بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم نے اپنے بچے کا عقیقہ کرنا ہے، ہمارے پاس ایک بکرا ہے، جو ایک آنکھ سے کانا ہے یعنی اسے ایک آنکھ سے بالکل بھی نظر نہیں آتا، صرف ایک آنکھ سے ہی دیکھ سکتا ہے، اس کے علاوہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ عمر بھی ڈیڑھ سال ہے۔ گھر والے عقیقے میں یہ بکرا ذبح کرنے کا کہہ رہے ہیں، آپ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ اس بکرے کا عقیقہ ہوسکتا ہے؟
پوچھی گئی صورت میں اس بکرے کا عقیقہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ عقیقہ درست ہونے کے لیے جانور کی عمر، جنس اور عیب وغیرہ سے پاک ہونے میں قربانی والی ساری شرائط کا اعتبار ہوتا ہے، یعنی عقیقہ صرف ان جانوروں کا درست ہوسکتا ہے، جن کی قربانی ہوسکتی ہے، جس جانور میں کسی عیب کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو رہی ہو، تو اس کا عقیقہ بھی نہیں ہوسکتا اور جس جانور کو ایک آنکھ سے بالکل بھی دِکھائی نہ دیتا ہو، فقط ایک آنکھ سے دیکھ سکتا ہو، ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہوتی، جب اس کی قربانی درست نہیں ہے، تو اس کا عقیقہ بھی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا سوال میں بیان کردہ بکرے کا عقیقہ نہیں ہوسکتا، اس کے علاوہ کوئی اور جانور جس میں قربانی والی ساری شرائط پائی جائیں عقیقے میں ذبح کریں۔
عقیقہ بھی اسی جانور کا ہوسکتا ہے جس کی قربانی جائز ہے۔ چنانچہ ترمذی شریف میں ہے:
لا يجزئ في العقيقة من الشاة إلا ما يجزئ في الأضحية
ترجمہ: عقیقہ فقط اسی بکری کا ہوسکتا ہے ،جس کی قربانی ہوسکتی ہے۔ (سنن الترمذی، ابواب الاضاحی، جلد 3، صفحہ 364، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ)
شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ عقیقے کے جانور کی عمر اور عیب وغیرہ میں کیا حکمِ شرعی ہے ؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ان اُمور میں احکام عقیقہ مثلِ قربانی ہیں، اعضا سلامت ہوں، بکرا بکری ایک سال سے کم کی جائز نہیں، بھیڑ، مینڈھا چھ مہینہ کا بھی ہوسکتا ہے، جبکہ اتنا تازہ وفربہ ہو کہ سال بھر والوں میں ملادیں تو دور سے متمیز نہ ہو۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 20، صفحہ 584، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
جن جانوروں کی قربانی جائز نہیں، ان کے متعلق حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اربع لا تجوز فی الاضاحی: العوراء بین عورھا و المریضۃ بین مرضھا و العرجاء بین ظلعھا و الکسیر التی لا تنقی
ترجمہ: چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں:کانا ، جس کا کانا پن ظاہر ہو؛ بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو ؛ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور ایسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔ (سنن ابی داؤد، جلد 3، صفحہ 97، مطبوعہ بیروت)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت کانا پن کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
بان یکون قد ذھب احدی عینھا کلھا او اکثرھا
ترجمہ: کانا اس طرح ہو کہ اس کی ایک آنکھ پوری یا اکثر ضائع ہوگئی ہو۔ (لمعات التنقیح، جلد 3، صفحہ 582، مطبوعہ دار النوادر، دمشق)
ملتقی الابحر مع مجمع الانہر میں ہے:
(لا) تجوز (العمیان) و ھی الذاھبۃ العینین (و العوراء)وھی الذاھبۃ احدی العینین
ترجمہ: اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ یہ وہ جانور ہے جس کی دونوں آنکھیں ضائع ہوگئیں اور کانے جانور کی (قربانی جائز نہیں) اور یہ ایسا جانور ہے جس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔ (مجمع الانھرشرح ملتقی الابحر، جلد 4، صفحہ 171، مطبوعہ بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے: اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں اور کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، اس کی بھی قربانی ناجائز۔۔۔ جس جانور کی تہائی سے زیادہ نظر جاتی رہی، اس کی بھی قربانی ناجائز ہے۔ (بھارِ شریعت، حصہ 15، جلد 3، صفحہ 341، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2875
تاریخ اجراء: 01 رجب المرجب 1447ھ/22 دسمبر 2025ء