logo logo
AI Search

12 کنال زمین ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بارہ کنال زمین ورثاء میں تقسیم کرنے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس کے والد کا انتقال اس کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا، اس کے ورثاء میں والدہ، ایک زوجہ، دو بیٹیاں اور چار بھائی ہیں۔ اس کے ترکے میں 12 کنال زمین ہے، وہ ان ورثاء میں کس طرح تقسیم ہو گی؟

جواب

سائل کا بیان حقیقتِ حال کے مطابق ہونے کی صورت میں حکم شرعی یہ ہے، کہ بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے پھر میت کے ذمے جو قرض ہے، اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے، اس میں سے ایک تہائی جائز وصیت کی ادائیگی کے بعد) میت کی کل جائیداد منقولہ (رقم، زیورات، گھریلو سامان وغیرہ) و غیر منقولہ (پلاٹ، مکان اور دکان وغیرہ) کے کل 96 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے میت کی زوجہ کو 12 حصے، اس کی والدہ کو 16 حصے، بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 32 حصے، جب کہ اس کے بھائیوں میں سے ہر ایک کو ایک حصہ ملے گا۔

مرحوم کے ترکے میں کل 12 کنال یعنی 240 مرلے زمین ہونے کی صورت میں میت کی زوجہ کو 30 مرلے، اس کی والدہ کو 40 مرلے، اس کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 80 مرلے، جب کہ اس کے بھائیوں میں سے ہر ایک کو اڑھائی اڑھائی مرلے ملیں گے۔

میت کی اولاد کی موجودگی میں زوجہ کے حصے کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے: ﴿فَاِنْ  كَانَ  لَكُمْ  وَلَدٌ  فَلَهُنَّ  الثُّمُنُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  تُوْصُوْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-﴾ ترجمۂ کنز الایمان: پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں، جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔ (پارہ: 4 سورۃ النساء: 4 آیت: 12)

بیٹیوں اور والدین کے حصوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے: ”یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ- “۔ ترجمۂ کنز الایمان: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے، پھر اگر نری لڑکیاں ہوں، اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو, پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی۔ (پارہ: 4، سورۃ النساء: 4، آیت: 11)

عصبہ کے بارے میں در مختار میں ہے: ”یحوز العصبۃ بنفسہ و ھو کل ذکر لم یدخل فی نسبتہ إلی المیت أنثی ما أبقت الفرائض و عند الإنفراد یحوز جمیع المال“۔ عصبہ بنفسہ ہر وہ مرد ہے جس کی میت کی طرف نسبت کرنے میں کوئی عورت درمیان میں داخل نہ ہو، اصحاب فرائض سے جو مال بچ جائے وہ تمام کا تمام عصبہ بنفسہ لے لیتا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار جلد 10 ص 549 تا 550 مکتبہ حقانیہ پشاور)
صورت مسئلہ اس طرح ہو گی:

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7719
تاریخ اجراء: 14 شعبان المعظم 1447ھ/03 فروری 2026 ء