logo logo
AI Search

مکان بنانے کے لیے رکھی رقم پر قربانی واجب ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکان بنانے کے لیے جمع شدہ  رقم کی وجہ سے قربانی واجب ہوگی ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے تقریباً 6 ماہ قبل اپنا رہائشی مکان24 لاکھ میں بیچ دیا جو کہ تین افراد میں مشترک تھا، زید کے حصے میں 8 لاکھ روپے آئے اور 2 لاکھ روپےزید کو کمیٹی کھلنے پر ملے، تو یوں زید کے پاس 10 لاکھ روپے جمع ہوگئے۔ زید نے 5 لاکھ روپے اپنے بھائی کو دو سال کی مدت پر قرض دے دیے۔ ابھی زید کے پاس 5 لاکھ روپے موجود ہیں، زید ابھی عارضی طور پر اُسی مکان میں رہائش پذیر ہے۔زید نے وہ 5 لاکھ روپے مکان خریدنے کے لیے رکھے ہیں، زید پہلے ایک خالی پلاٹ خریدے گا جس کے ریٹ کم و بیش ساڑھے چار لاکھ روپے ہیں، پھر قرضہ وصول ہونے پر زید اُس پلاٹ پر عمارت بنائے گا۔

معلوم یہ کرنا  ہے کہ کیا اُن5 لاکھ روپے کی وجہ سے زید پر قربانی واجب ہوگی؟ جبکہ زید نے وہ رقم مکان بنانے کی نیت سے جمع کی ہے۔

جواب

قربانی ہر اس شخص  پر واجب ہوتی ہے جو ایامِ قربانی میں حاجتِ اصلیہ  اور قرض کے علاوہ ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا  کسی ایسی چیز کا مالک ہوجس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی تک پہنچتی ہو۔  فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق مکان خریدنے کے لیے رکھی ہوئی رقم حاجتِ اصلیہ میں شمار نہیں ہوگی، لہذا  پوچھی گئی صورت میں زید کے پاس موجود پانچ لاکھ روپے بھی حاجت سے زائد شمار ہوں گےہیں، لہذا  اگر قربانی واجب ہونے کی دیگر تمام تر شرائط پائی جارہی ہیں تو بلاشبہ زید پر قربانی واجب ہوگی۔

قربانی کا نصاب بیان کرتے ہوئے علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی حنفی علیہ الرحمہ بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں:

”فلا بد من اعتبار الغنی وھو ان یکون فی ملکہ مائتا درھم او عشرون دیناراً او شئی تبلغ قیمتہ ذلک سویٰ مسکنہ وما یتأثث بہ وکسوتہ وخادمہ وفرسہ وسلاحہ وما لا یستغنی عنہ وھو نصاب صدقۃ الفطر۔“

یعنی(قربانی واجب ہونے میں)مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہےاور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم(ساڑھے باون تولہ چاندی)یا بیس دینار(ساڑھے سات تولہ سونا)ہو یا پھر اس کی رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزر بسر ممکن نہ ہو، کے علاوہ ایسی شے ہو جو اس (ساڑھے باون تولہ چاندی)کی قیمت کو پہنچتی ہو اور یہ ہی صدقہ فطر کا نصاب ہے۔(بدائع الصنائع، کتاب الاضحیۃ، ج 5، ص 64، دار الکتب العلمیۃ)

فتاوٰی رضویہ میں ہے:”قربانی واجب ہونے کے لئے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایامِ قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ 56 روپیہ (اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے دور میں رائج الوقت چاندی کے سکے) کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت۔ کاشتکار کے ہل بیل اس کی حاجتِ اصلیہ میں داخل ہیں، ان کا شمار نہ ہو۔“(فتاوٰی رضویہ، ج 20، ص 370، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوٰی خلیلہ میں ہے:”ہر وہ مسلمان، مرد خواہ عورت، جو ایامِ قربانی میں دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے، یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہوجس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی بنتی ہے تو اس پر قربانی واجب ہے۔“(فتاوٰی  خلیلیہ،ج 03، ص 142، ضیاءالقرا ن)

مکان کے لیے رکھی گئی رقم حاجتِ اصلیہ میں شمار نہ ہوگی۔ جیسا کہ وقار الفتاوٰی  میں ہے:”جو شخص نصاب کا مالک ہوگا تو سال کے اختتام پر چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں دینا فرض ہے۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کی آئندہ کی ضروریات کیا ہیں؟ مکان بنانے کے لئے، بچوں کی شادی کے لئے، سواری خریدنے کے لئے یا حج کرنے کے لئے، جو رقم اس کے پاس رکھی ہے اور وہ نصاب کو پہنچتی ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ سال پورا ہونے سے پہلے جو خرچ کرلیا، اس کی زکوٰۃ نہیں۔“(وقار الفتاوٰی، ج 02، ص 393، بزم وقار الدین)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:Nor-13851

تاریخ اجراء:03ذوالحجۃالحرام1446ھ/31مئی2025ء