logo logo
AI Search

کیا پاگل شخص پر قربانی واجب ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا پاگل  پر قربانی واجب ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا پاگل شخص  پر قربانی واجب ہے؟

جواب

قربانی واجب ہونے کے لیے عاقل و بالغ ہونا ضروری ہے،  پاگل شخص چونکہ عاقل نہیں ہوتا،  لہذا اس پر قربانی واجب نہیں اگرچہ کہ یہ صاحبِ نصاب ہو۔ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق قربانی کے معاملے میں پاگل شخص نابالغ بچے کے حکم میں ہے۔

نابالغ بچے پر قربانی واجب نہیں۔ جیسا کہ درّ مختارمیں ہے:

”(فتجب) التضحیۃ: ۔۔۔۔۔(عن نفسہ لا عن طفلہ) علی الظاھر،  بخلاف الفطرۃ

 یعنی ظاہر الروایہ کے مطابق  اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے نہ کہ بچے کی طرف سے، برخلاف صدقہ فطر کے (کہ وہ بچے کی طرف سےصاحبِ نصاب باپ پر واجب ہوتا ہے)۔

(علی الظاھر) کے تحت فتاوی شامی میں ہے:

”قال فی الخانیۃ : فی ظاھر الروایۃ انہ یستحب ولا یجب بخلاف صدقة الفطر۔۔۔ والفتوى على ظاهر الرواية“

یعنی فتاوی قاضی خان میں  فرمایا: ظاہر الروایہ میں ہےکہ اولاد کی جانب سے قربانی کرنا مستحب ہے، واجب نہیں برخلاف صدقہ فطر کے  اور فتوی ظاہر الروایہ ہی پر ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الاضحیۃ،ج09،ص524،مطبوعہ کوئٹہ، ملتقطاً)

مجنون قربانی کے معاملے میں نابالغ کے حکم میں ہے۔ جیسا کہ فتاوٰی قاضی خان، فتاوٰی عالمگیری، درر الحکام شرح غرر الاحکام وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے :

”و النظم للاول“ و المعتوه و المجنون في هذا بمنزلة الصبي۔“

یعنی  مجنون اور معتوہ قربانی واجب ہونے کے مسئلے میں نابالغ بچے  کے حکم میں ہیں۔ (فتاوٰی قاضی خان، کتاب الاضحیۃ،  ج03، ص231، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے:”( قربانی واجب ہونے) کے لئے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اس کے مال سےقربانی کی کی جائے گی یا اس کا باپ اپنے مال سے قربانی کرے گا۔ ظاہر الروایۃ  یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہےاور نہ اس کی طرف سے اس کے باپ پر واجب ہےاور اسی پر  فتوی ہے۔“(بہارِ شریعت،ج03،حصہ15،ص332، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:Nor-13818

تاریخ اجراء:23ذوالقعدۃ الحرام1446ھ/21مئی2025ء