کیا چھینک کا جواب دینے کے لیے کسی کو وکیل بنایا جا سکتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
چھینک کا جواب دینے پر کسی کو وکیل بنانا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
چھینک کا جواب دینے پر وکیل بنایا جاسکتا ہے؟ ایک کمرے میں دو افراد موجود تھے ایک کو چھینک آئی اور اس نے حمد کی تو، زید اسی وقت کمرے میں داخل ہونے والے کسی شخص کو وکیل بنا سکتا ہے کہ وہ زید کی جگہ یرحمک اللہ کہہ دے ؟
جواب
جی نہیں! خود جواب دینا ہوگا اور وہ بھی فی الفور ،کہ اس میں تاخیرکرنا گناہ ہے ، اگر تاخیر کی، تو توبہ بھی کرنی ہوگی۔
رد المحتار میں ہے:
”(ورد السلام وتشميت العاطس على الفور) ظاهره أنه إذا أخره لغير عذر كره تحريما ولا يرتفع الإثم بالرد بل بالتوبة“
یعنی سلام اور چھینک کا جواب فوراً واجب ہے، اس کا ظاہر یہ ہے کہ جب بلا عذر جواب میں تاخیر کی تو مکروہِ تحریمی ہوا اور جواب دینے سے گناہ ختم نہیں ہوگا بلکہ توبہ بھی کرنی ہوگی۔(در مختار مع رد المحتار،جلد9،صفحہ683،مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-2336
تاریخ اجراء:19ذوالحجۃالحرام1446ھ/16جون2025ء