ناخن کاٹنے کی مقدار
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ناخن کاٹنے کی مقدار کیا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ ناخن 40 دن سے پہلے کاٹنا ضروری ہیں، تو کیا یہ پورے ناخن کاٹنا ضروری ہیں یا تھوڑے سے کاٹ لیں اور بقیہ چھوڑ سکتے ہیں؟
جواب
ناخن چھوٹے کرنے سے مراد یہ ہے کہ انگلیوں کے سروں سے جتنی مقدار ناخن بڑھ چکے ہوں، وہ ساری مقدار کاٹ دی جائے، کیونکہ اس میں میل وغیرہ بھر جاتا ہے، جس سے گھن آتی ہے۔ اور اس سے آگے مزید اس حد تک ناخن کاٹنا، کہ جس سے انگلی کو ضرر نہ پہنچے، یہ مستحب ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے "الفطرة خمس، أو خمس من الفطرة: الختان، و الاستحداد، ونتف الإبط، وتقليم الأظفار، وقص الشارب" ترجمہ: پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، موئے زیر ناف بال صاف کرنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ناخن ترشوانا اور مونچھیں کترنا۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث 5889، ص 1090، 1091، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اس حدیث پاک کے تحت فتح الباری میں ہے"والمراد إزالة ما يزيد على ما يلابس رأس الإصبع من الظفر لأن الوسخ يجتمع فيه فيستقذر"ترجمہ: اس سے مراد انگلی کے سرے سے جو ناخن بڑھ جائے، اس کو زائل کرنا ہے، اس لیے کہ اس میں میل جمع ہوجاتی ہے، جس سےگھن آتی ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، جلد10، صفحہ345، دار المعرفۃ، بیروت)
ناخن کاٹنے کی مقدارکے متعلق "حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح "میں ہے" ثم قص الأظفار هو إزالة ما يزيد على ما يلابس رأس الإصبع من الظفر بمقص أو سكين أو غيرهما۔۔۔وتستحب المبالغة في إزالة الأظفار إلى حد لا يضر بالإصبع كذا في فتح الباري" ترجمہ: ناخن تراشنے سے مراد انگلی کے سرے سے جو ناخن بڑھ جائے، اس کو قینچی یا چھری وغیرہ سے زائل کرنا ہے۔ اور ناخن کاٹنے میں اتنا مبالغہ کرنا جس سے انگلی کو ضرر نہ ہو یہ مستحب ہے اسی طرح فتح الباری میں ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، صفحہ 525، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4898
تاریخ اجراء:15 شوال المکرم 1447ھ/04 اپریل 2026 ء