logo logo
AI Search

عمرے کے لیے جمع کی ہوئی رقم پر قربانی کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عمرے کی نیت سے جمع کی ہوئی رقم پر قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا عمرے کی نیت سے جمع کی ہوئی رقم پر قربانی واجب ہے ؟

جواب

اگر عمرے کے لیے جمع کردہ رقم اتنی ہے، کہ وہ تنہا ہی ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کو پہنچ چکی ہے، یا تنہا خود تو اتنی نہیں، مگر دیگر ضرورت سے زائد اور قرض سے فارغ اموال، سامان و جائیداد سے مل کر اتنی ہو گئی ہے، کہ اس سے ساڑھے باون تولے چاندی خریدی جا سکے، اور یہ حیثیت قربانی کے ایام میں پائی جائے، تو قربانی واجب ہو گی، کہ عمرے کی نیت سے رقم جمع کرنا، قربانی کے واجب ہونے سے مانع نہیں ہے، البتہ! اگر یہ رقم اپنے پاس موجو د ضرورت سے زائد اور قرض سے فارغ اموال، سامان و جائیداد سے مل کر بھی، بیان کردہ نصاب سے کم ہو، (یعنی اتنی نہ ہو کہ اس سے ساڑھے باون تولے چاندی خریدی جا سکے)، تو قربانی واجب نہیں ہو گی۔ قربانی واجب ہونے کانصاب بیان کرتے ہوئے ”بدائع الصنائع“ میں علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی حنفی (متوفی587 ھ) فرماتے ہیں: ”فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه“ ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ضروری ہے، اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دوسو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولے سونا) ہوں، یا رہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑے، ہتھیار، اور وہ اشیا، جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہو، جو اس (دوسو درہم یا بیس دینار) کی قیمت کو پہنچتی ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیہ، ج 4، ص 196، مطبوعہ: کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی1367ھ) فرماتے ہیں: ”جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو، وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائد ہیں۔“ (بہار ِشریعت، ج 3، حصہ 15، ص 333، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن (متوفی 1340ھ) فرماتے ہیں: "قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ ۵۶ روپیہ (اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے دور میں رائج الوقت چاندی کے سکے) کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت۔" (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 370، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4997
تاریخ اجراء: 01 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 18 مئی 2026ء