logo logo
AI Search

روٹی سے ہاتھ صاف کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سالن والا ہاتھ روٹی کے ساتھ صاف کرنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اسلام قبول کرنے کے لئے گواہ ہونا ضروری ہے؟ گواہ کون ہونے چاہئیں؟

جواب

انگلیوں یا ہاتھ پر سالن لگ جائے، تو سنت یہ ہے کہ کھانا کھانے کے بعد دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک دھویا جائے اور اگر فوراً ہی صاف کرنے کی ضرورت ہو کہ دھونا ممکن نہ ہو، تو ٹشو وغیرہ سے صاف کر لیا جائے، الغرض! روٹی سے ہاتھ صاف نہ کیے جائیں کہ وہ رزقِ الہی ہے اور ہمیں رزق اور بالخصوص روٹی کے احترام کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ یوں ہاتھ پونچھنے میں اہانت اور بے ادبی ہے۔ اِسی لیے فقہاء کرام نے اِسے بے ادبی اور مکروہ قرار دیا، اگرچہ صاف کرنے والا بعد میں اُس روٹی کو کھا بھی لے، مگر یہ عمل اپنی جگہ مکروہ ہے۔

کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا سنت ہے، چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں:

السنة أن ‌يغسل ‌الأيدي قبل الطعام وبعده

ترجمہ: سنت یہ ہے کہ کھانے سے پہلے اور بعد میں دونوں ہاتھوں کو دھو لیا جائے۔ (بحر الرائق، جلد 08، صفحة 208، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)

محض انگلیوں کے پَورے یا انگلیاں دھو لینے سے سنت ادا نہیں ہو گی۔ صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: سنت یہ ہے کہ قبل طعام اور بعد طعام دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے جائیں، بعض لوگ صرف ایک ہاتھ یا فقط انگلیاں دھولیتے ہیں بلکہ صرف چٹکی دھونے پر کفایت کرتے ہیں اس سے سنت ادا نہیں ہوتی۔ (بھار شریعت، جلد 03، حصہ16، صفحہ 376، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

ہمیں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے روٹی کی تعظیم کا درس ملتا ہے، چنانچہ ابو عبد الله امام محمد بن ماجہ قُزوینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 273ھ/887ء) روایت نقل کرتے ہیں:

عن عائشة، قالت: دخل النبي صلى اللہ عليه وسلم البيت فرأى كسرة ‌ملقاة، فأخذها فمسحها ثم أكلها، وقال: يا عائشة! أكرمي كريمك، فإنها ما نفرت عن قوم قط فعادت إليهم۔

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مکان میں تشریف لائے۔ روٹی کا ٹکڑ اپڑا ہوا دیکھا، اُس کو لے کر پونچھا پھر تناول فرما لیا اور فرمایا: عائشہ! اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (روٹی)جب کسی قوم سے بھاگی ہے، تو لوٹ کر نہیں آئی۔(یعنی اگر ناشکری کی وجہ سے کسی قوم سے رزق چلا جاتا ہے، تو پھر واپس نہیں آتا۔)  (سنن ابن ماجۃ، جلد 04، صفحہ  451، مطبوعه دار الرسالۃ العالمیۃ )

مذکورہ بالا روایت عملی درس تھا، اب بصورتِ امر واضح فرمان پڑھیے کہ جس میں روٹی کے اکرام و احترام کا حکم دیا گیا، چنانچہ ابو عبداللہ علامہ حکیم ترمذی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 320ھ/932ء) نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: أكرموا الخبز۔ ترجمہ: اے لوگو! روٹی کا احترام کرو۔ (نوادر الاصول فی احادیث الرسول، 02/332، ط: دار الجیل، بیروت)

جب اسلام رزق یا روٹی کا ادب سکھاتا ہے، تو اُس سے ہاتھ صاف کرنا یقیناً ناپسندیدہ عمل ہے، چنانچہ علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 616ھ/1219ء) لکھتے ہیں:

من مشايخ زماننا من أفتى بكراهة مسح الإصبع والسكين بالخبز، ‌وإن ‌أكل ‌الخبز

ترجمہ: مشائخ زمانہ نے روٹی سے انگلی اور چھری پونچھنے کو مکروہ قرار دیا ہے، اگرچہ بعد میں وہ روٹی کھا لی جائے۔ (المحیط البرھانی، جلد 05، صفحہ 353، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان)

اُس سے ہاتھ صاف کرنا ناپسندیدہ اِس لیے کہ اِس عمل میں رزق کی بے ادبی ہے، چنانچہ ”احیاء علوم الدین“ اور ”اتحاف السادۃ المتقین“ کی مشترکہ عبارت ہے:

ولايمسح يده بالخبز لانه يلوثه وفيه اهانة له

ترجمہ: کھانا کھانے والا اپنے ہاتھ کو روٹی سے صاف مت کرے، کیونکہ یہ عمل روٹی کو ملوث یعنی آلودہ کرتا ہے، نیز اِس میں روٹی کی بے ادبی ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین، جلد 05، صفحہ 220، مطبوعہ مؤسسۃ التاریخ العربی، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9799
تاریخ اجراء: یکم رمضان المبارک1447ھ/19 فروری 2026