شادی کارڈ پر مقدس نام لکھنا اور ان کارڈز کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شادی کارڈ پر مقدس نام لکھے ہوں تو ان کا کیا کیا جائے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر شادی کارڈز پر اللہ تعالی کا نام لکھا ہوا ہو تو اس کا کیا کریں ؟
جواب
کارڈز وغیرہ پر مقدس نام نہیں لکھنے چاہییں کہ اندیشہ بے ادبی ہے، اور ایسے شادی کارڈز جن پر اللہ تبارک و تعالیٰ یا انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام یا مقدس ہستیوں کے نام ہوں ان کو ان کو بے ادبی سے بچانے کے لئےکسی کپڑے وغیرہ میں لپیٹ کر کھلے جاری پانی میں اس طرح ڈال دیں کہ تہہ نشین ہو جائیں اور بے ادبی کا اندیشہ نہ رہے، اور کسی محفوظ مقام پر دفن کردینا زیادہ اچھا ہے، اور یہ خیال رہے کہ دفن کرنے میں ان کے اوپر مٹی نہ پڑے، اور اگریہ ممکن نہیں، تو مقدس نام جدا کرکے کہیں محفوظ مقام پررکھ دیں، یا کسی طرح صاف کردیں، اور بقیہ کارڈ کو جلا ڈالیں۔
در مختار میں ہے
”الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن“
ترجمہ: وہ کتابیں کہ جن سے نفع نہیں اٹھایا جاسکتا، تو ان سے اللہ عزوجل اور فرشتوں اور رسولوں کے ناموں کو مٹادیا جائے اور پھر بقیہ حصے کو جلا دیا جائے، اور انہیں اسی حالت پرجاری پانی میں ڈال دینے میں کوئی حرج نہیں، یا انہیں دفن کردیا جائے اور دفن کردینا زیادہ اچھا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 696، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4688
تاریخ اجراء: 07 شعبان المعظم 1447 ھ/27 جنوری 2026ء