logo logo
AI Search

قربانی کے جانور کی عمر کتنی ہونی چاہیے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قربانی کے جانور کی عمر کے متعلق وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

قربانی کے جانور کی عمر کتنی ہونی چاہیے؟

جواب

قربانی کے جانوروں کی عمروں کے لحاظ سے ضروری ہے کہ بکرا ، بکری ایک سال سے، گائے دو سال سے اور اونٹ پانچ سال سے کم عمر کا نہ ہو۔ ہاں! چھ مہینے کا دنبہ یا مینڈھا بھی قربان ہوسکتا ہے، جبکہ اتنا موٹا تازہ ہو کہ اسے سال کے دنبوں میں ملادیں تو دور سے فرق نہ کیا جاسکے۔ یاد رہے! قربانی کے لیے جانوروں کا دانت نکالنا ضروری نہیں ہے ۔

صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لا تذبحوا الا مسنۃ، الا ان یعسر علیکم، فتذبحوا جذعۃ من الضان" ترجمہ : تم صرف مسنہ (یعنی ایک سال کی بکری، دو سال کی گائے اور پانچ سالہ اونٹ) کی قربانی کرو، ہاں اگر یہ تم پر دشوار ہو، تو دنبے یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ ذبح کردو۔ (صحیح مسلم، کتاب الاضاحی، باب سن الاضحیہ، جلد 6، صفحہ 77، دارالطباعۃ العامرۃ، ترکی)

علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شرح صحیح مسلم میں ارشاد فرماتے ہیں: "قال العلماء: المسنۃ ھی الثنیۃ من کل شئی من الابل والبقر والغنم فما فوقھا، وهذا تصريح بأنه لا يجوز الجذع من غير الضأن في حال من الأحوال" ترجمہ: علماء نے فرمایا کہ مسنہ سے مراد اونٹ، گائے اور بکری میں سے ہر ایک کاثنی (دوندا) یا اس سے بڑا ہونا ہے اور یہ اس بات کی صراحت ہے کہ بھیڑ یا دنبے کے علاوہ کسی اور جانور میں سے جذعہ کی قربانی کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ (شرح النووی علی مسلم، جلد 13، صفحہ 117، دار احیاء الراث العربی، بیروت)

ثنیہ کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ کاسانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "والثني من الشاة والمعز ما تم له حول وطعن في السنة الثانية، ومن البقر ما تم له حولان وطعن في السنة الثالثة، ومن الابل ما تم له خمس سنين وطعن في السنة السادسة، وتقدير هذه الاسنان بما قلنا لمنع النقصان لا لمنع الزيادة، حتى لو ضحى باقل من ذلك سنا لا يجوز ولو ضحى باكثر من ذلك سنا يجوز ويكون افضل" ترجمہ: بکری اور بھیڑ میں ثنی (دوندا) اسے کہتے ہیں، جس کی عمر ایک سال پوری ہو گئی ہو، اور دوسرے میں داخل ہوگیا ہو، اور گائے میں وہ ہے، جس کے دو سال پورے ہوگئے، اور تیسرے میں داخل ہوگیا، اور اونٹ میں سے وہ ہے، جو پانچ سال کا ہونے کے بعد چھٹے میں لگ گیا ہو، ہمارا ان عمروں کو بیان کرنا ان سے کم عمر والے جانوروں کی قربانی کو منع کرنے کے لیے ہے، نہ کہ زیادہ عمر والوں کی ممانعت کے لیے، یہاں تک کہ اگر کسی نے بیان کردہ سے کم عمر جانور کو قربان کیا، تو جائز نہیں، اور اگر زیادہ عمر والے کی قربانی کی تو جائز، بلکہ افضل ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیہ، محل اقامۃ الواجب، جلد 4، صفحہ 206، مطبوعہ : کوئٹہ)

المبسوط للسرخسی میں ہے’’ولا خلاف ان الجذع من المعز لا يجوز، وانما ذلك من الضان خاصة‘‘ ترجمہ : اس میں اختلاف نہیں کہ بکری کا چھ ماہہ بچہ قربان کرنا جائز نہیں، بلکہ (چھ ماہہ بچے کی اجازت) بھیڑ اور دنبے کے ساتھ ہی خاص ہے ۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الذبائح، باب الاضحیہ، جلد 12، صفحہ 10، دارالمعرفۃ، بیروت)

سال سے کم بھیڑ یا دنبے کی قربانی میں سال بھر کا دِکھنا بھی ضروری ہے، چنانچہ درمختار میں ہے"(وصح الجذع) ذو ستة أشهر (من الضأن) إن كان بحيث لو خلط بالثنايا لا يمكن التمييز من بعد" یعنی بھیڑ، دنبے کا چھ ماہہ بچہ ذبح کرنا صحیح ہے، جب وہ ایسا ہو کہ اگر اسے سال بھر والوں کے ساتھ ملا دیا جائے تو دور سے ان میں فرق ممکن نہ رہے۔ (در مختار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، صفحہ 533، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہیے اونٹ پانچ سال کا گائے دو سال کی بکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اوس کی قربانی جائز ہے۔" (بہار شریعت ، جلد 3 ، حصہ 15، ص 340 ، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

فتاوی فیض الرسول میں ہے "قربانی کے بکرے کی عمر سال بھر ہونا ضروری ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں، لہذا بکرا اگر واقعی سال بھر کا ہے، تو اس کی قربانی جائز ہے، اگرچہ اس کے دانت نہ نکلے ہوں۔" (فتاری فیض الرسول ، ج 2، ص 456، شبیر برادرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو شاھد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5011
تاریخ اجراء: 27 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 15 مئی 2026ء