کپڑا پہننے کی دعا کا حکم اور پڑھنے کا وقت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کپڑا پہنتے وقت کی دعا کا حکم اوراس کے پڑھنے کا وقت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کپڑے پہنتے وقت کی جو دعا ہے، وہ کب پڑھنی ہوتی ہے، اس کے پڑھنے کا کیا حکم ہے، سنت یا مستحب؟ عموما لوگ اسے سنت کہتے ہیں۔ نیز اگر غسل خانے میں کپڑے تبدیل کریں، تو اس کو کب پڑھیں، رہنمائی فرمائیں۔
جواب
احادیث مبارکہ میں لباس پہننے کے وقت جن دعاؤں کا پڑھنا ثابت ہے، انہیں کپڑے پہننے کے بعد پڑھنا چاہیے، اور اگر غسل خانہ میں کپڑے تبدیل کریں، تو وہاں یہ دعا زبان سے نہیں پڑھ سکتے، کہ ﷲ پاک کا ذکر گندی جگہ پر کرنا ممنوع ہے، وہاں سے نکلنے کے بعد پڑھ لی جائے۔۔ یہ دعائیں سنتِ زائدہ یعنی سنتِ مستحبہ ہیں۔ سنتِ مستحبہ ایسی سنت کو کہتے ہیں، جس کا حکم مستحب والا ہوتا ہے، یعنی ان پر عمل کرنے سے ثواب ملتا ہے، لیکن عمل نہ کرنے میں کوئی گناہ و کراہت نہیں ہوتی۔ لہٰذا انہیں سنت بھی کہہ دیا جاتا ہے، اور مستحب بھی۔
سنن ترمذی کی حدیث مبارک میں ہے "عن أبي سعيد قال: كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا استجد ثوبا سماه باسمه عمامة أو قميصا أو رداء، ثم يقول: اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ کَمَا كَسَوْتَنِيْهِ اَسْئَلُكَ خَيْرَهٗ وَ خَيْرَ مَا صُنِعَ لَهٗ، وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّہٖ وَ شَرِّ مَا صُنِعَ لَهٗ" ترجمہ: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اُس کا نام لیتے (مثلا یوں فرماتے) عمامہ یا قمیص یا چادر، پھر (اوپر ذکر کردہ دعا) پڑھتے۔ (سنن ترمذی، رقم الحدیث 1767، ج 4، ص 239، مطبوعہ: مصر)
دلیل الفالحین میں مذکورہ حدیث پاک کا ترجمۃ الباب یوں مذکور ہے ”باب ما يقول إذا لبس ثوباً جديداً أو نعلاً أو نحوه أي بعد تمام اللبس“ ترجمہ: باب اس دعا کے بیان میں جو آدمی نیا کپڑا، جوتا یا اس جیسی کوئی چیز پہننے کے بعد کہے یعنی پہننے کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد پڑھے۔
پھر آگے حدیث کی شرح میں مذکور ہے ”( كان رسول اللہ إذا استجد ثوبا) أي لبس ثوبا جديدا۔۔۔ (ثم يقول) بعد لبسه“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے، تو پہننے کے بعد یوں کہتے۔ (دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، جلد 05، صفحہ 292، 291، دار المعرفة، بيروت)
فتاوی رضویہ میں نیا کپڑا وغیرہ پہننے کے متعلق ہے "بسم ﷲ کہہ کر پہنے اور پہن کر پڑھے۔ الحمدللہ الذی کسانی ھذا و رزقنیہ من غیر حول منی ولاقوۃ" (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 184، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سنت کو مستحب اور مستحب کو سنت کہنے کے بارے میں امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ذکر کرتے ہیں: ”ان السنۃ ربما تطلق علی المستحب کعکسہ کما صرحوا بھما“ ترجمہ: بیشک سنت کا اطلاق کبھی مستحب پر اور مستحب کا اطلاق سنت پر ہوتا ہے جیسا کہ علمائے کرام نے ان دونوں باتوں کی تصریح فرمائی ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 05، ص 601، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”سنن الزوائد حکمھا حکم المستحب“یعنی سنن زوائد کا حکم مستحب والا ہوتا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 394، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
غسل خانہ کے ساتھ اٹیچ واش روم ہو یا نہ ہو، مطلقا غسل خانہ میں ذکر اللہ کرنا یا دعا پڑھنا ممنوع ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے ”(وسننه) كسنن الوضوء سوى الترتيب وآدابه كآدابه“ ترجمہ: غسل کی سنتیں وہی ہیں جو وضو کی سنتیں ہیں سوائے ترتیب کے اور اس کے آداب وہی ہیں جو وضو کے آداب ہیں۔
اس کے تحت رد المحتارمیں ہے ”(قوله: سوى الترتيب)۔۔۔أقول: ويستثنى الدعاء أيضا فإنه مكروه كما في نور الإيضاح۔۔۔ (قوله: وآدابه كآدابه) نص عليه في البدائع: قال الشرنبلالي: ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقا، أما كلام الناس فلكراهته حال الكشف، وأما الدعاء فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال“ ترجمہ: (صاحبِ درِ مختار کا قول: سوائے ترتیب کے) میں کہتا ہوں: دعا کو بھی اس سے مستثنیٰ کیا جائے گا، کیونکہ غسل کے دوران دعا کرنا مکروہ ہے جیسا کہ نور الایضاح میں ہے۔ (اور صاحبِ درِ مختار کا قول کہ غسل کے آداب وہی ہیں جو وضو کے آداب ہیں) اس پر بدائع الصنائع میں نص موجود ہے۔ علامہ شرنبلالی فرماتے ہیں: مستحب یہ ہے کہ (غسل کے دوران) مطلقاً کوئی کلام نہ کرے، رہا عام لوگوں کا کلام تو وہ برہنگی (ستر کھلا ہونے) کی حالت کی وجہ سے مکروہ ہے، اور رہی دعا تو اس کی ممانعت اس لیے ہے کہ غسل کا مقام مستعمل پانی کے گرنے کی جگہ ہے اور میل کچیل اور غلاظت کا محل ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 319، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5067
تاریخ اجراء: 09 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء