logo logo
AI Search

کٹے پاؤں والے جانور کی قربانی جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس جانور کا ایک پاؤں کٹ جائے، اس کی قربانی کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ جس جانور کا ایک پاؤں کٹ جائے، کیا اس کی قربانی ہوسکتی ہے؟

جواب

جس جانور کا ایک پاؤں کٹ جائے، اس کی قربانی نہیں ہوسکتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء کرام نے قربانی کے جواز کے لئے جانور کے تمام اعضاء کا سلامت ہونا، اور تمام فاحش (بڑے) عیوب سے محفوظ ہونا شرط قرار دیا ہے، اور چونکہ پاؤں کٹے جانور میں ایک عضو کامل مفقود ہونے کے سبب عیب فاحش پایا جارہا ہے، لہذا ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔

قربانی کے جواز کی شرائط بیان کرتے ہوئے بدائع الصنائع میں ملک العلماء ابو بکر بن مسعود کاسانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’احدھما: سلامۃ المحل عن العیوب الفاحشۃ‘‘ ترجمہ: ان میں سے پہلی شرط: جانور کا فاحش عیوب سے سلامت (محفوظ) ہونا ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 214، مطبوعہ: کوئٹہ)

جانور میں عیب کثیر یعنی فاحش عیب ہونا جواز قربانی سے مانع ہوتا ہے، اس کی صراحت کرتے ہوئے تحفۃ الفقہاء میں علامہ علاؤ الدین سمرقندی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’فنقول: العیب القلیل لایمنع و الکثیر یمنع‘‘ ترجمہ: تو ہم کہتے ہیں: قلیل عیب (جواز قربانی) سے مانع نہیں اور کثیر عیب مانع ہے۔ (تحفۃ الفقہاء، جلد 3، صفحہ 85، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں سب اعضاء کا سلامت ہونا ضروری ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 460، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

پاؤں کٹے جانور کا صریح حکم بیان کرتے ہوئے کتاب الاصل للامام محمد اور درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے، و اللفظ للدرر: ’’و مقطوع یدھا او رجلھا‘‘ ترجمہ: اور جس جانور کا ہاتھ یا پاؤں کٹا ہو (اسکی قربانی جائز نہیں)۔ (درر الحکام، جلد 2، صفحہ 173، مکتبۃ اولو الالباب)

حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق میں علامہ شیخ شلبی علیہ الرحمۃ کان کٹے جانور کی قربانی کے عدم جواز کی علت یوں بیان فرماتے ہیں: ’’لانہ فات عنہ عضو کامل‘‘ ترجمہ: (قربانی جائز نہیں)، کیونکہ اس جانور کا ایک کامل عضو مفقود ہے۔ (حاشیہ شلبي علی تبیین الحقائق، جلد 6، صفحہ 482، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: جس جانور کا ایک پاؤں کاٹ لیا گیا ہو، اوس کی قربانی ناجائز ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 341، مکتبۃ المدینة، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4920
تاریخ اجراء: 21 شوال المکرم 1447ھ / 10 اپریل 2026ء