logo logo
AI Search

کتنی انگلیوں سے کھانا سنت ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کھانا کتنی انگلیوں سے کھانا سنت ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کھانا کتنی انگلیوں سے کھانا سنت ہے؟

جواب

تین انگلیوں سے کھانا کھانا سنت ہے، اس کے ساتھ چوتھی یا پانچویں انگلی بلا ضرورت نہ ملائی جائے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرمایا:

”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل بثلاثة ‌أصابع ويلعق يده قبل أن يمسحها“

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تین انگلیوں سے کھانا تناول فرمایا کرتے تھے، اور ہاتھ پونچھنے سے پہلے اپنی انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ (مشکاۃ المصابیح، جلد2، صفحہ1210، المكتب الإسلامي، بيروت)

مذکورہ حدیث پاک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے

” الأکل بالثلاث سنۃ فلا یضم إلیہا الرابعۃ، والخامسۃ إلا لضرورۃ۔۔۔ و في حدیث مرسل: أنہ صلی اللہ علیہ وسلم کان إذا أکل، أکل بخمس؛ ولعلہ محمول علی المائع، أو علی القلیل النادر لبیان الجواز، فإن عادتہ في أکثر الأوقات ھو الأکل بثلاث أصابع “

ترجمہ: تین انگلیوں سے کھانا سنت ہے، اس کے ساتھ چوتھی اور پانچویں انگلی نہ ملائی جائے، مگر یہ کہ کسی ضرورت کی وجہ سے ہو۔ اور ایک مرسل حدیث پاک میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم جب کھانا کھاتے تو پانچ انگلیوں سے کھاتے؛ تو غالباً اس کو مائع (یعنی شوربہ وغیرہ) پر محمول کیا جائے گا، یا پھر یہ بہت کم اور نادر صورت تھی، بیان جواز کے لیے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی عادت زیادہ تر اوقات میں تین انگلیوں سے ہی کھانا تھی۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد7، صفحہ2694، مطبوعہ: بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4632
تاریخ اجراء: 22رجب المرجب1447ھ/12جنوری2026ء