logo logo
AI Search

اخبار میں آیات کا ادب کیسے کریں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اخبار میں آیات وغیرہ ہوتی ہیں تو ان کا ادب کس طرح کریں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اخبارات میں قرآن کریم کی آیات اور احادیث و دینی باتیں بھی لکھی جاتی ہیں اور لوگ انہیں بے وضو چھوتے پڑھتے ہیں اور پڑھنے کے بعد ادھر ادھر رکھ دیتے ہیں ۔ پھر جب کچھ اخباریں جمع ہو جاتی ہیں، تو انہیں ردی میں بیچ دیتے ہیں۔ ان امور کے متعلق ضروری احتیاطوں کے بارے میں رہنمائی فرما دیجیے۔سائل: محمد احمد حسان (گلشن اقبال، کراچی)

جواب

اخبار کے صفحات میں جس جگہ قرآنی آیت یا اس کا ترجمہ لکھا ہو، تو صفحے کے اتنے حصے کو آیت و ترجمے والی جگہ سے اور صفحے کی دوسری طرف بالکل پیچھے والی جگہ سے بے وضو نہیں چھو سکتے، لیکن صفحے کے باقی حصے اور باقی اخبار کو بے وضو چھو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبار کے آیت والے صفحے پر دوسری تحریریں بھی لکھی ہوتی ہیں، صرف آیت و ترجمۂ قرآن لکھا ہوا نہیں ہوتا بلکہ صفحے کے بھی تھوڑے سے حصے ہی پر قرآن پاک کی آیت یا ترجمہ لکھا ہوتا ہے، لہٰذا صفحے کے باقی حصے اور اخبار کو بے وضو چھونا، جائز ہے کہ یہ قرآنی آیت و ترجمے کو چھونا نہیں ہے، جیسے دینی مسائل پر مشتمل کتابوں کو آیت و ترجمے والے حصے کے علاوہ جگہ سے بے وضو چھو سکتے ہیں۔ نیز اخبار ردی میں بیچنے میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس میں لکھی ہوئی آیات و احادیث، ان کے ترجمے، دینی مضامین وغیرہ مقدس تحریرات و الفاظ اور اللہ پاک، انبیاءِ کرام اور فرشتوں علیہم السلام ، صحابۂ کِرام و بزرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم کے ناموں وغیرہ کو احتیاط کے ساتھ الگ کر دیا جائے، پھر باقی اخبار کو ردی میں بیچ سکتے ہیں، جبکہ ان الگ کئے گئے حصوں کو اکٹھا کر کے کسی پاک تھیلے وغیرہ میں ڈال کر احتیاط کے ساتھ ادب والی جگہ پر رکھ دیا جائے یا زمین میں دفن یا گہرے سمندر و دریا یا بڑی نہر میں تھیلے کے ساتھ وزنی پتھر باندھ کر ٹھنڈا کر دیا جائے۔

پانی میں بہانے اور دفن کرنے کا طریقہ:

پانی میں بہانے کا طریقہ یہ ہے کہ کاغذات کے تھیلے وغیرہ میں وزنی پتھر ڈال کر انہیں اس طرح گہرے دریا یا بیچ سمندر میں ڈال دیا جائے کہ وہ پانی کی تہہ میں چلے جائیں اور باہر ایسی جگہ نہ آسکیں، جہاں ان کی بے ادبی کا خطرہ ہو۔ کم گہرے پانی میں نہ ڈالیں، کیونکہ ایسا کرنے سے وہ عُمُوماً بہہ کر کَنارے پر آجاتے ہیں، جس کی وجہ سے سخت بے ادبیاں ہوتی ہیں۔ لہٰذا پانی میں ڈالنے سے پہلے تھیلے میں چند جگہ چِیرے لگا دیں تاکہ اُس میں فورا پانی بھر کر تہہ میں چلا جائے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر زمین میں دفن کر دیا جائے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے لیے لحد (بغلی قبر) بنائیں یعنی گڑھا کھود کر قبلے کی جانِب دیوار کو اتنا کھودیں کہ سب قرآن پاک اور مقدَّس اَوراق اس دیوارکے سوراخ میں سما جائیں، تاکہ ان پر مِٹّی نہ پڑے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صندوق نما قبر کھودیں یعنی گڑھا کھود کر اس میں رکھیں اور اوپر سے تختہ لگا کر چَھت بنا کر اس چھت پر مِٹّی ڈالیں، جیسے میت کےلیے قبر بنائی جاتی ہے تا کہ ان مقدس تحریروں پر مٹی نہ پڑے، نہ ہی کسی چلنے والے کا پاؤں پڑے۔ یہ احتیاط بھی شرعا ضروری ہے کہ قرآن پاک وغیرہ مقدس اوراق کو کسی وقف قبرستان میں دفن نہ کریں، کیونکہ قبرستان مسلمان مُردوں کی تدفین کے لیے وقف ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں اوراقِ مقدسہ دفن کرنا یا اس مقصد کے لیے کنواں بنانا، جائز نہیں، کیونکہ یہ وقف کی حالت کو بدلنا ہے، جو کہ ناجائز ہے۔

قرآن پاک کے علاوہ دینی مضامین پر مشتمل کتب وغیرہ کو بے وضو چھو سکتے ہیں۔ چنانچہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”(الکتب الشرعیۃ) فانہ رخص مسھا بالید“ ترجمہ: امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے شرعی مضامین پر مشتمل کتابوں کو بے وضو چھونے کی اجازت دی ہے ۔

رد المحتار میں ہے: ”قال فی شرح المنیۃ: وجہ قولہ انہ لا یسمی ماسا بالقرآن“ ترجمہ: شرح منیہ میں ہے : امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کی وجہ یہ ہے کہ دینی کتاب کو چھونے والے کو قرآن پاک چھونے والا نہیں کہا جاتا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 1، ص 352، مطبوعہ کوئٹہ)

البتہ ان کتابوں وغیرہ میں بھی آیت و ترجمے والی جگہ کو بے وضو نہیں چھو سکتے، لیکن صفحے کے باقی حصے کو بے وضو چھونا، جائز ہے۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: ”ان کتب التفسیر لایجوز مس موضع القرآن منھا و لہ ان یمس غیرہ، و کذا کتب الفقہ اذا کان فیھا شیئ من القرآن“ ترجمہ: تفسیر کی کتابوں میں قرآن پاک لکھی ہوئی جگہ کو بے وضو شخص کا چھونا، جائز نہیں، اس کے علاوہ وہ دوسری جگہ کو چھو سکتا ہے۔ یہی حکم فقہ کی کتابوں کا ہے کہ جب ان میں قرآنِ پاک میں سے کچھ لکھا ہو (تو اس جگہ کو بے وضو نہیں چھوسکتے)۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 1، ص 353، مطبوعہ کوئٹہ)

اخبار و کتاب میں جس جگہ آیت لکھی ہو، تو بے وضو کو اس جگہ سے اور اس کے بالکل پیچھے سے صفحے کو چھونا، نا جائز ہے۔ چنانچہ اس سوال کہ ”اگر کسی اردو کتاب یا اخبار میں چند آیاتِ قرآن بھی شامل ہوں، تو اس کو بلا وضو چھونا یا پڑھنا، جائز ہے یا نہیں؟“ کے جواب میں امامِ اہلِسنّت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”کتاب یا اخبار جس جگہ آیت لکھی ہے، خاص اُس جگہ کو بلاوضوہاتھ لگانا، جائز نہیں، اُسی طرف ہاتھ لگایا جائے جس طرف آیت لکھی ہے، خواہ اس کی پشت پر، دونوں ناجائز ہیں۔ باقی ورق کے چھونے میں حرج نہیں، پڑھنا بے وضو جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 4، ص 366، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اخبار کو ردی میں فروخت کرنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جبکہ ان میں آیت یا حدیث یا اسمائے معظمہ یا مسائلِ فقہ ہوں، تو جائز نہیں، ورنہ حرج نہیں۔ ان اوراق کو دیکھ کر اشیائے مذکورہ ان میں سے علیحدہ کرلیں، پھر بیچ سکتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 400، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مقدس تحریر والی چیزوں کو دریا سمندر میں بہانے یا زمین میں دفن کرنے کے متعلق در مختار میں ہے: ’’الکتب التی لا ینتفع بھا یمحی عنھا اسم اللہ و ملائکتہ و رسلہ و یحرق الباقی، و لا باس بان تلقی فی ماءٍ جارٍ کما ھی، او تدفن، و ھو احسن‘‘ ترجمہ: وہ کتابیں جو نفع حاصل کرنے کے قابل نہ رہی ہوں، ان میں سے اللہ کریم ، فرشتوں اور رسولوں کے مقدس نام مِٹا کر بقیہ کو جلایا جا سکتا ہے اور کتابوں کو ان کی موجودہ حالت میں جاری پانی میں بہا دینے میں بھی حرج نہیں یا انہیں زمین میں دفن کر دیا جائے اور دفن کرنا سب سے بہتر ہے۔‘‘ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 9، ص 696، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قرآن مجید پرانا بوسیدہ ہو گیا، اِس قابل نہ رہا کہ اُس میں تلاوت کی جائے اور یہ اندیشہ ہے کہ اس کے اوراق منتشر ہو کر ضائع ہوں گے، توکسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کردیا جائے اور دفن کرنے میں اس کے لیے لحد بنائی جائے، تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے یا اس پر تختہ لگا کر چھت بنا کر مٹی ڈالیں کہ اس پر مٹی نہ پڑے۔ مصحف شریف بوسیدہ ہوجائے، تو اس کو جلایا نہ جائے۔ (بہار شریعت، حصہ16، ج 3، ص 495، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وقار الفتاوی میں ہے: قرآن پاک کے بوسیدہ اور پرانے اوراق اور وہ اخبارات جن پر قرآنی آیات و احادیث وغیرہ لکھی ہوئی ہوتی ہیں، ان کو جمع کرنا اور اس کے بعد ایک مقام پر دفن کردینا ۔۔۔ سب سے زیادہ مناسب ہے ۔ ملخصا (وقار الفتاوی، ج 2، ص 100، مطبوعہ بزمِ وقار الدین، کراچی)

وقف کو اس کی حالت سے بدلنا، ناجائز ہے۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”لا یجوز تغییر الوقف عن ھیاتہ“ ترجمہ: وقف کو اس کی حالت سے بدلنا، ناجائز ہے۔ (الفتاوی العالمگیریۃ ، ج2 ، ص490 ، مطبوعہ کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک وقف جس غرض (مقصد) کے لئے وقف کیا گیا ہے، اُسی پر رکھا جائے۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 231، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2933
تاریخ اجراء: 19 شوال المکرم 1447ھ / 08 اپریل 2026ء