ضرورت سے زائد کپڑوں پر قربانی کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ضرورت سے زائد کپڑوں کی وجہ سے قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک اسلامی بہن کے پاس ضرورت سے زائد رقم نہیں ہے، لیکن کپڑے موجود ہیں، جو استعمال میں نہیں آتے، تو کیا ان کپڑوں کی وجہ سے قربانی واجب ہوگی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں ضرورت سے زائد کپڑے، اگر اتنی قیمت کے ہیں، کہ وہ ایام قربانی میں تنہا، یا دیگر ضرورت سے زائد سامان، اموال کے ساتھ مل کر، کم از کم ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچتے ہیں، اور قربانی واجب ہونے کی دیگر شرائط بھی پائی جاتی ہیں، تو قربانی واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔
قربانی کا نصاب بیان کرتے ہوئے علامہ ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی علیہ الرحمۃ بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں: ”فلا بد من اعتبار الغنی وھو ان یکون فی ملکہ مائتا درھم او عشرون دیناراً او شئی تبلغ قیمتہ ذلک سویٰ مسکنہ وما یتأثث بہ وکسوتہ وخادمہ وفرسہ وسلاحہ وما لا یستغنی عنہ وھو نصاب صدقۃ الفطر“ یعنی (قربانی واجب ہونے میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہو یا پھر اس کی رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزر بسر ممکن نہ ہو، کے علاوہ ایسی شے ہو جو اس (ساڑھے باون تولہ چاندی) کی قیمت کو پہنچتی ہو اور یہ ہی صدقہ فطر کا نصاب ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاضحیۃ، ج 5، ص 64، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے ”جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں ہوں وہ حاجت سے زائد ہیں۔(بہار شریعت، ج 3، حصہ 15، ص 333، مکتبۃ المدینہ)
فتاوٰی خلیلہ میں ہے ”ہر وہ مسلمان، مرد خواہ عورت، جو ایامِ قربانی میں دوسو درہم یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے، یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی بنتی ہے تو اس پر قربانی واجب ہے۔“ (فتاوٰی خلیلیہ، ج 03، ص 142، ضیاء القراٰن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4990
تاریخ اجراء: 21 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 09 مئی 2026ء