logo logo
AI Search

پانی تین سانسوں میں پینا سنت ہے یا تین گھونٹ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پانی کو تین سانسوں میں پینا سنت ہے

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

پانی کو تین سانسوں میں پینا سنت ہے یا تین گھونٹ میں؟

جواب

پانی تین سانس میں پیناسنت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پینے میں تین بار سانس لیتے تھے اور فرماتے تھے: اس طرح پینے میں زیادہ سیرابی ہوتی ہے اور صحت کے لئے مفید و خوش گوار ہے، اور حدیث پاک کے مطابق برتن میں سانس لینا منع ہے لہذا ہر مرتبہ گلاس کو منہ سے ہٹا کر سانس لیں۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے

كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم يتنفس في الشراب ثلاثا، و يقول: (إنه أروى و أبرأ و أمرأ)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم پینے میں تین بار سانس لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس طرح پینے میں زیادہ سیرابی ہوتی ہے اور صحت کے لیے زیادہ مفید و خوشگوار ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 805، حدیث: 2028، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لا تشربوا واحدا كشرب البعير، و لكن اشربوا مثنى و ثلاث، و سموا إذا أنتم شربتم، و احمدوا إذا أنتم رفعتم

ترجمہ: اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں پانی نہ پیا کرو، بلکہ دو یا تین بار پیا کرو، اور جب تم پینے لگو تو بسم اللہ پڑھ لو، اور جب پی چکو تو الحمدللّٰہ کہا کرو۔ (سنن الترمذی، صفحہ 719، حدیث: 1885، دار ابن کثیر)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، فرمایا:

نهى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن يتنفس في الإناء، أو ينفخ فيه

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے برتن میں سانس لینے سے اور اس میں پھونکنے سے منع فرمایا۔ (سنن ابی داود، صفحہ 590، حدیث: 3728، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4623
تاریخ اجراء: 18رجب المرجب1447ھ / 08 جنوری2026ء