور اس کا گوشت آپس میں وزن کرکے تقسیم کیا تو یہ جائز ہے، کیونکہ گوشت کو گوشت کے بدلے برابر برابر بیچنا جائز ہے اور یہی حکم (شرکاء کے درمیان گوشت) تقسیم کرنے کا ہے، اگر انہوں نے آپس میں گوشت اندازے سے تقسیم کیا تو بیع کا اعتبار کرتے ہوئے یہ جائز نہیں ہے، اور اگر انہوں نے گوشت اندازے سے تقسیم کیا اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھیوں کو زیادتی معاف بھی کر دی تو بھی جائز نہیں ہے۔ (فتاوی قاضی خان جلد 3، کتاب الاضحیۃ، صفحہ 237، دارالکتب العلمیہ بیروت)
اجتماعی قربانی کے شرکاء کے درمیان اندازے سے گوشت تقسیم کرنے کے ناجائز ہونے کی وجوہات کےمتعلق ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 587ھ) لکھتے ہیں: ”أما عدم جواز القسمة مجازفة فلان فيها معنى التمليك و اللحم من اموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة و اما عدم جواز التحليل فلان الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، و لانه في معنى الهبة و هبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح“ ترجمہ: بہر حال (قربانی کا گوشت شرکاء کے درمیان) اندازے سے تقسیم کرنا، ناجائز اس وجہ سے ہے کہ اس میں مالک بنانے کا معنی پایا جاتا ہے اور گوشت اموال ربوٰ میں سے ہے تو اس میں اندازے سے مالک بنانا، جائز نہیں ہے، اور اگر شرکاء کمی و زیادتی کو ایک دوسرے کے لیے جائز کردیں، پھر بھی جائز نہیں کہ سود حلال کرنے سے حلال ہونے کا احتمال نہیں رکھتا اور اس میں ہبہ کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور ایسی مشترک چیز جو تقسیم ہو سکتی ہو اس کا ہبہ (تقسیم سے پہلے) صحیح نہیں ہوتا۔ (بدا ئع الصنائع، جلد 6، صفحہ 292، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: شرکت میں گائے کی قربانی کی تو ضرور ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جائے، اندازہ سے تقسیم نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے، یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک اس کو دوسرے کے لیے جائز کر دے گا کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز (جائز نہ ہونا) حق شرع ہے اور ان کو اس کے معاف کرنے کا حق نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 15 صفحہ 335، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتئ اعظم پاکستان، مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1413ھ / 1992ء) لکھتے ہیں: قربانی کا جانور سب شرکاء میں مشترک ہے اور اس کا گوشت بھی مشترک ہے، تقسیم کرتے وقت کم یا زیادہ لیں تو گوشت کو گوشت سے بدلنا ہے اور اس میں زیادتی حرام ہے، لیکن اس سے قربانی میں کوئی حرج نہیں آئے گا۔ (وقار الفتاوی جلد 2، کتاب الاضحیہ، صفحہ 472 بزم وقار الدین کراچی)
شرکاء کے درمیان کمی و زیادتی کے ساتھ گوشت تقسیم کرنے کے جائز طریقے سے متعلق در مختار مع رد المحتار میں ہے: ”(و يقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه من الاكارع أو الجلد صرفا للجنس لخلاف جنسہ) بأن يكون مع أحدهما بعض اللحم مع الأكارع و مع الآخر البعض مع البعض مع الجلد“ ترجمہ: اور گوشت کو وزن کر کے تقسیم کیا جائے، اندازے سے تقسیم نہ کیا جائے، مگر یہ کہ ایک جنس کو اس کی مخالف جنس سے پھیرنے کیلئے اس گوشت کے ساتھ پائے یا کھال (وغیرہ) ملادی جائے (تو اب کمی و زیادتی جائز ہوگی)، اس طور پر کہ (ان میں سے) بعض کے حصے میں گوشت کے ساتھ پائے آجائیں اور بعض دوسروں کے گوشت کے ساتھ کھال آجائے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد 06، صفحہ 317، 318، دار الفکر بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0277
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء