دسترخوان پر کھانا کھانا سنت ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا دسترخوان پر کھانا سنت ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا دسترخوان بچھا کر کھانا کھانا سنت ہے؟
جواب
بلا شبہ نبی محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت کریمہ زمین پر دسترخوان بچھا کر کھانا تناول فرمانا تھی، لہذا زمین پر بیٹھ کر دسترخوان پر کھانا کھانا سنت ہے اور یہ سنت مستحبہ ہے جس پر عمل بہتر و افضل ہے۔
صحیح بخاری، سنن ابن ماجہ، مسند امام احمد، مسند بزار، مشکوۃ المصابیح وغیرہ کتب حدیث میں ہے: واللفظ للاول ”عن أنس رضي الله عنه قال: ما علمت النبي صلى الله عليه وسلم أكل على سكرجة قط ولا خبز له مرقق قط ولا أكل على خوان قط. قيل لقتادة: فعلى ما كانوا يأكلون؟ قال: على السفر“ ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی چھوٹی پیالی میں کھایا ہو، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کبھی پتلی روٹی بنائی گئی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کھانے کی میز پر کھایا۔ حضرت قتادہ سے پوچھا گیا: پھر وہ حضرات کس چیز پر کھاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: دسترخوان پر۔ (صحیح البخاری، كتاب الأطعمہ، جلد 5، صفحہ 2059، حدیث 5071، دار ابن كثير، دمشق)
علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ/1606ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: ”ثم اشتهرت لما يوضع عليه الطعام جلد ا كان أو غيره ما عدا المائدة لما مر من أنها شعار المتكبرين غالبا، فالأكل عليها سنة وعلى الخوان بدعة لكنها جائزة“ ترجمہ: پھر لفظِ سُفرۃ (دسترخوان) اس شے کے لیے مشہور ہو گیا جس پر کھانا رکھا جاتا ہے، خواہ وہ چمڑے کی ہو یا کسی اور چیز کی، ما سوائے کھانے کی میز کے؛ اس وجہ سے جو پہلے گزر چکی ہے یعنی یہ کہ میز پر کھانا عموماً متکبرین کی نشانی ہے۔ پس دسترخوان پر کھانا سنت ہے، اور میز پر کھانا بدعت ہے، لیکن یہ جائز ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الأطعمة، جلد 7، صفحہ 2696، دار الفكر، بيروت)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ/1971ء) لکھتے ہیں: ”دسترخوان کپڑے کا، چمڑے کا اور کھجور کے پتوں کا ہوتا تھا۔ ان تینوں قسم کے دسترخوانوں پر کھانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا ہے، دسترخوان بھی نیچے زمین پر بچھتا تھا اور خود سرکار بھی زمین پر تشریف فرما ہوتے تھے، صحابۂ کرام علیھم الرضوان کےساتھ کھانا ملاحظہ فرماتے تھے۔ یہاں مرقاۃ نے میں فرمایا کہ میز پر کھانا بدعتِ جائزہ ہے اور دسترخوان پر کھانا سنت ہے۔“ ( مرآۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 30، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)
علامہ تقی الدین محمد بن بیر علی برکوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 981ھ/1573ء) لکھتے ہیں: ”ويستحب الأكل على السفرة“ ترجمہ: اور دسترخوان پر کھانا کھانا مستحب ہے۔ (الطريقة المحمدية و السيرة الأحمديہ، صفحہ 468، دار القلم، دمشق)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”(نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) عادت کریمہ زمین پر دسترخوان بچھا کر کھانا تناول فرمانا تھی اور یہی افضل، أخرج الإمام أحمد في كتاب الزهد عن الحسن مرسلاً، والبزّار نحوه عن ابن هريرة رضي الله تعالى عنه: كان رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم إذا أتي بطعام وضعه على الأرض، وأخرج الديلمي في مسند الفردوس عنه رضي الله تعالى عنه يرفعه إلى النبي صلى الله تعالى عليه وسلم ضعها على الحضيض، ثم قال: "إنما أنا عبد آكل كما يأكل العبد وأشرب كما يشرب العبد" وأخرج الدارمي والحاكم وصحّحه وأقرّوه عن أنس رضي الله تعالى عنه قال: قال النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: "إذا وُضع الطعام فاخلعوا نعالكم فإنه أروح لأقدامكم" وأخرجه أبو يعلى بمعناه، وزاد وهو السنة (ترجمہ: امام احمد نے کتاب الزہد میں حضرت امام حسن سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور علامہ بزار نے اس کی مثل روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جب کھانا لایا جاتا تو آپ اسے زمین پر رکھ لیتے تھے۔ اور علامہ دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مرفوع کرتے ہوئے، کہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ) اسے زمین پر رکھ دو، پھر فرمایا: "میں ایک بندہ ہوں، جیسے بندہ کھاتا ہے میں ویسے ہی کھاتا ہوں، اور جیسے بندہ پیتا ہے میں ویسے ہی پیتا ہوں۔" اور علامہ دارمی اور علامہ حاکم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، اور اسے صحیح قرار دیا اور دوسروں نے اس تصحیح کو ثابت رکھا، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب کھانا رکھا جائے تو اپنے جوتے اتار دو؛ کیونکہ ایسا کرنا تمہارے قدموں کے لیے زیادہ راحت بخش ہے۔ "اور امام ابو یعلیٰ نے بھی اسی مفہوم کے ساتھ اسے روایت کیا اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ یہی سنت ہے۔) شرعۃ الاسلام اور اس کی شرح میں ہے: "(وضع الطعام علی الارض احب الی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علی السفرۃ وھی) ای والحال ان السفرۃ (علی الارض) لاعلی شیء اخر فوق الارض(یعنی)دسترخوان پر کھانا رکھ کر کھانا آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ پسند تھا اور حالت یہ ہوتی تھی کہ دسترخوان زمین پر بچھا ہوتا تھا نہ کہ کسی اور چیز پر جو زمین کے اوپر ہو۔" عین العلم اور اس کی شرح میں ہے: (یاکل علی السفرۃ الموضوعۃ علی الارض) فھو اقرب الی ادبہ علیہ الصلوۃ والسلام وتواضعہ لمقام الانعام (فالخوان والمنخل والاشنان والشبع من البدع وان لم تکن مذمومات غیر الشبع) فانہ مذموم (ترجمہ: زمین پر بچھے ہوئے دسترخوان پر کھانا کھائے، پس یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب اور مقام نعمت کے لیے تواضع کے زیادہ قریب ہے۔ پس خوان (کھانے کی میز)، چھلنی سے چھانا ہوا آٹا، اشنان اور پیٹ بھر کر کھانا (یہ سب) بدعات میں سے ہیں، اگر چہ پیٹ بھر کر کھانے کے علاوہ باقی کام مذموم نہیں؛ اس لیے کہ (ان میں سے) پیٹ بھر کر کھانا مذموم فعل ہے )۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 629-631، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1052
تاریخ اجراء: 18 رجب المرجب 1447ھ / 8 جنوری 2026ء