بلی بستر پر پیشاب کردے تو پاکی اور نماز کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بلی بستر پر پیشاب کردے، تو اس کی پاکی کے متعلق احکام
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر بستر پر بلی پیشاب، پاخانہ کر دے، تو کیا وہ ناپاک ہو جائے گا، اور اس پر بیٹھنے سے بھی کیا کپڑا ناپاک ہوگا، نیز کیا اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں، اور اسے پاک کس طرح کیا جائے گا؟
جواب
بلی کا پاخانہ، پیشاب نجاست غلیظہ ہے، لہذا بستر کے جس حصہ پر لگے گا، اتنا حصہ ناپاک ہو جائے گا، یونہی اگر خاص اس جگہ بیٹھنے سے نجاست چھوٹ کر کپڑوں پر لگی، تو اتنا کپڑا ناپاک ہو جائے گا، اور اگر اس بستر پر نماز پڑھیں گے، تو اگر جس جگہ پر نماز کی حالت میں پاؤں، ہاتھ، گھٹنے، پیشانی، ناک رکھے جاتے ہیں، وہاں نجاست نہ ہو، تب تو نماز ہوجائے گی، لیکن نجاست کے قرب سے بچنا چاہیے، اور اگر قدم یا مواضع سجود ( یعنی جن اعضا پر سجدہ کیا جاتا ہے، جیسے ہاتھ، گھٹنے، پیشانی، ناک) میں سے ایک یا زائد اعضا اس نجس جگہ پر پڑیں گے، اور جو جو اعضا، نجاست کی جگہ پر پڑیں گے، ان سب کی نجاست کو ملائیں، تو ایک درہم سے زیادہ بن جائے، تو نماز نہیں ہوگی، اور اگر ایک درہم جتنی ہی نجاست بنے، تو نماز مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہوگی، اور اگر ایک درہم سے کم بنے، تو نماز ہوجائے گی، مگر بلاضرورت مکروہ ہوگی۔
اب رہا یہ کہ اس کو پاک کیسے کیا جائے؟ تو اگر نجاست دَلدار یعنی جسم والی ہو تو اسے اچھی طرح سے دھوئیں کہ نجاست کا اثر (رنگ و بو) زائل ہو جائے، جب نجاست کا اثر زائل ہوجائے گا، تو بستر پاک ہو جائے گا، اور اگر نجاست پتلی ہے، کہ خشک ہونے کے بعد اس کاجسم ابھرا ہوا نظر نہیں آتا، اور بستر ایسا ہے، جسے نچوڑنا ممکن نہیں، تو اسے دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے، یونہی دو مرتبہ اور دھوئیں، تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا، تو بستر پاک ہو جائے گا، اور اگر بستر نچوڑنے کے قابل ہے، تو تینوں مرتبہ دھو کر بقوت نچوڑیں، کہ کوئی قطرہ نہ ٹپکے، اس طرح تین مرتبہ دھو ئیں گے، تو بستر پاک ہو جائے گا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے "و بول ما لا يؤكل و الروث و أخثاء البقر و العذرة و نجو الكلب و خرء الدجاج و البط و الإوز نجس نجاسة غليظة ۔ ۔ ۔ و كذا خرء السباع و السنور و الفأرة" ترجمہ: جن جانوروں کا گوشت حلال نہیں، ان کا پیشاب، لید، گائے کا گوبر، انسانی پاخانہ، کتے کی بیٹ، مرغی، بطخ اور ہنس کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہیں۔ اسی طرح درندوں، بلی اور چوہے کی بیٹ (بھی نجاستِ غلیظہ) ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 51، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
نماز کے فساد کی صورتیں بیان کرتے ہوئے تنویر الابصار میں فرمایا ”و صلاته على مصلى مضرب نجس البطانة“ ترجمہ: ایسے سلے ہوئے مصلے پر نماز پڑھنا جس کا باطنی حصہ ناپاک ہو۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے "و إنما تفسد إذا كان النجس المانع في موضع قيامه أو جبهته أو في موضع يديه أو ركبتيه" ترجمہ: اورنماز اسی صورت میں فاسد ہوگی جبکہ کھڑے ہونے کی جگہ یا پیشانی رکھنے کی جگہ یا ہاتھ رکھنے کی جگہ یا گھٹنے رکھنے کی جگہ پر، نماز سے مانع نجاست ہو۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، ج 2، ص 467، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارشریعت میں ہے جا نماز میں ہاتھ، پاؤں، پیشانی اور ناک رکھنے کی جگہ کا نماز پڑھنے میں پاک ہونا ضروری ہے، باقی جگہ اگر نَجاست ہو نماز میں حَرَج نہیں، ہاں نماز میں نَجاست کے قرب سے بچنا چاہیے۔ (بہارشریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 404، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہارشریعت میں ہے مصلّی کے ایک پاؤں کے نیچے قدر درہم سے زیادہ نجاست ہو، نماز نہ ہوگی۔ یوہیں اگر دونوں پاؤں کے نیچے تھوڑی تھوڑی نجاست ہے کہ جمع کرنے سے ایک درم ہو جائے گی اور اگر ایک قدم کی جگہ پاک تھی اور دوسرا قدم جہاں رکھے گا، ناپاک ہے، اس نے اس پاؤں کو اٹھا کر نماز پڑھی ہوگئی، ہاں بے ضرورت ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ پيشانی پاک جگہ ہے اور ناک نجس جگہ، تو نماز ہو جائے گی کہ ناک درہم سے کم جگہ پر لگتی ہے اور بلا ضرورت یہ بھی مکروہ۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 477، 478، مکتبۃ المدینہ)
جو چیز نچوڑی نہ جا سکتی ہو، اس کے متعلق البحر الرائق میں ہے "ما لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثا و تجفيفه في كل مرة ۔ ۔ ۔ و هو أن يتركه حتى ينقطع التقاطر و لا يشترط فيه اليبس" ترجمہ: جو چیز نچوڑی نہیں جا سکتی، اس کی طہارت تین مرتبہ دھونے، اور ہر مرتبہ تجفیف سے ہوگی، تجفیف یہ ہے کہ دھونے کے بعد اسے چھوڑ دیا جائے، یہاں تک کہ قطرے ٹپکنا موقوف ہو جائیں، اور اس میں سکھانا ضروری نہیں۔ (البحر الرائق، ج 1، ص 413، مطبوعہ: کوئٹہ)
کن جانوروں کا پاخانہ، پیشاب نجاست غلیظہ ہے، اس کے متعلق بہار شریعت میں ہے حرام چوپائے جیسے کتا، شیر، لومڑی، بلّی، چوہا، گدھا، خچر، ہاتھی، سوئر کا پاخانہ، پیشاب۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 391، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
اسی میں ہے نجاست اگر دَلدار ہو (جیسے پاخانہ، گوبر، خون وغیرہ) تو دھونے میں گنتی کی کوئی شرط نہیں بلکہ اس کو دور کرنا ضروری ہے، اگر ایک بار دھونے سے دور ہو جائے تو ایک ہی مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا اور اگر چار پانچ مرتبہ دھونے سے دور ہو تو چار پانچ مرتبہ دھونا پڑے گا (3) ہاں اگر تین مرتبہ سے کم میں نَجاست دور ہو جائے تو تین بار پورا کرلینا مستحب ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر نَجاست رقیق ہو تو تین مرتبہ دھونے اور تینوں مرتبہ بقوّت نچوڑنے سے پاک ہوگا اور قوّت کے ساتھ نچوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ شخص اپنی طاقت بھر اس طرح نچوڑے کہ اگر پھر نچوڑے تو اس سے کوئی قطرہ نہ ٹپکے، اگر کپڑے کا خیال کر کے اچھی طرح نہیں نچوڑا تو پاک نہ ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے (جیسے چٹائی، برتن، جُوتا وغیرہ) اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے، یوہیں دو مرتبہ اَور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا وہ چیز پاک ہو گئی اسے ہر مرتبہ کے بعد سُوکھانا ضروری نہیں۔ یوہیں جو کپڑا اپنی نازکی کے سبب نچوڑنے کے قابل نہیں اسے بھی یوہیں پاک کیا جائے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 397 تا 399، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5064
تاریخ اجراء: 17 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 03 جون 2026ء