logo logo
AI Search

بچوں کی شادی نہ کی ہو تو قربانی کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اولاد کی شادی نہ کی ہو تو قربانی کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا نام مرتضی عباسی ہے، میرے الحمد للہ 3 بیٹے ہیں، 2 برسرِ روزگار ہیں، اور ابھی ان کی شادیاں نہیں کی ہیں، جبکہ چھوٹا 10 سال کا ہے، اور میں بھی نوکری کرتا ہوں، میں نے کبھی قربانی نہیں کی، لیکن اس دفعہ، ان شاء اللہ عزوجل، اپنا بکرا لے کر قربانی کا اردہ ہے، کیا میری قربانی ہو جائے گی۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر چہ آپ نے ابھی بچوں کی شادی نہیں کی، اس کے باوجود اگر آپ قربانی کریں گے، تو قربانی ہو جائے گی، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں، بلکہ اگر آپ قربانی کے دنوں میں صاحب نصاب ہیں، تو آپ پر قربانی واجب ہے، اور نہ کرنے کی صورت میں گنہگار ہوں گے، اگر قربانی نہ کی، اور قربانی کے دن چلے گئے، تو توبہ کے ساتھ ساتھ، ایک بکری کی قیمت صدقہ کرنا آپ لازم ہوگا، اسی طرح پچھلے سالوں میں سے جس سال قربانی کے دنوں میں آپ صاحب نصاب تھے، اور آپ نے اس سال قربانی نہیں کی، تو اس کا بھی یہی حکم ہے، کہ اس سے توبہ بھی لازم ہے، اور جتنے سالوں کی قربانیاں نہیں کیں، ہر سال کی طرف سے ایک بکری کی قیمت صدقہ کرنا، آپ پر لازم ہے۔ اور اگر آپ قربانی کے دنوں میں صاحب نصاب نہیں، اس کے باوجود قربانی کی نیت سے قربانی کے لیے بکرا خرید لیا ہے، تو اس صورت میں بھی آپ پر اسی بکرے کو قربان کرنا لازم و واجب ہے ۔

قربانی کے معاملے میں صاحب نصاب کون ؟

جس شخص کی ملکیت میں قربانی کے دنوں میں حاجت اصلیہ (یعنی وہ چیزیں جن کی انسان کو حاجت رہتی ہے، جیسے رہائش گاہ، خانہ داری کے وہ سامان جن کی حاجت ہو، سواری اور پہننے کے کپڑے وغیرہ ضروریاتِ زندگی) سے، اور اگر ذمے پر قرض ہو، تو اس سے زائد، دوسو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا) ہوں، یا سونا، چاندی، ہر ایک، اپنی ذات میں نصاب سے کم ہو، لیکن جتنی مقدار میں ہیں، اُن کی مجموعی قیمت، ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچتی ہو، یا ایسا کوئی سامان، یا جائیداد وغیرہ ہو، کہ تنہا اس کی، یا اس کے ساتھ دوسرے مال (رقم یا زیور وغیرہ) کو ملانے سے، اس کی قیمت (فی زمانہ) ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو ایسا شخص، نصاب کا مالک ہوتا ہے، اور اُس پر قربانی واجب ہوتی ہے۔

قربانی کے وجوب کے نصاب کے متعلق بدائع الصنائع ہے "فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه" ترجمہ: (قربانی میں) مالداری کا اعتبار ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دوسو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونا)ہوں یارہائش، خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، ان کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہو، جو اس (دوسو درہم یا بیس دینار) کی قیمت کو پہنچتی ہو۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 196، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو، وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائدہیں۔" (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 333، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

صاحب نصاب شخص نے قربانی نہ کی تو اس کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے ”وان کان لم یوجب علی نفسہ ولا اشتری وھو موسر حتی مضت أیام النحر تصدق بقیمۃ شاۃ تجوز فی الأضحیۃ‘‘ ترجمہ: اگر قربانی اپنے اوپر خود واجب نہیں کی تھی اور نہ ہی قربانی کے لیے جانور خریدا تھا اور وہ صاحب نصاب بھی تھا (اور اس نے قربانی نہیں کی) یہاں تک کہ ایام نحر گزر گئے تو اب ایک ایسی بکری کی قیمت صدقہ کرے گا جس کی قربانی جائز ہوتی ہو۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 203، مطبوعہ: کوئٹہ)

جو شخص صاحب نصاب نہ ہو، وہ قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو اُس پر خاص اُس جانور کی قربانی واجب ہو جاتی ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے "و اما الذی یجب علی الفقیر دون الغنی فالمشتری للاضحیۃ اذا کان المشتری فقیرا، بان اشتری فقیر شاۃ ینوی ان یضحی بھا" ترجمہ (قربانی کے وجوب کی کئی صورتیں ہیں) بہر حال (اُن میں سے) وہ صورت کہ فقیر پر واجب ہونہ کہ غنی پر، تو وہ قربانی کے لئے جانور خریدنا ہے جبکہ خریدنے والا فقیر ہو، یعنی شرعی فقیر قربانی کی نیت سے بکری خریدے (تو اُس پر خاص اُسی جانور کی قربانی واجب ہو جائے گی)۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 5، صفحہ 291، دارالفکر، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے "فقیر اگر بہ نیت قربانی خریدے اس پر خاص اُس جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے۔" (فتاوی رضویہ جلد 20، صفحہ 451، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو الفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5049
تاریخ اجراء: 04 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 21 مئی 2026ء