logo logo
AI Search

کیا ٹیکسی مالک پر قربانی واجب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ٹیکسی کی وجہ سے قربانی لازم ہوگی یا نہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی شخص صاحب نصاب نہ ہو، لیکن اس کے پاس ایک ٹیکسی ہو، جس کا وہ خود مالک ہے، جوکہ اس کی کمائی کا واحد ذریعہ ہے، تو اس ٹیکسی کی وجہ سے اس شخص پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں ٹیکسی کی حیثیت پیشہ وروں کے آلات کی سی ہے، جو کہ حاجت اصلیہ میں شمار ہوتے ہیں، لہذا یہ ٹیکسی بھی حاجت اصلیہ میں شمار ہوگی، اور نصاب کے لیے اس کی قیمت کا لحاظ نہیں ہوگا، بلکہ اس کی کمائی سے جو رقم جمع ہوتی ہے، اگر قربانی کے ایام میں حاجت اصلیہ و قرض سے زائد تنہا وہ رقم یا اس کے ساتھ مزید کوئی حاجت اصلیہ سے زائد سامان مل کر ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے، تو قربانی لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔ بریقہ محمودیہ میں ہے "(إن كان) الآخذ (غنيا غنى الأضحية)۔۔۔۔(وهو يملك مائتي درهم) وزن سبعة (أو قيمتها فارغين) أي الدرهم والقيمة (عن الدين) والمهر المعجل محسوب لا المؤجل (و) عن (الحوائج الأصلية) كدور السكنى وثياب البدن وأثاث المنزل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال وكتب العلم لأهلها وآلات المحترفين فإنه يجوز أخذ الشيء مما ذكر لمن بلغت قيمة حوائجه الأصلية مائتي درهم فما فوقها وكذا لمن ملك مائتي درهم فما فوقها فارغة عن حوائجه الأصلية لكنه مطالب من العباد بما يستغرق ذلك أو يبقى منه ما لا يبلغ هو أو قيمته مائتي درهم" ترجمہ: اگر لینے والا اتنا غنی ہو، جتنا قربانی واجب ہونے کے لیے غنی ہونا معتبر ہے اور (قربانی کے لیے غنی سے ہونے مراد یہ ہے کہ) وہ سات مثقال وزن کے حساب سے دو سو درہم یا ان کی قیمت کا مالک ہو، اس حال میں کہ یہ درہم و قیمت قرض سے فارغ ہو، اسی طرح جلد ادا کیا جانے والا مہر بھی (قرض میں) شمار ہوگا، جبکہ بعد میں ادا کیا جانے والا مہر شمار نہیں ہوگا، اور یہ مال اس کی حاجت ِ اصلیہ سے بھی زائد ہو، جیسے رہائشی مکانات، پہننے کے کپڑے، گھر کا سامان، سواری کے جانور، خدمت کے غلام، استعمال کے ہتھیار، اہلِ علم کے لیے علمی کتابیں، اور پیشہ ور افراد کے کام کے آلات، لہٰذا جس شخص کی حاجاتِ اصلیہ کے سامان کی قیمت ہی دو سو درہم یا اس سے زیادہ ہو، اس کے لیے مذکوہ اشیاء میں سے کسی چیز کو لینا جائز ہے، اور اسی طرح اس شخص کے لیے لینا بھی جائز ہے، جس کے پاس حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ دو سو درہم یا اس سے زیادہ مال موجود ہو، لیکن لوگوں کا اس پر اتنا قرض ہو، جو اس کے پورے مال کو گھیرے ہوئے ہو، یا قرض ادا کرنے کے بعد اتنا مال بچے جو خود یا اس کی قیمت دو سو درہم سے کم ہو۔ (بریقہ محمودیہ، ج 04، ص 70، مطبعۃ الحلبی)

فتاوی رضویہ میں ہے "قربانی واجب ہونے کے لئے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ ۵۶ روپیہ (چاندی کے سکوں) کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت، کاشتکار کے بل بیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ان کا شمار نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 370، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5001
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 13 مئی 2026ء