logo logo
AI Search

ماں باپ کے ہاتھ پاؤں چوم سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ماں باپ کے ہاتھ پاؤں چومنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا ماں باپ کے ہاتھ پاؤں چوم سکتے ہیں؟

جواب

ماں باپ کے ہاتھ چومنا سعادت مندی، کارِ ثواب اور باعثِ برکت ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ نیکی، بھلائی اور احسان کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے، اور والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا بھی ان کے ساتھ نیکی اور بھلائی میں داخل ہے۔ فقہائے کرام نے حديثِ مبارک نقل کی کہ "جس نے اپنی والدہ کا قدم چوما، تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا" لہذا اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔

 قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔(القرآن الکریم، پارہ: 15، بنی اسرائیل: 23)

 مبسوط سرخسی میں ہے ”وقال صلى اللہ عليه وسلم: من قبل رجل أمه فكأنما قبل عتبة الجنة“ ترجمہ: آقا کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے اپنی والدہ کا قدم چوما، تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔ (المبسوط للسرخسي، جلد 10، صفحہ 149، مطبوعه: بيروت)

فتاوی رضویہ میں ہے "والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا جائز ہے۔ " (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 566، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مراٰۃ المناجیح میں ہے ”معلوم ہوا کہ بزرگوں کے قدم چومنا جائز ہیں۔ اور پابوسی کے لیے جھکنا نہ سجدہ ہے نہ ممنوع ورنہ حضور علیہ السلام انہیں منع فرمادیتے۔ خیال رہے کہ قرآن کریم، سنگ اسود، بزرگوں کے ہاتھ پاؤں، والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا ثواب بھی ہے اور باعث برکت بھی۔ بعض بزرگ تو اپنے مشائخ کے تبرّکات چومتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر چومتے تھے بوسہ کی بحث اور اُس کی قسمیں ہماری "جاء الحق وزھق الباطل" میں دیکھو۔“ (مراٰۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 76، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5143
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ/27 جون 2026ء