عید کے خطبے سے پہلے قربانی کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نمازِ عید کے بعد خطبے سے پہلے قربانی کرنے کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازِ عید ہوجانے کے بعد خطبے سے پہلے قربانی کرنے سے کیا قربانی ادا ہوجائے گی؟
جواب
شہر میں قربانی درست ہونے کے لیے شرط ہے کہ نمازِ عید پڑھی جاچکی ہو کہ اصل نمازِ عید ہوجانے کا اعتبار ہے، لہٰذا نماز ہوجانے کے بعد خطبے سے پہلے ہی اگر کسی شخص نے قربانی کردی، تو اس صورت میں اُس کی قربانی تو ادا ہوجائے گی لیکن وہ شخص اساءت کا مرتکب ہوگا۔(بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع، 5 / 37 - الدر المختار مع رد المحتار، 9 / 527، 528 - حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، 11 / 14 - بہار شریعت، 3 / 337 ملتقطاً)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی 2026ء