logo logo
AI Search

مسواک کی لمبائی اور موٹائی کتنی ہو؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسواک کی لمبائی اور موٹائی کی مقدار

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مسواک خریدی ہے، تو وہ ایک بالشت سے لمبی ہے، کیا اسے ایک بالشت تک کاٹنا ضروری ہے؟ یا ایک بالشت سے زائد مسواک استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

مسواک میں افضل و مستحب یہ ہے کہ اس کی لمبائی ایک بالشت، اور موٹائی ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے برابر ہو، لہذا دریافت کی گئی صورت میں بہتر یہ ہے کہ آپ ایک بالشت سے زیادہ کو کاٹ لیں۔ در مختار میں ہے "(و) ندب إمساكه (بيمناه) وكونه لينا، مستويا بلا عقد، في غلظ الخنصر وطول شبر" ترجمہ: اور مستحب ہے مسواک کو دائیں ہاتھ سے پکڑنا، اور اس کا نرم ہونا، سیدھی، بغیر گرہ کے ہونا، موٹائی میں چھنگلیا کے برابر، اور لمبائی میں ایک بالشت کے برابر ہونا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 114، دار الفکر، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے "ينبغي أن يكون السواك من أشجار مرة؛ لأنه يطيب نكهة الفم ويشد الأسنان ويقوي المعدة وليكن رطبا في غلظ الخنصر وطول الشبر" ترجمہ: چاہیے کہ مسواک کڑوے درختوں کی لکڑی سے ہو، کیونکہ وہ منہ کی خوشبو درست کرتی ہے، دانتوں کو مضبوط کرتی ہے، اور معدے کو تقویت دیتی ہے۔ نیز مسواک تر ہو، اس کی موٹائی چھوٹی انگلی کے برابر، اور لمبائی ایک بالشت ہو۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 7، دارالفکر، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4987
تاریخ اجراء: 19 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 07 مئی 2026ء