logo logo
AI Search

گِلٹی والے بکرے کی قربانی جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بکرے کی گردن پر چھوٹی گلٹی نما سوزش ہو تو قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ بکرے کی گردن پر چھوٹی گلٹی نما سوزش سی ہے، تو اس کی قربانی کرنا کیسا ہے؟ جبکہ بکرا صحت مند ہے، چارہ بھی صحیح طور پر کھاتا ہے، نیز اس کے علاوہ اس میں کوئی اور عیب نہیں اور بکرے کی عمر بھی مکمل ایک سال ہے۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس بکرے کی قربانی کرنا، جائز ہے، کیونکہ شرعی طور پر قربانی سے مانع وہ عیب ہوتا ہے جس کی وجہ سے جانور کے کسی عضو کی منفعت یا خوبصورتی مکمل طور پر ختم ہوجائے، جبکہ گلٹی کی وجہ سے بکرے کے کسی عضو کی منفعت یا خوبصورتی ختم نہیں ہوئی۔ اس کی نظیر فقہاء کرام کا بیان کردہ یہ مسئلہ ہے کہ جس جانور کے جسم پر پھوڑے پھنسی نکلے ہوں، وہ اگر فربہ و تندرست ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے۔

تاہم بہتر یہ ہے کہ اس بکرے کی قربانی نہ کی جائے، کہ گلٹی اگرچہ قربانی سے مانع بڑا عیب تو نہیں، لیکن ایک چھوٹا عیب ضرور ہے اور قربانی کے جانور کا ہر چھوٹے عیب سے بھی پاک ہونا مستحب ہے۔

مبسوط سرخسی میں ہے: ”الأصل أن العيب الفاحش مانع، لقوله تعالى: ﴿و لا تيمموا الخبيث منه تنفقون﴾ و اليسير من العيب غير مانع، لأن الحيوان قلما ينجو من العيب اليسير فاليسير ما لا أثر له في لحمها‘‘ ترجمہ: اصول یہ ہے کہ بڑا عیب قربانی سے مانع ہوتا ہے، کیونکہ فرمان باری تعالی ہے اور خرچ کرتے ہوئے خاص ناقص مال (دینے) کا ارادہ نہ کرو، جبکہ تھوڑا عیب مانع نہیں، کیونکہ جانور کا معمولی عیب سے خالی ہونا بہت شاذ و نادر ہوتا ہے۔ پس معمولی عیب وہ ہوتا ہے جو جانور کے گوشت میں اثر انداز نہ ہو۔ (المبسوط للسرخسی، كتاب الذبائح، باب الأضحية، ج 12، ص 15، دار المعرفة، بيروت)

کیسا عیب قربانی سے مانع ہوتا ہے؟ اس حوالے سے فتاوی ہندیہ میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے: ”كل عيب يزيل المنفعة على الكمال، أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، و ما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع“ ترجمہ: ہر وہ عیب جو منفعت یا خوبصورتی کو مکمل طورپر ختم کردے، قربانی سے مانع ہوگا اور جو عیب ایسا نہ ہو وہ قربانی سے مانع نہیں ہوگا۔ (الفتاوی الھندیہ، ج 5، ص 299، دار الفکر، بیروت)

پھوڑے پھنسی والے جانور کی قربانی کے حوالے سےمحیطِ برہانی اور فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: و اللفظ للاول ”و لا بأس بالخصي و الجماء و هي الشاة التي لا قرن لها و مكسور القرن، و الجرباء إذا كانت سمينة، و الثولاء و هي التي بها ثؤلول إذا كانت سمينة“ ترجمہ: خصی، بے سینگ بکری، ایسا جانور جس کا سینگ ٹوٹا ہو، خارش زدہ جانور جبکہ فربہ ہو اور ایسا جانور جسے پھوڑے پھنسیاں نکلی ہوں وہ اگر فربہ ہو، تو ان سب کی قربانی میں کوئی حرج نہیں۔ (المحیط البرھانی، جلد 6، صفحہ 92، دار الكتب العلمية، بيروت)

فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ: قربانی کے بکرے کو کتے نے پکڑا اور اس کے پچھلے پیر میں زخم کر دیا، پھر وہ زخم اچھا ہو گیا، لیکن اس پر بال نہیں جمے اور وہاں گانٹھ (گلٹی) سی ہو گئی ہے تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: صورت مسئولہ میں اس بکرے کی قربانی کراہت کے ساتھ جائز ہے۔ (فتاوی فیض الرسول، ج 2، ص 459، شبیر برادرز، لاہور)

فتاوی فقیہ ملت میں ہے: زخمی شدہ بکرا اگر اس کا زخم مندمل ہوگیا ہو اور اس جگہ دوسرے بال نکل آئے ہوں اور وہ زخم گٹھلی کی شکل اختیار نہ کیا ہو، تو ایسے بکرے کی قربانی بلا کراہت جائز ہےاور اس کا گوشت کھانے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں اور اگر وہ زخم گٹھلی (گلٹی) کی طرح ہو کر مندمل ہوا ہو اور وہاں دوسرے بال بھی نہ جمے ہوں، تو اس کی قربانی کراہت کے ساتھ جائز ہے، کہ یہ عیب ہے مگر عیب فاحش نہیں۔ (فتاوی فقیہ ملت، ج 2، ص 248، شبیر برادرز، لاہور)

جانور کا ہر طرح کے ظاہری عیب سے پا ک ہونا مستحب ہے، رد المحتار میں: ”أن الكل لا يخلو عن عيب، و المستحب أن يكون سليما عن العيوب الظاهرة، فما جوز ههنا جوز مع الكراهة“ ترجمہ: سب جانور ہر طرح کے عیب سے خالی نہیں ہوتے، تاہم مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور تمام ظاہری عیوب سے پاک ہو، تو جو چھوٹے عیب والے جانور کی قربانی کو یہاں جائز قرار دیا گیا ہے، اس سے مراد کراہت کے ساتھ جواز ہے۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، ج 6، ص 323، دار الفکر، بیروت)

رد المحتار کی مذکورہ بالا عبارت میں ”مع الکراھۃ“ کے تحت فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”ای التنزیھیۃ فانھا ھی خلاف الاولی و خلاف المستحب“ ترجمہ: کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے، کیونکہ یہ (چھوٹے عیب والے جانور کی قربانی) خلافِ اولی اور خلافِ مستحب ہے۔ (فتاوی نوریہ، جلد 3، صفحہ 480، دار العلوم حنفیہ فریدیہ، بصیر پور)

بہار شریعت میں ہے: قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو، تو قربانی ہو جائے گی، مگر مکروه ہو گی۔ (بہار شریعت، ج 03، ص 340، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7756
تاریخ اجراء: 01 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 18 مئی 2026ء