logo logo
AI Search

عقیقہ کا جانور تحفے میں دیا تو عقیقہ ہوجائے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عقیقہ کا جانور تحفے میں دیا تو عقیقہ ہوجائے گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی نے عقیقے کا جانور کسی کو تحفہ میں دیا ہو تو عقیقہ ہو جائے گا؟

جواب

اگر اس سے مراد یہ ہے کہ کسی نے کسی کو جانور تحفہ میں دیا اور اس نے اس جانور سے عقیقہ کر لیا یعنی اس جانور کوبطورِ عقیقہ ذبح کر لیا، تو عقیقہ ہوجائے گا اور اگر اس سےمراد یہ ہے کہ عقیقہ کرنے کے بجائے کسی اور کو جانور تحفہ دے دیا، تو اس طرح عقیقہ نہیں ہوتا کیونکہ قربانی کی طرح عقیقہ میں بھی جانور ذبح کرنا ضروری ہے، ذبح کئے بغیر جانور کسی کو دے دینے سے عقیقہ نہیں ہوتا، ہاں اگر عقیقہ کی نیت سے جانور ذبح کر لیا، اس کے بعد اس کا گوشت کسی کو دے دیا، تو ایسی صورت میں عقیقہ ہوجائے گا۔

بہارِ شریعت میں ہے: ”بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اس کو عقیقہ کہتے ہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 355، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2402
تاریخ اجراء: 20 محرم الحرام 1447ھ/16 جولائی 2025ء