مرحومہ بیوی کی وراثت اور جائیداد کی تقسیم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مرحومہ بیوی کے گھریلو سامان، وراثت اور صرف رجسٹری میں نام والی جائیداد کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری زوجہ کا چند ماہ قبل وصال ہو گیا ہے، اس سے متعلق میرے چند سوالات ہیں:
(1) میری زوجہ کا کچھ مہینوں پہلے انتقال ہوگیا ہے، اس کے ورثا میں شوہر (سائل)، 2 بیٹے، 3 بیٹیاں ہیں، جبکہ مرحومہ کے والدین کا مرحومہ کی زندگی میں انتقال ہو گیا تھا۔ مرحومہ کے زیورات اور دیگر چیزوں کی وراثت مذکورہ ورثا میں کیسے تقسیم ہوگی؟
(2) میں نے سن 2001 میں ایک گھر اپنے لیے خریدا تھا اور پھر فیملی کے ساتھ اسی گھر میں رہتے ہوئے خریداری کے ایک ماہ بعد کاغذات میں بیوی کا نام لکھوا دیا تھا۔ زوجہ کے نام پر کرنے سے پہلے وہ گھر سابقہ مالک مکان کے نام پر تھا۔ میں نے وہ گھر اپنی زوجہ کی ملکیت میں نہیں کیا تھا، نہ ہی تحفہ دیا، بلکہ صرف قانونی معاملات کی وجہ سے اس کا نام لکھوایا تھا اور کبھی بھی زندگی میں مکان خالی کر کے بیوی کو قبضہ بھی نہیں دلایا تھا۔ کیا وہ شرعی اعتبار سے میری زوجہ مرحومہ کی ملکیت کہلائے گا اور اس کی وراثت میں تقسیم ہو گا؟ یا میری ہی ملکیت کہلائے گا؟
(3) میری زوجہ نے شادی کے بعد جہیز کے علاوہ اپنی زندگی میں جو کچھ گھریلو سامان خریدا اور بنایا مثلا: کچن کا سامان، بیڈ شیٹیں اور اسی طرح دیگر گھریلو ساز و سامان، یہ سب میری دی ہوئی رقم سے بنایا تھا، جو کہ میں گھر کے خرچوں جیسے بجلی کا بل، ماسی کی تنخواہ اور دیگر گھریلو اخراجات کے لئے بیوی کو دیتا تھا، یا الماری میں رکھ دیتا تھا، وہاں سے وہ حسب ضرورت خرچ کرتی تھی اور اس سے گھریلو سامان بھی خرید لیتی تھی، میں رقم یا سامان کا بیوی کو مالک نہیں بناتا تھا، صرف گھر کے خرچوں کے لیے رقم دیتا تھا، جیسے نارمل گھروں میں ہوتا ہے۔ یہ سب سامان میری ملکیت قرار پائے گا؟ یا زوجہ مرحومہ کی ملکیت قرار پائے گا؟
جواب
(1) پوچھی گئی صورت میں اگر سوال کرنے والا اپنے بیان میں سچا ہے، تو وراثت کی تقسیم سے پہلے جو کام کرنا لازم ہیں (یعنی مرحومہ کے ذمے کوئی قرض ہو، تو اسے ادا کرنے اور اس کے بعد میت کا جو ترکہ بچ جائے، اس کے تیسرے حصے تک میت کی جائز وصیت پوری کرنے)، ان سب کے بعد بچ جانے والی میت کی تمام جائیداد منقولہ (رقم، زیورات، گھریلو سامان وغیرہ) و غیر منقولہ (پلاٹ، مکان اور دکان وغیرہ) کے کُل 28 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے آپ کو 7 حصے، ہر بیٹے کو الگ الگ 6 حصے اور ہر بیٹی کو الگ الگ 3 حصے دیے جائیں گے۔
نوٹ: آپ کی زوجہ کے کفن دفن کے اخراجات آپ پر لازم ہیں، لہٰذا مرحومہ کے ترکہ سے ان اخراجات کی رقم نہیں کاٹی جائے گی، کیونکہ شوہر کے زندہ ہونے کی صورت میں بیوی کے کفن دفن کے اخراجات شوہر کے ذمے ہوتے ہیں۔ مالِ وراثت میں شوہر کے حصوں کے متعلق قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌۚ- فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں، اس میں سے تمہیں آدھا ہے، اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو، تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے، جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین (یعنی قرض) نکال کر۔ (پارہ 4، سورۃ النساء، آیت12)
اولاد کے حصے کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: ﴿یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر۔ (پارہ 4، سورۃ النساء، آیت 11)
بیٹے اور بیٹی دونوں ہوں، تو بیٹے کو بیٹی سے دگنا حصہ ملے گا۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: اگر بیٹی کے ساتھ میت کا لڑکا بھی ہو، تو بیٹی اور بیٹا دونوں عصبہ بن جائیں گے اور مال بطورِ عصوبت دونوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ بیٹے کو بہ نسبت بیٹی کے دوگنا دیا جائے گا۔ (بھارِ شریعت، حصہ 20، ج3، ص 1121، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بیوی کے کفن دفن کے اخراجات کے متعلق بہارِ شریعت میں ہے: عورت نے اگرچہ مال چھوڑا، اُس کا کفن شوہر کے ذمہ ہے بشرطیکہ موت کے وقت کوئی ایسی بات نہ پائی گئی، جس سے عورت کا نفقہ شوہر پر سے ساقط ہو۔ (بھار شریعت، حصہ 4، ج 1، ص 820، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

(2) پوچھی گئی صورت میں جب آپ نے وہ گھر اپنے لیے خریدا تھا اور اسی میں رہتے ہوئے کاغذات میں بیوی کا نام لکھوایا، لیکن گھر خالی کر کے یا اس سے اپنا قبضہ ختم کر کے (جس کے مختلف شرعی طریقے ہیں) اس پر زوجہ کو مکمل قبضہ نہیں دلایا اور وہ اس پر شرعی قبضہ کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، تو صرف کاغذی کاروائی کی وجہ سے وہ گھر آپ کی زوجہ کی ملکیت نہیں ہوا اور یہ ہبہ (گفٹ) شرعا درست نہیں ہوا، کیونکہ اپنی چیز کی دوسرے کے نام رجسٹری کروانے سے وہ اس کا مالک نہیں بنتا، جب تک کہ ہبہ (گفٹ) کے شرعی احکام کو پورا کرتے ہوئے اسے اس چیز پر مکمل قبضہ نہ دے دیا جائے، لہٰذا اس گھر کے مالک آپ ہی ہیں، اس میں مرحومہ زوجہ کی وراثت جاری نہیں ہوگی۔
جس کو گفٹ کیا جائے، اس کا مکمل قبضہ کر لینا ضروری ہے، چنانچہ تنویر الابصار و درِ مختار میں ہے: ”(تتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل ۔۔۔ و الأصل أن الموھوب إن مشغولا بملک الواھب منع تمامھا ۔۔۔ فلو وھب جرابا فیہ طعام الواھب أو دارا فیھا متاعہ أو دابۃ علیھا سرجہ و سلمھا کذلک، لا تصح، ملخصا“ ترجمہ: ہبہ مکمل قبضہ دینے سے پُورا ہوتا ہے اور اصل یہ ہے کہ ہبہ کی گئی چیز اگر ہبہ کرنے والے کی ملکیت میں مشغول ہو، تو یہ چیز ہبہ کو مکمل ہونے نہیں دے گی۔ لہٰذا اگر بوری ہبہ کی، جس میں ہبہ کرنے والے کا غلہ موجود ہو یا گھر ہبہ کیا، جس میں اس کا سامان موجود ہو یا جانور ہبہ کیا، جس پر اس کی زِین رکھی ہوئی ہو اور وہ چیز اِسی حالت میں دے دی، تو ہبہ صحیح نہیں ہوگا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 8، ص 573 ۔ 574، مطبوعہ کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے: ’’يشترط القبض قبل الموت‘‘ ترجمہ: موت سے پہلے قبضہ کرنا شرط ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 8، ص 573، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہبہ تمام ہونے کے لئے قبضہ کی بھی ضرورت ہے، بغیر اس کے ہبہ تمام نہیں ہوتا ۔۔۔ ہبہ کے لیے قبضۂ کامل کی ضرورت ہے، اگر موہوب شے (یعنی جو چیز ہبہ کی گئی ہے) واہب کی ملک کو شاغل ہو تو قبضہ کامل ہو گیا اور ہبہ تمام ہو گیا اور اُس کی ملک میں مشغول ہے تو قبضہ کامل نہیں ہوا مثلاً بوری میں واہب کا غلّہ ہے بوری ہبہ کردی اور مع غلہ کے قبضہ دیدیا یا مکان میں واہب کے سامان ہیں مکان ہبہ کردیا اور سامان کے ساتھ قبضہ دیا ہبہ تمام نہیں ہوا۔ ملخصا (بہارِ شریعت، حصہ 14، ج 03، ص 71، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صرف رجسٹری کروانے سے قبضہ مکمل نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس سوال کہ ہندہ نے اپنی بیٹی کو مکان ہبہ کیا، اس کی رجسٹری بھی بچی کے نام کروا دی، تو یہ مکان بچی کا ہوگیا یا نہیں؟ کے جواب میں امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ماں اگر اُسی مکان میں رہتی رہی اور تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنی ذات اور اپنے کُل اسباب (تمام سامان) سے بالکل خالی کر کے لڑکی کو قابض نہ کر دیا تھا، جب تو (رجسٹری کے باوجود) لڑکی کے نام وہ ہبہ ہی صحیح نہ ہوا۔ ہندہ اگر زندہ ہے، تو اپنے مکان کی وہ خود مالک ہے اور اگر مر چکی ہے، تو لڑکی اس مکان میں سے تہائی لے سکتی ہے اور اگر ہندہ نے مکان بالکل خالی کر کے پورا قبضہ لڑکی کو دے دیا تھا، وہ اس کی مالک ہو گئی۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 19، ص 390، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک شخص گھر خریدے اور خریداری کے وقت اپنی زوجہ یا اولاد میں سے کسی کا نام نہ لے اور بعد میں مکان کے کاغذات میں بیٹے کا نام لکھوا دے، تو کیا حکم ہے؟ اس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اگر لفظوں میں عَمْرو (بیٹے) کی طرف اضافت نہ تھی، اگرچہ قِبالہ (کاغذات) میں عمرو ہی کے ہاتھ بیچنا لکھا ہو، تو یہ شراء (خریداری) زید (خریدنے والے باپ) کے لئے واقع اور زید ہی اس کا مالک ہوا، اب بعد اِس کے جبکہ تحریرِ قبالہ وغیرہا کاروائیاں بنام عمرو کرائیں، تو یہ بحکم عرف شائع زید کی طرف سے عمرو کے لئے ہبہ ہوا ۔۔۔ پس اگر عمرو نے بر بِنائے ہبہ قبضۂ کاملہ پالیا تھا، تو مکان مِلکِ عمرو ہو گیا، اُس کے ورثہ پر تقسیم ہوگا، ورنہ مِلکِ زید پر باقی ہے، وارثانِ عمرو کا اس میں کچھ حق نہیں۔ ملخصا (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 216 ۔ 217، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
(3) پوچھی گئی صورت میں گھر کے خرچوں کے لیے جو رقم آپ گھر میں رکھ دیتے تھے یا اپنی زوجہ کو رقم کا مالک بنائے بغیر دیتے تھے ، تو وہ رقم آپ کی ملکیت پر باقی رہتی تھی ، زوجہ کی ملکیت نہیں ہوتی تھی، جیسا کہ عموماً مرد حضرات اپنی بیویوں کو گھر خرچ کے لیے رقم دیتے ہیں، لیکن انہیں اس رقم کا مالک نہیں بناتے، بلکہ گھریلو اور ضروری اخراجات کے لئے دیتے ہیں۔ لہٰذا اس رقم سے آپ کی زوجہ جو گھریلو سامان لائی، وہ اس کی ملکیت نہیں، بلکہ آپ کی ملکیت قرار پائے گا اور زوجہ کی وراثت میں تقسیم نہیں ہو گا۔ البتہ اگر آپ اسے ان گھریلو خرچوں کی رقم کے علاوہ کوئی پاکٹ منی بھی دیتے ہوں کہ یہ رقم تمہاری ہے، تم اسے جیسے چاہو، خرچ کرو، تو وہ رقم بیوی کی ملکیت تھی اور اگر وہ اس رقم سے کوئی سامان لائی ہو، تو وہ سامان اسی کی ملکیت شمار ہو گا اور اسی کی وراثت میں تقسیم ہو گا۔
تنویر الابصار و درِ مختار میں ہے: ”(ان اختلف الزوجان فی متاع البیت فالقول ۔۔۔ لہ فی الصالح لھما ۔۔۔ و ان مات احدھما و اختلف وارثہ مع الحی فی المشکل) الصالح لھما (فالقول للحی)، ملخصا“ ترجمہ: اگر گھر کے سامان کے متعلق شوہر و بیوی میں اختلاف ہو، تو جو چیزیں دونوں کے قابل ہوتی ہیں، ان میں مرد کا قول معتبر ہو گا اور اگر دونوں میں سے ایک فوت ہو گیا اور اس کے وارث نے ایسی چیزوں میں کہ جو دونوں کے قابل ہوتی ہیں، زندہ کے ساتھ اختلاف کیا، تو زندہ کا قول معتبر ہوگا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 8، ص 363 ۔ 365، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میاں بی بی کے مابین سامانِ خانہ داری (گھریلو سامان) میں اختلاف ہوا اور گواہ نہیں ہیں کہ شوہر کی ملک ثابت ہو یا زوجہ کی، تو ۔۔۔ وہ چیزیں جو دونوں کے کام کی ہیں جیسے لَوٹا، کَٹورا (بڑا پیالہ) اور استعمال کے دیگر ظروف (برتن)، اُن میں بھی مرد کا ہی قول معتبر ہے ۔۔۔ یہ زن و شو (بیوی اور شوہر) کا اختلاف اور اُس کا یہ حکم اُس صورت میں ہے کہ دونوں زندہ ہوں اور اگر ایک زندہ ہے اور ایک مر چکا ہے، اس کے وارث نے زندہ کے ساتھ اختلاف کیا، تو جو چیز دونوں کے کام کی ہے، اُس کے متعلق اُس کا قول معتبر ہو گا، جو زندہ ہے۔ ملخصا (بہار شریعت، حصہ 13، ج 2، ص 1044، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: زوجۂ اُولٰی (پہلی بیوی) جو جہیز لائی، وہ اس کا متروکہ (یعنی اُسی کی وراثت) ہے ۔۔۔ جو کچھ روپیہ زید (شوہر) نے زوجۂ اُولیٰ یا ثانیہ (دوسری بیوی) کو دیا، اگر تملیکاً (مالک بناتے ہوئے) دیا، اس کی مالک زوجات ہیں اور اس سے جو اسباب خریدا، انہیں کا ہے اور اگر تملیکاً نہ دیا (مالک نہیں بنایا)، گھر کے خرچ کے لئے دیا اور عورات کو حسبِ دستور اسبابِ خانگی خریدنے کی اجازت دی، تو وہ اسباب اور جتنا روپیہ بچا ہو، سب ملکِ زید ہے۔ ملخصا (فتاوی رضویہ، ج 26، ص 351، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2942
تاریخ اجراء: 10 ذو القعدہ 1447ھ / 28 اپریل 2026ء