logo logo
AI Search

کفار کے نام والے تعویذ پر جوتے مارنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس کاغذ پر فرعون، ہامان، قارون کے نام لکھے ہوں، اسے جوتے مارنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین اس بارے میں اگر کوئی نظر بد کا تعویذ دے، جس میں تمام بڑے کافروں جیسے فرعون، ہامان، قارون کے نام، لعنت کے ساتھ لکھے ہوں، اس کو نظر بد والے کے سر پر گھما کر جوتے مار کر جلانے کا کہے، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب

دریافت کی گئی صورت میں ناموں والے تعویذ کو جوتے مارنے کی اجازت نہیں، اس لیے کہ علمائے کرام فرماتے ہیں: نفس حروف قابل ادب ہیں، حروف تہجی خود کلام اللہ ہیں کہ حضرت ھود علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئے، لہذا اگر ان حروف سے کسی کافر کا نام لکھا ہو توان حروف کی تعظیم کی جائے گی، اگرچہ ان کافروں کے نام لائق اہانت و تذلیل ہیں۔

چنانچہ رد المحتار میں ہے "نقلوا عندنا أن للحروف حرمة" ترجمہ: علما نے یہ بات نقل کی ہے کہ ہمارے نزدیک حروف کی حرمت ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 1، ص 607، مطبوعہ:کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے "إذا كتب اسم فرعون أو كتب أبو جهل على غرض يكره أن يرموا إليه؛ لأن لتلك الحروف حرمة" ترجمہ: جب فرعون یا ابو جہل کا نام کسی غرض سے لکھا جائے تو ان کو پھینکنا مکروہ ہے اس لیے کہ ان حروف کی حرمت ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 5، صفحہ 323، مطبوعہ:کوئٹہ)

سیدی امام اہلسنت، مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ نفسِ حروف قابلِ ادب ہیں اگرچہ جدا جدا لکھے ہوں جیسے تختی یا وصلی پر، خواہ ان میں کوئی برا نام لکھا ہو جیسے فرعون، ابو جہل وغیرہما تاہم حرفوں کی تعظیم کی جائے اگرچہ ان کافروں کا نام لائقِ اہانت و تذلیل ہے۔۔۔۔۔ حروفِ تہجی خود کلام اللہ ہیں کہ ہُود علیہ الصلوۃ و السلام پر نازل ہوئے۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 23، ص 336، 337، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5165
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ/29 جون 2026ء