ایام قربانی گزرنے کے بعد قربانی کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ایامِ قربانی کے بعد فوت شدہ قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحبِ نصاب اور مقیم شخص نے قربانی نہیں کی جبکہ اس نے قربانی کے لیے کوئی جانور بھی نہیں خریدا تھا۔ اب ایام قربانی گزرجانے کے بعد اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ صاحبِ نصاب جانور خرید کر صدقہ کر دے یا اسے ذبح کر کے اس گوشت کو صدقہ کر دے؟ کس طرح سے وہ برئ الذمہ ہوگا؟؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں اس صاحبِ نصاب شخص پر اوسطاً ایسی بکری کہ جس میں قربانی کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں اسے زندہ صدقہ کرنا یا پھر اس کی قیمت صدقہ کرنا، واجب ہے۔ نیز بلا وجہ شرعی قربانی نہ کرنے کے گناہ سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرنا بھی لازم ہے۔
البتہ قربانی کی قضا میں اب جانور کو ذبح نہیں کیا جاسکتا۔ (بدائع الصنائع، 6/ 280 - درِ مختار مع رد المحتار، 9 / 531 تا 533 ملتقطاً و ملخصاً- فتاوٰی رضویہ، 20 / 361 - بہار شریعت، 1 / 338، 339- فتاوٰی فقیہ ملت، 2 / 248)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی 2026ء