صرف مصافحہ کرنے سے سنت ادا ہوجائیگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سلام کے بغیر صرف مصافحہ کرنے سے سنت ادا ہو جائے گی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر سلام نہ کیا جائے بلکہ صرف مصافحہ کیا جائے، تو کیا مصافحہ کی سنت ادا ہوجائے گی یا نہیں؟ یعنی کیا مصافحہ بشرط السلام ہے یا اس کے بغیر بھی ہوجاتا ہے؟

جواب

مصافحہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دوسرے شخص کے ہاتھ کی ہتھیلی سے ملائے، یہ مصافحہ کی حقیقت ہے۔ البتہ مسنون مصافحہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ملاقات کے وقت پہلےسلام کیا جائے، اس کے بعد مصافحہ ہو، یعنی مسنون مصافحہ کے لیے اس سے پہلے سلام کا مقدم ہونا بھی شرط ہے، مطلقاًسلام کے بغیر اور سلام سے پہلے مصافحہ کرنے سے مصافحہ کی سنت ادا نہیں ہوگی۔ ہمارے یہاں جو مختلف اوقات میں بغیر سلام کے ویسے ہی ہاتھ ملانے کا رَواج ہے، تو اگرچہ یہ لغوی اعتبار سے مصافحہ ہی ہے اور فی نفسہ مباح ہے، جو اچھی نیت مثلاً: دلجوئی، اظہارِ مسرت، عاجزی کرنےوغیرہ کی نیت سے ہو، تو اس پر ثواب بھی مل سکتا ہے، مگر یہ مسنون مصافحہ نہیں ہوگا۔

مصافحہ مسنونہ کے لیے اس سے پہلے سلام کا مقدم اور شرط ہونا شارحین حدیث ا ور فقہائے کرام کی عبارات سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے:

اولاً: حدیث شریف میں مصافحہ کو سلام کی تکمیل قرار دیا گیا ہے جو کہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سلام کے ساتھ مصافحہ کرنا سنت ہوگا، بغیر سلام کے نہیں۔

ثانیاً: مصافحہ کے مسئلے میں جہاں فقہائے کرام نے یہ واضح کیا ہے کہ سنت مصافحہ یہ ہے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے ہو اور درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو،وہیں یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ملاقات کے وقت سلام کے بعد ہو۔ لہذا سلام کے بغیر، یا سلام سے پہلے مصافحہ کرنا اگرچہ اصل اعتبار سے شرعاًجائز ہوگا، لیکن مصافحہ مسنونہ نہیں کہلائے گا۔

ترتیب وار جزئیات ملاحظہ ہوں:

مصافحہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں:  مصافحہ دونوں جانب سے صفحات کف ملانا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 290، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مراۃ المناجیح میں ارشاد فرماتے ہیں:  مصافحہ بنا ہے صفح سے بمعنی کشادگی و چوڑائی اس سے دروازے کے تختوں کو صفائح الباب کہتے ہیں اور تلوار کی چوڑائی کو صفح السیف کہتے ہیں۔ مصافحہ کے معنی ہیں: ہاتھ کی چوڑائی یعنی ہتھیلی کو دوسرے کی ہتھیلی سے ملانا۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 287، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

چنانچہ جامع ترمذی کی حدیث پاک ہے:

عن ابن مسعود، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم، قال: من تمام التحية الأخذ باليد

ترجمہ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ پکڑنا (مصافحہ کرنا) تحیت (سلام) کی تکمیل سے ہے۔ (جامع ترمذی، جلد 5، صفحہ 33، رقم الحدیث 2928، دار الرسالة العالميہ)

اس حدیث کی شرح فیض القدیر اور التیسیر شرح جامع الصغیر میں ہے:

(من تمام التحية الاخذ باليد) أي اذا لقى المسلم المسلم فسلم عليه فمن تمام السلام أن يضع يده فيصافحه

ترجمہ: ہاتھ پکڑنا سلام کی تکمیل سے ہے۔یعنی جب کوئی مسلمان کسی مسلمان سے ملے اور اسے سلام کرے، تو سلام کی تکمیل یہ ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھے اور اس سے مصافحہ کرے۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 11، المكتبة التجارية الكبرى، مصر)

مصنف ابن ابی شیبہ کی حدیث پاک ہے:

عن أبي أمامة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: «‌تمام تحيتكم المصافحة»

ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری تحیت (سلام) کی تکمیل مصافحہ ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، جلد 5، صفحہ 246، مكتبة العلوم و الحكم، المدينة المنورہ)

مسند احمد، شعب الایمان کی حدیث مبارک ہے:

و اللفظ للاول: عن أبي أمامة، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: من تمام عيادة المريض أن يضع أحدكم يده على جبهته أو يده، فيسأله كيف هو؟ و تمام تحياتكم بينكم المصافحة

ترجمہ:حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ، فرمایا: مریض کی عیادت کی تکمیل یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس کی پیشانی یا اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے اور اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے؟ اور تمہارے باہمی تحیّات (سلام ) کی تکمیل مصافحہ ہے۔ (مسند احمد، جلد 36، صفحہ 572، 573، رقم الحدیث 22236، مؤسسة الرسالہ)

اس حدیث کی شرح میں شیح محقق عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لمعات التنقيح میں فرماتے ہیں:

و قوله: (و تمام تحياتكم بينكم المصافحة) يدل على أن السنة المصافحة مع السلام لا بدونه

ترجمہ: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اور تمہاری باہمی تحیّات کی تکمیل مصافحہ ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سنت تو وہ سلام کے ساتھ مصافحہ کرنا ہے، بغیر سلام کے نہیں۔ (لمعات التنقیح، جلد 8، صفحہ 47، دار النوادر، دمشق، سوريا)

مصافحہ کے مسئلے میں فقہائے کرام نے واضح کیا ہے کہ مصافحہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت سلام کے بعد ہو، چنانچہ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح اور رد المحتار علی الدر المختار میں ہے،

و اللفظ لرد المحتار: و السنة أن تكون بكلتا يديه، و بغير حائل من ثوب أو غيره و عند اللقاء بعد السلام

ترجمہ: اور سنت یہ ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہو، اور کسی کپڑے وغیرہ کے حائل ہوئے بغیر ہو اور ملاقات کے وقت سلام کے بعد ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 629، دار المعرفہ، بیروت)

بریقہ محمودیہ فی شرح طریقۃ محمدیہ میں ہے:

و في المنية أنها بكلتا يديه و في الخزانة بلا حائل كالثوب و في الشرعة عند اللقاء بعد السلام

ترجمہ: منیہ میں ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہو، اور خزانہ میں ہے کہ بغیر کسی حائل کے ہو جیسے کپڑا، اور شرعہ میں ہے کہ ملاقات کے وقت سلام کے بعد ہو۔ (بریقہ محمودیۃ فی شرح طریقۃ محمدیہ، جلد 4، صفحہ 76، مطبعة الحلبي)

نمازوں کے بعد کس صورت میں مصافحہ کرنا سنت ہوگا، اس کی صورت بیان کرتے ہوئے علامہ علی بن سلطان قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتیح میں فرماتے ہیں:

لو دخل أحد في المسجد و الناس في الصلاة أو على إرادة الشروع فيها، فبعد الفراغ لو صافحهم، لكن بشرط سبق السلام على المصافحة، فهذا من جملة المصافحة المسنونة بلا شبهة

ترجمہ: اگر کوئی مسجدمیں داخل ہوا اور لوگ نماز میں ہوں یا نماز شروع کرنےوالے ہوں، تو فارغ ہونے کے بعد اگر ان سے مصافحہ کرے بشرطیکہ مصافحہ سے پہلے سلام بھی ہو، تو بلاشبہ یہ مصافحہ مسنونہ ہی میں شامل ہوگا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2963، دار الفكر، بيروت)

مذکورہ مرقاۃ المفاتیح کی عبارت کو سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اپنے الفاظ میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: اگر ایسا نہ ہو (یعنی نماز سے پہلے ملاقات نہ ہوئی ہو) بلکہ یہی وقت (نماز کے بعد) ابتدائے لقا (ملاقات) کا ہو کہ یہ اس وقت آیا کہ نماز شروع ہوگئی تھی، یا شروع کا ارادہ تھا، اب بعد سلام مصافحہ کرے تو یہ یقیناً مصافحہ مسنونہ ہے کہ خاص اول لقا پرواقع ہوا۔(فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 635، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

آپ علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: جو لوگ بعد قیام جماعت یا شروع تکبیر آکر نماز میں شامل ہوئے کہ امام و دیگر مقتدین سے قبل نماز ملاقات نہ کرنے پائے، انہیں تو ان سے بعد سلام مصافحہ کرنا قطعاً سنت

لانھا سنۃ لانھا عند ابتداء کل لقاء و ھذا ابتداء لقائھم ھذا

(کیونکہ یہ سنت ہے، کیونکہ ہر ملاقات کی ابتدا پر مصافحہ کرنا سنت ہے اور یہ ان کی ملاقات کی ابتدا ہے) اور وہ جو بے لحاظ اس تخصیص کے مصافحہ بعد فجر و عصر یا بعد عصر و مغرب مطلقا صدہا سال سے مسلمین میں معتاد و مرسوم، اس بارے میں اصح یہی ہے کہ جائز و مباح ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 314، 315، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مرقاۃ میں ایک جگہ علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ نے ایک حدیث کی تشریح کچھ یوں کی جس سے مصافحہ کے بعد سلام مسنون ہونے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث پاک ہے:

عن قتادة قال: قلت لأنس: أكانت المصافحة في أصحاب النبي صلى اللہ عليه و سلم؟ قال: نعم

ترجمہ:حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے: فرمایا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں مصافحہ ہوا کرتا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ (صحیح البخاری، جلد 5، صفحہ 2311، رقم الحدیث 5908، مطبوعہ دمشق)

اس کی شرح میں علامہ علی بن سلطان قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں:

أي: ثابتة وموجودة فيهم حال ملاقاتهم بعد السلام زيادة للمودة و الإكرام (قال: نعم. رواه البخاري)

ترجمہ: یعنی کیا ان (صحابہ) کےدرمیان محبت اور اکرام بڑھانے کے لیے ملاقات کے وقت سلام کے بعد مصافحہ موجود تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2963، دار الفكر، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: مصافحہ مسنون یہ ہے کہ جب دو مسلمان باہم ملیں تو پہلے سلام کیا جائے اس کے بعد مصافحہ کریں۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 471، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: FAM-986

تاریخ اجراء: 03جمادی الاخری1447ھ/24 نومبر 2025ء