پیدائشی بغیر کان والے جانور کی قربانی جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں، اس کی قربانی کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس جانور کے پیدائشی دونوں کان نہ ہوں، اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
سائل: محمد اسد (اوکاڑہ)
جواب
ایسا جانور جس کے پیدائشی طور پر دونوں کان یا ایک کان نہ ہو، اُس کی قربانی جائز نہیں، اس لیے کہ جانور کا کان ایک کامل عضو ہے اور اعضائے مقصودہ میں سے ہے اور جانور کےاعضائے مقصودہ میں سے کسی عضو کا معدوم ہونا، قربانی سے مانع عیب ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔
چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ”امرنا رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم ان نستشرف العين و الاذن“ ترجمہ: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ (قربانی کےلئے) ہم آنکھ اورکان کے عیب سے پاک جانور کو تلاش کریں۔ (سنن نسائی، کتاب الضحایا، جلد 7، صفحہ 216، مطبوعہ قاھرہ)
ہدایہ، در مختار، مجمع الانھر، فتاوی عالمگیری اور دیگر کتب فقہیہ میں ہے: و النظم للہدایہ: ”و السكاء و هي التي لا أذن لها خلقة لا تجوز، ان کان ھذا، لأن مقطوع أكثر الأذن إذا كان لا يجوز فعديم الأذن أولى“ ترجمہ: سكاء یعنی وہ جانورجس کے پیدائشی کان نہ ہوں، اگر ایسا جانور موجود ہو، تو اس کی قربانی جائز نہیں، کیونکہ جب کان کا زیادہ حصہ کٹا ہوا ہو، تو قربانی جائز نہیں ہوتی، تو جس جانور کے کان بالکل ہی نہ ہوں، اس کی بدرجہ اولی قربانی نہیں ہوگی۔ (الہدایہ، جلد 4، صفحہ 359، مطبوعہ دار احياء التراث العربي، بيروت)
بغیر کانوں والے جانور کی قربانی جائز نہ ہونے کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ(سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتےہیں: ”لأنها فائتة العضوين المقصودين“ ترجمہ: اس لیے کہ ایسے جانور میں دو اعضائے مقصودہ معدوم ہیں۔ (البنایہ شرح الہدایہ، جلد 12، صفحہ 42، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالیہ علیہ سے سوال ہوا کہ ایک اشتہار چھپا ہے، جس میں یہ مسئلہ ذکر کیا گیا ہے کہ جس جانور کے پیدائشی کان اور دُم نہ ہو، تو امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے اس کی قربانی جائز ہے، تو اب حضرت فرمائیں کہ ایسا مذکورہ بالا جانور واقعی قربانی میں جائز ہے یا ناجائز؟ تو آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے پانچ وجوہ سے ایسے جانور کی قربانی ناجائز بیان فرمائی، چنانچہ لکھتے ہیں: اولاً: متون و شروح نے عدمِ جواز پر جزم کیا اور قول خلاف کا نام نہ لیا ۔۔۔ ثانیا: یہی قضیہ حدیث ہے، کما علمت من غایۃ البیان (یہ حد یث اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ماقبل ایک جزئیے میں نقل فرمائی ہے،عن علی کرم ﷲ وجھہ عن رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان تستشرف العین والاذن "و قد اعتبر رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقاء الاذن فمنع فواتھا من جواز الاضحیۃ" حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے روایت فرمایا کہ ہم آنکھ اور کان کو بغور دیکھیں، تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے کان کی بقاء کا اعتبار فرمایا، تو معدوم ہونا جوازِ قربانی کے لئے مانع ہوگا)۔ ثالثا: اس کی وجہ اظہر وازہر ہے۔ کما علمت من الھدایۃ و مناسک الکرمانی ایراثِ نقص میں عدم طاری واصلی میں تفرقہ کی کوئی وجہ ظاہر نہیں۔ رابعاً: یہی اکثر کتب میں ہے و العمل بماعلیہ الاکثر۔ خامساً: یہی احوط ہے، تو بوجوہ اِسی کو ترجیح ا ور اسی پر اعتماد وعمل وفتوٰی واجب۔ (فتاویٰ رضویہ ملتقطاً، جلد 20، صفحہ 461 - 464، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) سے سوال ہوا کہ جس کے خلقی (پیدائشی) کان یا دم نہ ہو، عند الحنفیہ اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں، تو آپ علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا: جس جانور کے کان بالکل نہ ہوں، اس کی قربانی جائزنہیں ۔۔۔ جوہرہ نیرہ میں بھی یوہیں ہے، انکے علاوہ بدائع و عالمگیری و در مختار و تبیین وغیرہا میں مذکور کہ اس کی قربانی جائز نہیں۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 3، صفحہ 303، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR- 0267
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 29 اپریل 2026ء