logo logo
AI Search

Jiska Paidaishi Khusiya Na Ho Uski Qurbani Karna Kaisa?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس جانور کا پیدائشی ایک خصیہ نہ ہو، اس کی قربانی کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا بکرا یا بیل جس کا پیدائشی ایک خصیہ نہ ہو، اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

سائل: حافظ محمد رمضان (راولپنڈی)

جواب

ایسے بکرے یا بیل کی قربانی جائز ہے کہ یہ عیب نہیں ہے، عیب وہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے جانور کی قیمت کم ہو جائے اور خصیہ کم ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت کم نہیں ہوتی، بلکہ وہ جانور جس کے خصیے کوٹ دیے گئے ہوں یا خصیے اور ذکر کاٹ کر بالکل الگ کر دیے گئے ہوں اس کی بھی قربانی جائز، بلکہ بہترہے۔

ہدایہ میں ہے:

کل ما اوجب نقصان الثمن فی عادۃ التجار فھو عیب

ہر وہ چیز جو تاجروں کی عادت میں ثمن میں کمی کا سبب بنے وہ عیب ہے۔ (ہدایہ، جلد 3، ص 42، مطبوعہ لاہور)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

و یجوز المجبوب العاجزعن الجماع

اور اس جانور کی قربانی جائزہے جس کے خصیے اور آلہ تناسل کاٹ دیے گئے ہوں، وہ جماع سے عاجز ہو۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 5، ص 367، کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا کہ بکرے دو طرح خصی کیے جاتے ہیں، ایک یہ کہ رگیں کوٹ دی جائیں، اس میں کوئی عضو کم نہیں ہوتا، دوسرے یہ کہ آلت تراش کر پھینک دی جاتی ہے، اس صورت میں ایک عضو کم ہو گیا، آیا ایسے خصی کی بھی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: جائز ہے کہ اس کی کمی سے اس جانور میں عیب نہیں آتا، بلکہ وصف بڑھ جاتا ہے کہ خصی کا گوشت بہ نسبت فحل کے زیادہ اچھا ہوتا ہے

فی الھندیۃ عن الخلاصۃ یجوز المجبوب العاجز عن الجماع

(ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ذکر کٹا جو جفتی کے قابل نہ رہا وہ قربانی میں جائز ہے)۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 458، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، ص 340، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-166
تاریخ اجراء: 16 ذو القعدۃ الحرام 1433ھ / 04 اکتوبر 2012ء