logo logo
AI Search

چھوٹی دم والے بکرے کی قربانی کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پیدائشی چھوٹی دم والے بکرے کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے قربانی کے لیے ایک بکرا خریدنا ہے۔ زید کو ایک خوبصورت بکرا پسند آیا ہے۔ وہ عیوب جن سے قربانی نہیں ہوتی، بکرے کے اندر موجود نہیں ہیں، لیکن اس بکرے کی دم پیدائشی اعتبار سے چھوٹی ہے۔ اس بات کی سو فیصد تحقیق ہے کہ بکرے کی دم کٹنے کی وجہ سے چھوٹی نہیں ہے، بلکہ پیدائشی طور پر ہی چھوٹی ہے۔ کیا ایسے بکرے کی قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت کے مطابق جس بکرے کی دم پیدائشی اعتبار سے چھوٹی ہے، تو ایسے بکرے کی قربانی جائز ہے۔

اس مسئلہ کی قریب ترین نظائر یہ ہیں کہ فقہائے کرام نے ایسی بکری جس کے پیدائشی کان چھوٹے ہوں اور اسی طرح بھیڑ یا دنبہ جس کی چکی پیدائشی اعتبار سے چھوٹی ہو، اس کی قربانی کو جائز قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ فقہائے کرام نے یہ بیان فرمائی کہ عضو جب موجود ہو، خارجی اعتبار سے اس میں کوئی نقص یا عیب پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ خلقت یعنی پیدائشی اعتبار سے اس کے سائز میں کمی بیشی ہوئی ہے، تو اس عضو کے چھوٹے، بڑے، موٹے، پتلے، زیادہ یا کم گوشت والا ہونے سے قربانی میں کوئی فرق اور رکاوٹ نہیں ہو گی اور ایسے جانور کی قربانی ہوجائے گی، جبکہ دیگر کوئی شرعی خرابی نہ پائی جائے، لہٰذا سوال میں پوچھے گئے بکرے کی پیدائشی دم چھوٹی ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (جوہرہ نیرہ، 2 / 245- فتاوی ہندیہ، 5 / 279- فتاوی امجدیہ، 2 / 303)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی 2026ء