logo logo
AI Search

کیا دوسری بیوی کو اولاد نہ ہونے پر وراثت ملے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دوسری بیوی سے اولاد نہ ہوتو دوسری بیوی کو وراثت میں سے حصہ ملے گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے دوسری شادی کی، دوسری زوجہ سے اُس کی اولاد نہیں ہے، ساری اولاد پہلی زوجہ ہی سے ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اُس شخص کی وفات کے بعد اُس کی پراپرٹی میں سے کیا دوسری زوجہ کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

جب کسی شخص کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس معاملے میں حکمِ شرع یہ ہے کہ میت کی وراثت تقسیم کرنے سے پہلے لازم ہونے والے حقوق کی ادائیگی کی جائے گی یعنی میت کی تجہیز و تکفین و تدفین کے اخراجات، اس کے بعد میت کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی، اس کے بعد میت نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی ترکے کی حد تک اُس کی وصیت نافذ کرنے کے بعد میت کی تمام جائیدادِ منقولہ و غیر منقولہ کا چوتھائی حصہ (4/1) اُس کی بیوہ کو دیا جائے گا جبکہ اُس میت کی اولاد موجود نہ ہو۔ البتہ اگرمیت کی اولاد موجود ہو تو اس صورت میں بیوہ کو کل جائیداد کا آٹھواں حصہ (8/1) دیا جائے گا۔ انتقال کے وقت شوہر کے نکاح میں اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو بیوی کو ملنے والا حصہ ان تمام بیویوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔

یاد رہے کہ عورت طلاقِ رجعی کی عدت میں ہو اور شوہر کا انتقال ہوجائے تو بھی عورت وراثت کی حقدار ہوگی کہ طلاقِ رجعی کی صورت میں من وجہ نکاح کے احکام باقی ہوتے ہیں۔

شوہر کی اولاد ہونے کی صورت میں قرآن پاک نے بیوی کا آٹھواں حصہ بیان کیا ہے لیکن کہیں بھی اولاد کو بیوی کی طرف منسوب نہیں کیا، شوہر کی اولاد کسی بھی بیوی سے ہو، اس سے بیویوں کے حصے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر وراثت سے محروم کیے جانے والا کوئی سبب نہ پایا جائے تو بلاشبہ شوہر کی پراپرٹی میں سے اُس کی دونوں بیویوں کو مجموعی طور پر آٹھواں حصہ (8/1) ملے گا۔ اگر ورثاء بیوہ کا حصہ نہیں دیں گے تو حق العبد میں گرفتار اور مستحقِ عذابِ نار ہوں گے۔

بیوہ کا حصہ بیان کرتے ہوئےاللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ- فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ

ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔ (القرآن الکریم: پارہ 04، سورۃ النساء، آیت 12)

ایک سے زیادہ بیویاں چوتھائی یا آٹھویں حصے میں برابر کی شریک ہوں گی، شوہر کی اولاد کسی بھی بیوی سے ہو اس سے دوسری بیوی کے حصے پر اثر نہیں پڑتا۔ جیسا کہ اِسی مذکورہ آیتِ پاک کے تحت تفسیر خازن میں ہے:

و اعلم أن الواحدة من النساء لها الربع أو الثمن و كذلك لو كن أربع زوجات فإنهن يشتركن في الربع أو الثمن و اسم الولد يطلق على الذكر و الأنثى۔ و لا فرق بين الولد و ولد الابن۔۔ في ذلك و سواء كان الولد للرجل من الزوجة أو من غيرها۔

یعنی تم جان لو کہ اگر بیوی ایک ہو تو اسے چوتھائی یا آٹھواں حصہ ملے گا اسی طرح اگر چار بیویاں ہوں تو وہ سب چوتھائی یا آٹھویں حصے میں مشترک ہوں گی۔ اولاد کا اطلاق مذکر و مؤنث دونوں پر ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپنا بیٹا ہو یا پوتا ہو۔۔، یہ سب وراثت کے معاملے میں برابر ہیں۔ خواہ مرد کی اولاد اُسی زوجہ سے ہو یا دوسری زوجہ سے ہو، بیویوں کے حصوں پر فرق نہیں پڑے گا۔ (لباب التأويل في معاني التنزيل، ج 01، ص 351،دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ آیتِ پاک کے تحت تفسیر سمرقندی میں ہے:

يعني إذا مات الزوج وترك امرأة فللمرأة الربع إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ ولا ولد ابن فَإِنْ كانَ لَكُمْ وَلَدٌ فإن كان للميت ولد وولد ابن فَلَهُنَّ الثُّمُنُ سواء كان له امرأة واحدة أو أربع نسوة فلهن الربع بغير ولد، والثمن مع الولد أو مع ولد الابن، لأنه قال: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ فجعل حصتهن الربع أو الثمن۔

یعنی اگر شوہر کا انتقال ہو جائے اور اس نے بیوی چھوڑی ہوتو بیوی کو چوتھائی حصہ (4/1) ملے گا، اگر میت کی کوئی اولاد یا پوتا نہ ہو۔لیکن اگر میت کی کوئی اولاد یا پوتا ہو تو اس صورت میں بیوی کو آٹھواں حصہ (8/1) ملے گا۔ خواہ میت کی ایک ہی بیوی ہو یا چار بیویاں ہوں۔ ان سب بیویوں کو اولاد نہ ہونے کی صورت میں مجموعی طور پر چوتھائی حصہ ملے گا اور اولاد ہونے کی صورت میں مجموعی طور پر آٹھواں حصہ ملے گا کیونکہ اللہ عزوجل نے"وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ" فرمایا ہے تو اُن بیویوں کا حصہ چوتھائی یا آٹھواں مقرر فرمایا ہے۔ (بحر العلوم، ج 01، ص 312،دار الفکر)

مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر تم مال چھوڑ کر فوت ہو جاؤ اور بیویاں چھوڑ جاؤ، تو ان کی میراث کی تفصیل یہ ہے کہ اگر تم نے کوئی اولاد بیٹا بیٹی، پوتا پوتی نہ چھوڑی ہے تو انہیں تمہارے مال سے چوتھائی ملے گا، اور اگر تم نے ان میں سے کوئی اولاد چھوڑی، خواہ اس بیوی سے، خواہ دوسری بیوی سے یا لونڈی سے تو انہیں تمہارے مال کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس طرح کہ اگر بیوی ایک ہے تو یہ اس اکیلی کا حصہ ہوگا، اور اگر چند ہیں تو یہی آٹھواں یا چہارم ان سب میں تقسیم ہو جائے گا، یہ میراث بھی تمہاری جائز وصیتوں اور ثابت قرضوں کے ادا کے بعد دی جائے گی، یہ صریح ظلم ہے کہ تم تو اپنی بیویوں کی میراث کے وارث ہو جاؤ، اور وہ تمہاری میراث سے محروم رہیں۔ (تفسیرِ نعیمی، ج 04، ص 579، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

طلاقِ رجعی کی عدت میں زوجین ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:

فإن كانت العدة من طلاق رجعي فمات أحد الزوجين قبل انقضاء العدة ورثه الآخر بلا خلاف سواء كان الطلاق في حال المرض أو في حال الصحة؛ لأن الطلاق الرجعي منه لا يزيل النكاح فكانت الزوجية بعد الطلاق قبل انقضاء العدة قائمة من وجه و النكاح القائم من كل وجه سبب لاستحقاق الإرث من الجانبين كما لو مات أحدهما قبل الطلاق، و سواء كان الطلاق بغير رضاها أو برضاها۔

یعنی عورت اگر طلاقِ رجعی کی عدت میں ہو، اور عدت ختم ہونے سے پہلے ہی میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجائے تو بغیر کسی اختلاف کے دوسرا اس کا وارث بنے گا، خواہ طلاق بیماری کی حالت میں دی گئی ہو یا حالتِ صحت میں دی ہو، کیونکہ رجعی طلاق نکاح کو ختم نہیں کرتی، اسی لیے عدت ختم ہونے سے پہلے تک میاں بیوی کا رشتہ من وجہ باقی رہتا ہے۔ جو نکاح ہر اعتبار سے قائم ہو، وہ دونوں طرف سے وراثت کا سبب بنتا ہے، یہ ایسا ہی ہوگیا جیسا کہ طلاق سے پہلے میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہوا ہو۔ خواہ عورت کی رضامندی سے شوہر نے طلاق دی ہو یا بغیر اُس کی رضا کے طلاق دی ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، ج 03، ص 218، دار الكتب العلمية، بیروت)

فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر اس کے خاوند نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی، تو اس صورت میں اس کی کل جائیداد میں سے 4 / 1 حصہ بیوی کا ہے۔ اور اگر لڑکی یا لڑکا کوئی اولاد چھوڑ کر مرا ہے تو 1/8 حصہ ہے۔۔۔ اگر خاوند کے ورثہ اس کا پورا حصہ نہیں دیں گے، تو سخت گنہگار، حق العبد میں گرفتار اور مستحقِ عذابِ نار ہوں گے۔ (فتاوٰی فیض الرسول، ج 02، ص 728، شبیر برادرز، لاھور، ملتقطاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13850
تاریخ اجراء: 02ذو الحجۃ الحرام 1446ھ/30مئی 2025ء