بھتیجے اور بھتیجیوں میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ورثاء میں صرف بھتیجے بھتیجیاں ہوں تو وراثت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، وہ غیر شادی شدہ تھے، ان کے والدین، تینوں بھائیوں اور دونوں بہنوں کا ان کی زندگی ہی میں انتقال ہو گیا تھا، ان کے ورثاء میں تین بھتیجے اور پانچ بھتیجیاں ہیں، ان کا ترکہ مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟
جواب
سائل کا بیان حقیقتِ حال کے مطابق ہونے کی صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے، پھر میت کے ذمے جو قرض ہے، اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے، اس میں سے ایک تہائی جائز وصیت کی ادائیگی کے بعد) میت کی کل جائیداد منقولہ (رقم، زیورات، گھریلو سامان وغیرہ) و غیر منقولہ (پلاٹ، مکان اور دکان وغیرہ) کے کل 3 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے میت کے بھتیجوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ ملے گا۔
جبکہ میت کی بھتیجیاں محروم رہیں گی، کیونکہ بھتیجیاں ذوی الارحام میں سے ہیں، اور بھتیجے عصبہ ہیں، اور اصول یہ ہے کہ عصبہ کی موجودگی میں ذوی الارحام محروم ہوتے ہیں، تو یہاں بھتیجوں کی موجودگی میں بھتیجیاں محروم ہوں گی۔
عصبہ کے بارے میں علم میراث کی مشہور کتاب سراجی میں ہے : ’’العصبۃ کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض و عند الانفراد یحرز جمیع المال‘‘ ترجمہ : عصبہ وہ شخص ہے کہ جو اصحابِ فرائض سے بچا ہوا مال لے لے، اور اکیلا ہونے کی صورت میں سارا مال لے لے ۔ (السراجی فی المیراث، ص 3، 4، مطبوعہ، لاھور)
عصبہ کی ترتیب کے بارے میں در مختار میں ہے: ”یحوز العصبۃ بنفسہ و ھو کل ذکر لم یدخل فی نسبتہ إلی المیت أنثی ما أبقت الفرائض و عند الإنفراد یحوز جمیع المال ثم العصبات بأنفسھم أربعۃ أصناف: جزء المیت، ثم أصلہ، ثم جزء أبیہ، ثم جزء جدہ ویقدم الأقرب فالأقرب منھم بھذا الترتیب فیقدم جزء المیت کالإبن ثم ابنہ و إن سفل، ثم أصلہ الأب ثم الجد الصحیح و إن علا ثم جزء أبیہ الأخ لأبوین ثم لأب ثم ابنہ و إن سفل ثم جزء جدہ العم لأبوین ثم لأب ثم ابنہ لأبوین ثم لأب و إن سفل“۔عصبہ بنفسہ ہر وہ مرد ہے جس کی میت کی طرف نسبت کرنے میں کوئی عورت درمیان میں داخل نہ ہو، اصحاب فرائض سے جو مال بچ جائے وہ تمام کا تمام عصبہ بنفسہ لے لیتا ہے، اور اگر اصحاب فرائض نہ ہوں تو سارا مال یہی لے لیتا ہے، عصبہ بنفسہ کی چار قسمیں ہیں، جزء میت (یعنی میت کے بیٹے، پوتے، پڑپوتے نیچے تک) پھر اصل میت (یعنی کا باپ، دادا، پڑدادا اوپر تک) پھر جزء باپ (یعنی میت کے حقیقی اور باپ شریک بھائی) پھر جزء دادا (یعنی میت کے حقیقی اور علاتی چچا) اور اس ترتیب سے سب پر مقدم وہ ہو گا جو میت کا زیادہ قریبی ہے، پھر اس کے بعد جو قریبی ہو گا وہ سب پر مقدم ہوگا، تو میت کا جز جیسے بیٹا سب سے مقدم ہو گا پھر اس کا بیٹا (یعنی میت کا پوتا)، اسی طرح نیچے تک، پھر میت کا اصل یعنی باپ سب پر مقدم ہو گا پھر جد صحیح (یعنی دادا)، اگرچہ اوپر تک ہو، پھر میت کے باپ کی جزء یعنی حقیقی بھائی، پھر باپ شریک بھائی سب پر مقدم ہو گا، پھر بھائی کا بیٹا اسی طرح نیچے تک، پھر میت کے دادا کا جز یعنی چچا سب پر مقدم ہو گا پھر چچا کا حقیقی بیٹا پھر علاتی بیٹا اسی طرح نیچے اس کا بیٹا پھر بیٹے کا بیٹا۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 10، ص 549 تا 551، مطبوعہ پشاور)
تنویر الابصار و در مختار میں ذوی الارحام کے بارے میں ہے: ”(ھو کل قریب لیس بذی سھم ولا عصبۃ ولا یرث مع ذی سھم ولا عصبۃ سوی الزوجین) لعدم الرد علیھما“۔ ذوی الارحام سے مراد ہر وہ قریبی رشتہ دار ہے، جو نہ اصحاب سہام یعنی اصحاب فرائض میں سے ہو اور نہ ہی عصبہ ہو، یہ اصحاب فرائض اور عصبہ میں سے سوائے زوجین کے کسی وارث کی موجودگی میں وارث نہیں بنتے، (زوجین کی موجودگی میں وارث بنتے ہیں) اس لیے کہ زوجین کو دوسری مرتبہ نہیں دیا جاتا۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار و ردالمحتار، جلد 10، ص 576، مطبوعہ پشاور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7562
تاریخ اجراء: 13 شعبان المعظم 1446ھ / 12 فروری 2025 ء