کھانا کھاتے وقت بات کرنا کیسا؟

کھانا کھاتے ہوئے بات چیت کر سکتے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کھانا کھانے کے دوران خاموش رہنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

کھانا کھاتے ہوئے خاموش رہنا آتش پرستوں کا طریقہ ہے، لہذا ان کی مشابہت سے بچتے ہوئے کھانے کے دوران چپ رہنے کی بجائے اچھی گفتگو کرنی چاہیے، مثلاً بزرگانِ دین کے واقعات یا سنتیں اور آداب وغیرہ بیان کریں۔ البتہ اگر غیر مسلموں سے مشابہت کی کوئی نیت نہیں، بس بولنے کو جی نہیں چاہ رہا، اس لیے کوئی خاموشی کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے، تو حرج نہیں۔

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

و يكره السكوت حالة الأكل لأنه تشبه بالمجوس ويتكلم بالمعروف

ترجمہ: کھانے کے وقت خاموش رہنا مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ مجوسیوں سے مشابہت ہے، (پس کھانے کے دوران) اچھی بات کی جائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الحظر و الإباحة، جلد 6، صفحہ 340، دار الفکر، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

و لا يسكت على الطعام و لكن يتكلم بالمعروف و حكايات الصالحين، كذا في الغرائب

ترجمہ: اور کھانے پر خاموش نہیں رہا جائے گا، بلکہ اچھی باتیں اور نیک لوگوں کی حکایات بیان کی جائیں گی، اسی طرح الغرائب میں ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا و الضيافات، جلد 5، صفحہ 345، دار الفکر، بیروت)

شیخ طریقت امیر اہل سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں: کھانا کھاتے ہوئے اچھا سمجھ کر چپ رہنا آتش پرستوں کا طریقہ ہے، ہاں بولنے کو جی نہیں چاہ رہا تو حرج نہیں، یوں ہی فضول گوئی ہر حال میں نامناسب ہی ہے، لہذا کھانے کے دوران اچھی اچھی باتیں کرتے جائیے، مثلاً جب بھی گھر میں مل جل کر یا مہمانوں وغیرہ کے ساتھ کھا رہے ہوں تو کھانے پینے کی سنتیں بیان کیجئے۔ (کھانے کا اسلامی طریقہ، صفحہ 13، مکتبة المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: FAM-958

تاریخ اجراء: 02 جمادی الاولی 1447ھ / 25 اکتوبر 2025ء