بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ پانی بیٹھ کر پینا چاہئے، کھڑے ہو کر پینا منع ہے، تو کیا دودھ اور دیگر مشروبات کا بھی یہی حکم ہے، یعنی انہیں بھی کھڑے ہو کر پینا منع ہے؟
آبِ زمزم اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے، ان کے علاوہ کوئی پانی یا دودھ وغیرہ مشروبات بیٹھ کر ہی پینے چاہئیں، انہیں کھڑے ہو کر پینا منع ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ احادیث طیبہ میں پانی کی تخصیص کے بغیر مطلقاً کوئی بھی چیز کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا گیا ہے، تو یہ مطلق حکم فقط پانی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ دیگرمشروبات کو بھی شامل ہے، شارحینِ حدیث نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ پھر اِس کی تائید اُس حدیث مبارک سے بھی ہوتی ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیٹھ کر دودھ پینے کا حکم دیا۔ اس کے تحت بھی شروحات میں ذکر ہے کہ دودھ بھی بیٹھ کر پینے کے حکم میں شامل ہے، لہذا پانی کے علاوہ دیگر مشروبات، مثلاً: دودھ، شربت وغیرہ بھی بیٹھ کر ہی پئے جائیں، انہیں کھڑے ہو کر پینا منع ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت سیدنا انس و حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہماسے روایت ہے:
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن الشرب قائما
ترجمہ: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر (کچھ) پینے سے منع فرمایا۔ (صحیح المسلم، کتاب الاشربہ، جلد 2، صفحہ 173، مطبوعہ کراچی)
اسی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا يشربن أحد منكم قائما، فمن نسي فليستقئ
ترجمہ: تم میں سے کوئی کھڑے ہوکر (کچھ) ہرگز نہ پئے، پس جو بھول جائے، تو اسے چاہئے قے کر دے۔ (صحیح المسلم، کتاب الاشربہ، جلد 2، صفحہ 173، مطبوعہ کراچی)
یہ ممانعت دیگر مشروبات کو بھی شامل ہے۔ چنانچہ مراۃ المناجیح میں ہے: کوئی چیز کھڑے ہوکر پینا ممنوع ہے، پانی ہو یا دودھ یا شربت یا اور کوئی چیز، یہ حکم استحبابی ہے، یعنی بیٹھ کر پینا مستحب ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 70، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے:
ان الاصل في اللفظ المطلق ان يجري على اطلاقه ولا يجوز تقييده الا بدليل
ترجمہ: مطلق لفظ میں اصل یہ ہے کہ اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے اور بغیر کسی دلیل کے اسے مقید کرنا، جائز نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوکالۃ، جلد 6، صفحہ 27، مطبوعہ بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: اس شک نہیں کہ عام و مطلق ضرور اپنے عموم و اطلاق پر رہیں گے، جب تک دلیلِ صحیح سے تخصیص و تقیید نہ ثابت ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 30، صفحہ 74، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اصحابِ صفہ کو دودھ پلانے والے مشہور واقعہ میں ہے کہ جب حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سب اصحابِ صفہ کو دودھ پلا چکے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےانہیں پکارا اور ارشاد فرمایا:
بقيت أنا وأنت، قلت: صدقت يا رسول اللہ، قال: اقعد فاشرب فقعدت فشربت، فقال: اشرب، فشربت، فما زال يقول: اشرب، حتى قلت: لا والذي بعثك بالحق، ما أجد له مسلكا، قال: فأرني، فأعطيته القدح، فحمد اللہ وسمى و شرب الفضلة
ترجمہ: (اے ابوہریرہ!) میں اور تم باقی رہ گئے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ نے سچ کہا۔ فرمایا: بیٹھو اور پیئو، چنانچہ میں بیٹھا اور پیا، پھر فرمایا: پیئو، میں نے اور پیا، آپ بار بار فرماتے رہے: پیو، یہاں تک کہ میں نے عرض کی: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، مجھ میں اور گنجائش نہیں ہے، فرمایا: مجھے دکھاؤ، میں نے پیالہ آپ علیہ السلام کو پیش کیا، آپ علیہ السلام نے اللہ کی حمد کی، بسم اللہ پڑھی اور بقیہ دودھ نوش فرما لیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، جلد 2، صفحہ 956، مطبوعہ کراچی)
ا س حدیث پاک میں "اقعد فاشرب" کے تحت علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
فيه أن اللبن كغيره من المشروبات في استحباب الجلوس عند شربه
یعنی اس سے واضح ہوا کہ بیٹھ کر پینے کے مستحب ہونے میں دودھ کا حکم بھی دیگر مشروبات جیسا ہی ہے۔ (دلیل الفالحین، باب فضل الجوع وخشونۃ العیش، جلد 4، صفحہ 456، مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ: کن کن پانیوں کو کھڑے ہو کر پینے کا حکم ہے؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: زمز م اور وضو کا پانی شرع میں کھڑے ہو کر پینے کا حکم ہے۔ (ملفوظات اعلیٰ حضرت، صفحہ 436، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو تراب محمد علی عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: PIN-7696
تاریخ اجراء: 17 جمادی الاخری 1447ھ / 09 دسمبر 2025 ء