logo logo
AI Search

انتقال کے بعد عقیقہ کرنا نیز شفاعت ملنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مالی تنگی کی وجہ سے عقیقہ نہ کرنے پر بچے کی شفاعت نہیں ملے گی؟ فوت شدہ کا عقیقہ کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا، لیکن پیدائش کے بعد وہ مسلسل بیمار رہا اور تقریباً ایک ماہ بعد اس کا انتقال ہوگیا۔ مالی تنگی اور عدمِ استطاعت کی وجہ سے والدین اس کا عقیقہ نہ کرسکے۔ بعد میں یہ بات سنی گئی کہ جس بچے کا عقیقہ نہ کیا جائے اور وہ فوت ہوجائے، تو والدین اس بچے کی شفاعت کی فضیلت سے محروم رہتے ہیں۔ اب اگر کچھ عرصہ بعد مالی اسباب میسر آجائیں، توشرعاً کیا حکم ہوگا؟

(1) کیا فوت ہوجانے کے بعد اس بچے کا عقیقہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

(2) اور کیا عقیقہ نہ کرنے کی وجہ سے واقعتاً والدین اس بچے کی شفاعت کی فضیلت سے محروم ہوجائیں گے یا نہیں؟

جواب

(1) عقیقہ اولاد کی نعمت ملنے پر شکرِ خداوندی کے طور پر ادا کیا جاتا ہے اور چونکہ عقیقہ پیدائش کی نعمت پر شکر گزاری کے لیے ہوتا ہے، تو یہ شکرانہ زندہ شخص کے لیے ہی ہو سکتا ہے، لہٰذا بچے کے انتقال کے بعد اب اس کی طرف سے عقیقہ نہیں کیا جاسکتا۔

(2) نیز جو بچہ بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوجائے اور اس کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو، تو اس کے والدین اپنے بچے کی شفاعت کی فضیلت نہیں پاسکیں گے، اس سے مراد وہ صورت ہے کہ جب اس بچے نے عقیقے کا وقت پایا ہو یعنی سات دن کا ہوگیا ہو اور پھر باوجودِ استطاعت، بلاعذر اس کا عقیقہ نہ کیا جائے، تو ایسے والدین اس بچے کی شفاعت کی فضیلت سے محروم رہیں گے کہ انہوں نے قدرت کے باوجود اپنی اولاد کے عقیقہ کرنے کا حق ادا نہیں کیا۔ پوچھی گئی صورت میں اگرچہ اس بچے نے عقیقے کا وقت (ساتواں دن) پایا، لیکن چونکہ والدین مالی تنگی اور استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے عقیقہ نہ کرسکے، تو ایسے والدین اپنے بچے کی شفاعت کی فضیلت پائیں گے، جبکہ ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے ہوں۔

عقیقہ کے نعمتِ اولاد کا شکرانہ ہونے کے متعلق علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد

ترجمہ:عقیقہ اولاد کی نعمت ملنے پر شکر کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ (رد المحتار، جلد 9، صفحہ 540، مطبوعہ کوئٹہ)

فوت شدہ کی طرف سے عقیقہ نہ ہونے کے متعلق اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مُردے کا عقیقہ نہیں کہ وہ شکرِ ولادت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 593، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: مردہ کا عقیقہ نہیں ہوسکتا کہ عقیقہ دمِ شکر ہے اور یہ شکرانہ زندہ ہی کے لیے ہوسکتا ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 336، مطبوعہ مکتبہ رضویہ)

بچے کے اپنے عقیقے میں گروی ہونے کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم: الغلام مرتهن بعقيقته، يذبح عنه يوم السابع، و يسمى، و يحلق رأسه

ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: بچہ اپنے عقیقہ میں گروی رہتا ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، نام رکھا جائے اور اس کا سر منڈوایا جائے۔ (سنن الترمذی، جلد 3، باب من العقیقۃ، صفحہ 181، مطبوعہ دار الغرب الاسلامی، بيروت)

اس حدیثِ مبارک کے تحت عقیقہ نہ کرنے کی صورت میں بچے کی شفاعت سے محرومی کے متعلق علامہ حسین بن محمود شیرازی مُظْہِرِی حَنَفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 727ھ) لکھتے ہیں:

مرهون؛ أي: المولود معلق و محبوس بعقيقته؛ أي: تحصل سلامته من الآفة إذا ذبح له عقيقة، و قيل: معلق شفاعته لأبويه بعقيقته؛ أي: إن لم يذبحا عقيقته - مع القدرة - لا يشفع لهما يوم القيامة لأنهما لم يقضيا حقه

ترجمہ: (بچہ اپنے عقیقہ میں) گروی رہتا ہے یعنی وہ بچہ اپنے عقیقے میں معلق اور قید رہتا ہے کہ جب اس کا عقیقہ کردیا جاتا ہے، تو اسے آفت سے سلامتی مل جاتی ہے اور اس کا یہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس بچے کی اپنے والدین کے حق میں شفاعت اس کے عقیقے پر موقوف رہتی ہے، یعنی جب والدین قدرت کے باوجود اس کا عقیقہ نہ کریں، تو وہ بچہ قیامت کے دن ان کی شفاعت نہیں کرسکے گا، کیونکہ انہوں نے اس بچے کا حق ادا نہیں کیا۔ (المفاتیح شرح المصابیح، جلد 4، کتاب الصید و الذبائح، باب العقیقۃ، صفحہ 493، مطبوعہ دارالنوادر)

عقیقہ نہ کرنے کی صورت میں بچے کی شفاعت سے محرومی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: جو مرجائے کسی عمر کا ہو، اس کا عقیقہ نہیں ہوسکتا، بچہ اگر ساتویں دن سے پہلے ہی مرگیا، تو اس کے عقیقہ نہ کرنے سے کوئی اثر اس کی شفاعت وغیرہ پر نہیں کہ وہ وقتِ عقیقہ آنے سے پہلے ہی گزر گیا، عقیقہ کا وقت شریعت میں ساتواں دن ہے۔۔۔ ہاں جس بچے نے عقیقہ کا وقت پایا یعنی سات دن کا ہوگیا اور بلاعذر باوصف استطاعت اس کا عقیقہ نہ کیا، اس کے لیے یہ آیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی شفاعت نہ کرنے پائے گا۔۔۔ جو بچہ قبل بلوغ مرگیا اور اس کا عقیقہ کر دیا تھا یا عقیقہ کی استطاعت نہ تھی یا ساتویں دن سے پہلے مرگیا، ان سب صورتوں میں وہ ماں باپ کی شفاعت کرے گا جبکہ یہ دنیا سے باایمان گئے ہوں، اس بارے میں متواتر حدیثیں ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 596، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9815
تاریخ اجراء: 08 رمضان المبارک 1447ھ / 26 فروری 2026ء