logo logo
AI Search

تنخواہ کا بیشتر حصہ گھر دینے والے پر قربانی واجب ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

تنخواہ دار جو اپنی اکثر تنخواہ گھر دیتا ہے، اس پہ قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر ایک شخص تنخواہ دار ہے، اور کنوارہ ہے، اور وہ اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ گھر دیتا ہے، کیا ایسے شخص پر قربانی واجب ہے؟

جواب

قربانی ہر اس عاقل بالغ مقیم مسلمان پر واجب ہوتی ہے، جس کے پاس ایام قربانی میں حاجات اصلیہ سے زائد بقدر نصاب مال (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت) مو جود ہو، اور قرض ہو نے کی صورت میں قرض کی رقم نکا لنے کے بعد بقیہ مال بقدر نصاب مال بنتا ہو، لہذا اگر تنخواہ کا اکثر حصہ گھرمیں دینے کے باوجود قربانی کے دنوں میں حاجت اصلیہ کے علاوہ اور قرض ہو تو اسے نکالنے کے بعد، اس کی ملکیت میں نصاب کی مقداربرابرمال ہو،اوروہ عاقل بالغ اور مقیم مسلمان ہو، تو اس پرقربانی واجب ہوگی، اور اگر ان میں سے ایک بھی شرط نہ پائی جائے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

در مختار میں ہے "فتجب التضحية...على حر مسلم مقيم موسرعن نفسه" ترجمہ: ہر آزاد، مسلمان، مقیم شخص پر اپنی طرف سے قربانی واجب ہوتی ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد 9، ص 521، مطبوعہ: کوئٹہ)

قربانی واجب ہونے کانصاب بیان کرتے ہوئے علامہ ابوبکربن مسعود کاسانی حنفی (متوفی 587ھ) فرماتے ہیں: ”فلا بد من اعتبار الغنى و هو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه و ما يتأثث به و كسوته و خادمه و فرسه و سلاحه و ما لا يستغنی عنه“ ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اوروہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں یارہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اوروہ اشیاء جن کے بغیرگزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیزہو، جواتنی مالیت کوپہنچتی ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب التضحیۃ، ج 4، ص 196، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں: "قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ ۵۶ روپیہ کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت۔" (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 370، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

جس کے پاس قرض کے علاوہ نصاب کی مقدار مال نہ ہو وہ فقیرہے، اس پر قربانی واجب نہیں ،جیسا کہ بریقہ محمودیہ میں ہے "و كذا لمن ملك مائتي درهم فما فوقها فارغة عن حوائجه الأصلية لكنه مطالب من العباد بما يستغرق ذلك أو يبقى منه ما لا يبلغ هو أو قيمته مائتي درهم" ترجمہ: یہی حکم اس شخص کا ہے (یعنی وہ بھی فقیر ہے) جس کے پاس حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ دو سو درہم یا اس سے زیادہ مال موجود ہو۔ لیکن لوگوں کا اس پر اتنا قرض ہو جو اس کے پورے مال کو گھیرے ہوئے ہو یا قرض ادا کرنے کے بعد اتنا مال بچے جو دو سو درہم یا اس کی قیمت سے کم ہو۔ (بریقۃمحمودیۃ، ج 04، ص 70، مطبعۃ الحلبی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5414
تاریخ اجراء: 29 ربیع الاول 1448ھ / 12 ستمبر 2026ء